منی لانڈرنگ کیس‘شہباز شریف کی ضمانت مسترد، نیب نے احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا!

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک‘ویب ڈیسک‘صحافی ڈاٹ کام)لاہور ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں سابق وزیراعلی پنجاب اور مسلم لیگ(ن)کے صدر شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی، جس کے بعد قومی احتساب بیورو(نیب)نے انہیں احاطہ عدالت سے ہی گرفتار کرلیا۔صباح نیوز کے مطابق پیر کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم اور جسٹس فاروق حیدر نے شہباز شریف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی، دوران سماعت مسلم لیگ(ن)کے صدر کی طرف سے ان کے وکلا امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ پیش ہوئے جبکہ قومی احتساب بیورو(نیب)کی طرف سے فیصل بخاری اور عثمان راشد چیمہ دلائل کے لیے موجود تھے۔اس کے علاوہ عدالت میں شہباز شریف خود بھی ذاتی حیثیت میں موجود تھے جبکہ ان کے علاوہ مسلم لیگ(ن)کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔سماعت کا آغاز ہوا تو شہباز شریف کے وکلا نے اپنے دلائل دینے کا سلسلہ جاری رکھا اور سابق وزیراعلی کی کارکردگی سے متعلق شائع شدہ رپورٹ عدالت میں پیش کی۔شہبازشریف کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ تمام آمدن پر ٹیکس ادا کیا اور ان کا آڈٹ بھی کروایا، نیب 20 سال بعد ٹیکس ریٹرن کو نہیں مان رہا، 26 کروڑ روپے کا فرق نیب نکال نہیں سکتا اس لیے آمدن نہیں مانتا۔شہباز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ان کے موکل نے آج تک کوئی ٹی اے ڈی اے یا سیلری نہیں لی، اورنج لائن ٹرین میں بھی شہباز شریف نے 81 ارب روپے بچائے، اس کے علاوہ ٹیکسی پراجیکٹ میں مسلم لیگ(ن)کے صدر نے 40 کروڑ روپے کی خالص بچت کی۔وکیل کے مطابق شہباز شریف نے سیف سٹی کیمروں کے منصوبے میں قوم کے 4 ارب روپے بچائے۔ساتھ ہی انہوں نے یہ موقف اپنایا کہ مذکورہ معاملے پر ریفرنس دائر ہوچکا ہے، اس اسٹیج پر گرفتاری نہیں بنتی، مذکورہ معاملے میں نیب کی بدنیتی ہر جگہ نظر آرہی ہے۔عدالت میں وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل نے مجموعی طور پر ایک ہزار ارب روپے سے زائد کی قوم بچائی ہے لہذا ان پر نیب کے کیسز بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔اس موقع پر ان سے پوچھا گیا کہ کیا احتساب عدالت میں شہباز شریف پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ریفرنس کی کاپیاں فراہم ہوچکی ہیں، فرد جرم عائد ہونے والی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات آنے والے ہیں، حکومت تو چاہتی ہے کہ شہباز شریف جیل جائیں۔دوران سماعت شہبازشریف اپنا موقف پیش کرنے خود روسٹرم پر آئے اور کہا کہ 12 سال ٹیکس ادا کرنے کے باوجود ضمانت میں توسیع کیلئے عدالت کے سامنے کھڑا ہوں، کسی کمپنی سے ایک دھیلا میرے اکاؤنٹ میں نہیں آیا، اگرایک دھیلا بھی آیا ہو تو میں اپنی درخواست ضمانت واپس لے لوں گا۔انہوں نے کہا کہ میں نے دھیلے کی کرپشن نہیں کی، میں نے کہا کہ وفاقی حکومت سبسڈی دے تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ جسٹس سردار احمد نعیم نے ریمارکس دئیے کہ آپ کے وکیل نے دلائل دینے ہیں، کچھ رہ جائے تو آپ بتائیے گا۔جس پر شہباز شریف کے وکیل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل پہلے ہی احتساب عدالت میں 2 ریفرنسز کا سامنا کر رہے ہیں۔اس موقع پر وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ان کے موکل کے بچے ان کے زیر کفالت نہیں ہیں، سپریم کورٹ نے زیر کفالت ہونے کے معاملے میں پاناما کیس میں تشریح کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی اہلیہ 2004 سے فائلر ہیں جبکہ سلمان شہباز اور حمزہ شہباز 1996 سے اور بیٹیاں جویریہ اور رابعہ بھی 2007سے فائلر ہیں۔امجد پرویز کے مطابق نیب کے منی لانڈرنگ کے 58 والیمز میں شہباز شریف کے خلاف ایک بھی دستاویزی ثبوت نہیں ہے جبکہ ایف بی آر، ایس ای سی پی، ریونیو سمیت کسی ادارے کے ریکارڈ کے مطابق شہباز شریف بے نامی دار نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک شخص کا بھی 161کا بیان صفحہ مثل پر موجود نہیں ہے، منی لانڈرنگ ریفرنس میں نیب نے 4 وعدہ معاف گواہ بنائے ہیں تاہم کسی ایک نے بھی شہباز شریف کے خلاف بیان نہیں دیا۔بعد ازاں شہباز شریف کے وکلا نے اپنے دلائل کو مکمل کیا جبکہ اس کے جواب میں نیب کی جانب سے بھی دلائل دئیے گئے۔جس کے بعد عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی درخواست ضمانت کو مسترد کردیا، جس پر نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا۔شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد عدالت کے باہر موجود لیگی کارکنان نے نیب اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی جبکہ اس موقع پر لیگی کارکنوں اور پولیس میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔گرفتاری کے بعد میڈیا نمائندگان نے شہبازشریف سے بات چیت کی کوشش کی لیکن اپوزیشن لیڈر نے اس موقع پر کوئی بات نہیں کی۔نیب حکام شہبازشریف کو لے کر ٹھوکر نیاز بیگ کے دفتر روانہ ہوگئے اور آج (منگل کو) انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں