نواز شریف کی سزا کے بعد (ن) لیگ کا کیا ہو گا ؟ ملک میں پارلیمانی جمہوریت قائم رہ سکے گی ؟ کیا متحدہ اپوزیشن قائم ہونے جارہی ہے ؟ اس کی قیادت کون کریگا ؟ چونکا دینے والا تجزیہ

لاہور۔ نواز شریف کے خلاف فیصلے کے بعد آئندہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہونگے ؟ اس سوال پر تجزیہ نگاروں ‘ سیاسی مبصرین اور سینئر سیاستدانوں نے تجزیے اور تبصرے شروع کر دئیے ہیں ‘ خیال کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کو اگر مد نظر رکھا جائے تو ماضی میں سزا پانے والے ہر لیڈر اور سیاسی جماعت کو عوام پذیر ائی دیتی رہی ہے اور اس جماعت کی عوام میں مزید جڑیں مضبوط ہوئی ہیں ‘ اس کی سب سے بڑی مثال پیپلز پارٹی کے بانی مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی ہے ‘ جن کی پارٹی آج بھی آصف علی زرداری کی بد ترین بد نامی کے باوجود سندھ میں نا صرف حکمران جماعت ہے ‘ بلکہ حالیہ انتخابات کے بعد بھی پیپلز پارٹی بھی قومی اسمبلی کی صورت میں ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ہے ‘ سیاسی حلقوں کے مطابق آئندہ اگر شہباز شریف کو بھی سزا دی گئی تو مریم نواز اور حمزہ شہباز پر منحصر ہو گا کہ وہ پارٹی کو کیسے چلاتے ہیں ؟ جبکہ دوسری طرف آصف علی زرداری کی گرفتاری کی صورت میں اگر متحدہ اپوزیشن آلائنس قائم ہوا تو اس سے حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا اور پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) ‘ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں مضبوط اپوزیشن جماعتیں ثابت ہو سکیں گی ‘ تاہم بعض حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ تحریک انصاف ہر حال میں ملک کی سیاست سے کرپشن کا خاتمہ چاہتی ہے ‘ لیکن جاری طرز عمل کے باعث با لا آخر وزیراعظم عمران خان کو ملک میں صدارتی نظام کی طرف پیش قدمی کرنا پڑے گی ‘ جس حوالے سے قبل ازیں ہی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت آن دی ریکارڈ اشارے دے رہی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں