موٹر وے زیادتی کیس‘ سی سی پی او لاہور کے اہم انکشافات سامنے آگئے‘ جان کر ہر کوئی غصے سے لال پیلا ہو جائیگا!

اسلام آباد(مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام)سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق میں موٹروے زیادتی کیس سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے انکشاف کیا ہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ٹول پلازے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں،ٹول ٹیکس کی رسید پر ٹائم بھی درج نہیں ہوتا،مرکزی ملزم عابد ملہی 2013میں ریپ کیس میں ڈی این اے ثبوت ہونے کے باوجود بری ہوا،عدالت نے متاثرہ ماں بیٹی کے مکرنے پر عابد ملہی کو رہا کردیا،موٹروے زیادتی کیس میں بھی ڈی این اے میچ کرنے کے بعد بھی ہم پر تلوار لٹک رہی تھی اگر متاثرہ خاتون نے ملزمان کو پہچاننے سے انکار کر دیا تو کیا ہو گا؟

قانون شہادت میں ترمیم ہونی چاہیے اورسائنسی شواہد کی روشنی میں کیس آگے بڑھنے چاہییں۔ آئی این پی کے مطابق بریفنگ کے دروان سی سی پی او لاہور مرکزی ملزم عابد ملہی کو بابر ملک بولتے رہے۔کمیٹی رکن سینیٹر عینی مری نے کہا کہ مرکزی ملزم عابد ہے یا بابر ملک؟آپکو مرکزی ملزم کے نام کا نہیں پتہ۔سی سی پی او لاہور نے ایک بار پھر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں ہاتھ جوڈ کر معافی مانگتا ہوں، میں معافیاں مانگ مانگ کر تھک گیا ہوں،مجھے ایک ہی بار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کھڑا کر دیں تاکہ میں ایک دفعہ ہی سینیٹرز اور ایم این ایز سے معافی مانگ لوں۔ سی سی پی او نے کہا کہ جب میں 2018میں ڈی آئی جی موٹروے پولیس تھا توآئی جی موٹر وے کیساتھ وزیر اعظم ہاؤس میں اجلاس کے دوران نئی موٹرویز پر پیٹرولنگ کیلئے نفری اور گاڑیوں کا مطالبہ کیا تھا،مگر ہمارے مطالبے کے باوجوداس پر پیش رفت نہیں ہو سکی،کمیٹی اس اجلاس کے مینٹس منگوا سکتی ہے۔کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں چیئرمین این ایچ اے، سیکرٹری مواصلات، آئی جی موٹر وے اورمرکزی ملزم عابد ملہی کے 2013 کے کیسز کی تفصیلات طلب کر لیں

۔ پیرکوفنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤ س میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی ارکان کے علاوہ جوائنٹ سیکرٹری وزارت انسانی حقوق، چیئرپرسن این سی ایچ آر سی، چیئرمین آئی ایچ آر اے،سی سی پی او لاہورعمر شیخ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں لاہور موٹروے زیادتی کیس کے حوالے سے سی سی پی او لاہور نے تفصیلی بریفنگ دی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں سی سی پی او لاہور کو طلب کیا تھا ان کی عدم شرکت کی وجہ سے کمیٹی نے سخت ایکشن لیتے ہوئے سمن جاری کیے تھے اس سانحہ کی وجہ سے پورا ملک دکھ اور غم کی حالت میں ہے۔ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے متعلقہ جگہ کا دورہ کرتے ہوئے تفصیلی آگاہی حاصل کی ہے۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے کمیٹی کو بتایا کہ چیف جسٹس نے بلایا ہوا تھا اس لئے کمیٹی اجلاس میں نہیں آ سکا۔ کمیٹی کو بریفنگ کیلئے اپنی بہترین ٹیم بھیجی تھی،

ہماری بہنوں بیٹیوں کی بے حرمتی اس طرح نہیں ہونی چاہئے،یہ واقعہ ہماری حدود میں ہوا اس لئے ہم زمہ دار ہیں، بچیوں اور بیٹیوں کے معاملہ انتہائی حساس ہوتا ہے۔مصطفی نواز کھوکھرنے کہا کہ خواتین کے معاملے پر معاشرے کے ہر فرد کو حساس ہونے کی ضرورت ہے،خواتین کے معاملے پر آپ کو حساس ہونا چاہئے۔ سی سی پی او لاہور نے کہا کہ یہ واقعہ 9 ستمبر کو پیش آیا،متاثرہ خاتون نے رات ایک بجے کر 30 منٹ پر سفر شروع کیا۔ مجھے بتایا گیا کہ خاوند کی اجازت کے بغیر خاتون لاہور آئی تھی اور خاوند کے ڈر کی وجہ سے واپس گھر جا رہی تھی، لاہور سے اس جگہ تک چار اتھارٹیز آتی ہیں جہاں چار مختلف ہیلپ لائنز ہیں۔سی سی پی او نے انکشاف کیا کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے ٹول پلازہ پر نہ سی سی ٹی وی فوٹیج ہے نہ ہی پرچی پر ٹائم لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ یہ اطلاع ون فائیو پر ہونی چاہئے تھی،اگر ون فائیو پر کال ہوتی تو ہم اس جگہ پر 25منٹ پر پہنچ سکتے تھے۔ 2 بجکر 53 منٹ پر ڈولفن اہلکار پہنچ گئے تھے۔ دنیا بھر کی طرح ملک بھر میں بھی ایک ہیلپ لائن نمبر ہونا چاہیے۔سی سی پی او نے کہا کہ ہم نے 72گھنٹے میں ملزمان کی نشاندہی کر لی تھی۔ہمیں کریڈٹ نہیں چاہیے،ڈی این اے پرفائلنگ سے ٹارگٹ تک پہنچے۔اس موقع پر سی سی پی او لاہور مرکزی ملزم عابد کی بجائے کمیٹی اجلاس میں بابر ملک بولتے رہے۔

سینیٹر عینی مری نے کہا کہ مرکزی ملزم عابد ہے یا بابر ملک؟آپکو مرکزی ملزم کے نام کا نہیں پتہ۔سی سی پی او لاہور نے ایک بار پھر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں ہاتھ جوڈ کر معافی مانگتا ہوں، میں معافیاں مانگ مانگ کر تھک گیا ہوں،مجھے ایک ہی بار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کھڑا کر دیں تاکہ میں ایک دفعہ ہی سینیٹرز اور ایم این ایز سے معافی مانگ لوں،میری عمر51برس ہے،میری یاداشت کا انداز ہ اپ اسی سے لگا لیں۔انہوں نے کہا کہ عابد اورشفقت کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے۔عابد ملہی عادی مجرم ہے،اس نے2013میں بھی ماں بیٹی کیساتھ ریپ کیا تھا،اس کیس میں بھی عابد ملہی کا ڈی این اے میچ کر چکا تھا،لیکن گواہ کے مکرنے کی وجہ سے عابد ملہی رہا ہو گیا،میں عدالتی نظام پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا،میری درخواست ہے کہ قانون شہادت میں ترمیم ہونی چاہیے، میری خواہش ہے کہ پولیس میں کورٹ مارشل لانا چاہیے،سائنسی شواہد کی روشنی میں کیس آگے بڑھائیں گے۔اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے حیرانگی کا اظہار کیا کہ اگر مجرم کو2013میں سزا مل چکی ہوتی تو یہ افسوسناک واقعہ نا ہوتا،میں اس کیس کا فیصلہ بھی دیکھ لوں گا،ہمیں قانون شہادت میں بھی ترمیم کرنا پڑے گی۔سی سی پی او لاہور نے کہا کہ موٹروے زیادتی کیس میں بھی ڈی این اے میچ کرنے کے بعد بھی ہم پر تلوار لٹک رہی تھی اگر متاثرہ خاتون نے ملزمان کو پہچاننے سے انکار کر دیا تو کیا ہو گا،ہم نے اٹارنی جنرل پنجاب سے اس کیس کیلئے بہترین وکلاء فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موٹر وے زیادتی کیس میں پانچ ٹیکنالوجیز کو استعمال کیا گیا،موٹر وے کیس میں جیوفنسنگ۔فوٹریکر، ڈی این اے فائلنگ اور فنگر پرنٹس ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ اس موقع پرسینیٹر عینی مری نے کہا کہپولیس بیان میں تضاد ہے،ذیلی کمیٹی کو لاہور میں جو بریفنگ دی گئی اس مین بتایا گیا کہ پولیس 6منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچی،اب سی سی پی او صاحب کہہ رہے ہیں کہ پولیس28منٹ بعد پہنچی،پولیس نے کمیٹی کو مس گائیڈ کرنے کی کوشش کی۔جس پر سی سی پی او نے کہا کہ6منٹ میں تو امریکہ کی پولیس بھی نہیں آتی،ایک اور دھماکہ نہ ہو جائے میں کچھ بولوں،چیف جسٹس کو سب کچھ بتا چکا ہوں کہ اس وقعہ کا ذمہ دار کون ہے۔ سی سی پی او نے کہا کہ جب میں 2018میں ڈی آئی جی موٹروے پولیس تھا تو آئی جی موٹر وے کے ساتھ متعلقہ حکام سے ملاقات کہ نئے روڈ کیلئے عملہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا،یہ اجلاس میں وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا تھا اپ اس اجلاس کے مینٹس منگوا سکتے ہیں، مگر ہمارے مطالبے کے باوجوداس پر پیش رفت نہیں ہو سکی۔ نئی موٹرویز توکھل گئیں مگر سٹاف اور دیگر متعلقہ ایکوپمنٹ فراہم نہیں کئے گئے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہتریہی ہے کہ آئندہ اجلاس میں چیئرمین این ایچ اے، سیکرٹری مواصلات، آئی جی موٹر وے کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کریں اور ملزم عابد علی کے 2013 کے کیسز کی تفصیلات بھی طلب کر لی گئیں۔فنکشنل کمیٹی اجلاس میں بچوں کے حقوق کے قومی تحفظ کے کمیشن کی کارکردگی، بجٹ اور کام کے طریقہ کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔چیئرپرسن کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ 28 فروری 2020 کو کمیشن بنا مگر کمیشن کے چیئرمین و افسران کیلئے نہ ہی دفتر آئے، نہ بجٹ اور دیگر وسائل ہیں جن کی بدولت بچوں کے تحفظ کیلئے کام کیا جا سکے۔

جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کیلئے انتہائی شرمندگی کا باعث ہے کہ ادارے بنا لئے گئے مگر ان کو آزاد کام کرنے کی بجائے غیر فعال رکھا جا رہا ہے نہ بجٹ فراہم کیا جاتا ہے نہ ہی متعلقہ سٹاف۔ملک میں بچوں کے حقوق کی حق تلفی اور ذیادتی کے کیسز میں روز بروز اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے جوائنٹ سیکرٹری وزارت انسانی حقوق کی جانب سے دی گئی بریفنگ کو مسترد کر دیا اور کہا کہ حکومت آزاد کمیشن کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے،آئندہ اجلاس میں متعلقہ وزیر کمیٹی کو بتائیں کہ اس کمیشن کی راہ میں کیوں روکاٹیں ڈالی جا رہی ہیں اور انہیں فنڈز و دیگر سہولیات کیوں فراہم نہیں کی جا رہی۔

Sahafe.com.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں