مقبوضہ وادی میں کرفیو کا ساتواں روز، کھانے پینے کی اشیا،ادویات ختم،عوام بے حال‘بچے بھی بلبلا اٹھے‘مظاہروں میں درجنوں زخمی

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک‘ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام)مقبوضہ وادی میں کرفیو اور لاک ڈاؤن کا ساتواں روز ہے جس کے سبب گھروں میں کھانے پینے کی اشیا ختم اور ادویات ہونے لگیں، عید کے موقع پر بھی غاصب فوج نے عوام پر پابندیاں لگا رکھی ہیں،وادی میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری،وادی میں گنجائش نہ رہنے کے باعث مزید سینکڑوں حریت پسند بھارت منتقل،5اگست کے بعد کنٹرول لائن پر سکون کسی طرف سے سیز فائر کی خلاف ورزی کی کوئی اطلاع نہیں ملی، کشمیری عوام میں بھارتی اقدامات پر غم وغصہ بڑھنے لگا،مظاہروں میں درجنوں زخمی۔تفصیلات کے مطابق مظلوم کشمیریوں پر ایک ایک لمحہ بھاری گزرنے لگا، گھروں میں بھوک اور پیاس، بچوں کی آہ وبکا، ادویات کی قلت ہو گئی۔ مقبوضہ وادی میں کرفیو کا ساتواں روز ہے۔ ریاست کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے، عوام غیر آئینی بھارتی اقدام پر غضبناک ہیں، مقبوضہ وادی کی فضا میں “بھارت واپس جاؤ، بھارتی آئین نامنظور” کے نعرے گونجنے لگے، قابض بھارتی فوج نے فائرنگ اور پیلٹ گنز کا استعمال کیا جس میں درجنوں زخمی ہوئے۔ متاثرہ اضلاع میں گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔بھارتی فورسز کی جانب سے گرفتاریوں کے باعث تھانے،جیلیں اور عارضی عقوبت خانے بھر گئے ہیں،وادی میں گنجائش ختم ہونے کے بعد سینکڑوں حریت پسند کارکنان کو بھارت کے مختلف شہروں میں منتقل کئے جانے کی اطلاعات ہیں،دو روز قبل حریت قائدین کو آگرہ منتقل کیا گیا تھا۔دوسری جانب بھارتی پولیس حالات ٹھیک ہیں کا جھوٹا پراپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے، بھارتی اقدامات کے باعث مقبوضہ وادی میں خوراک اور ادویات کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ ٹی وی، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے علاقے کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے نے مقبوضہ وادی میں اٹھنے والی آزادی کی نئی لہر دنیا کے سامنے پیش کردی، کشمیری کرفیو توڑ کر گھروں سے باہر نکل آئے ہیں اور مقبوضہ وادی آزادی کے نعروں سے گونج رہی ہے۔گولیوں کی تڑتڑاہٹ بھی مودی سرکار کے غاصبانہ اقدام پر صدائے احتجاج دبانے میں ناکام ہے، جانباز کشمیری جان ہتھیلی پر رکھ کر پاکستانی پرچم تھامے مسلح قابض فوج کے سامنے ہندوستان مخالف نعرے لگاتے رہے۔ آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ کی بھرمار نے کشمیریوں کی ہمت اور حوصلہ پست کرنے کی بجائے مزید بڑھا دیا۔بی بی سی کی رپورٹ میں مقبوضہ وادی آزادی کے متوالوں کے فلک شگاف نعروں سے گونجتی نظرآرہی ہے۔ کشمیریوں کی زبانی بھارتی آئین کی حیثیت جان کر بھی عالمی برادری کا آنکھیں بند رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ اللہ اکبر اور آزادی کے نعرے لگاتے کشمیری چیخ چیخ کر بھارت کی بدنیتی دنیا کو بیان کر رہے ہیں۔جنت نظیر وادی میں ظلم کرنے والے بھارتی فورسز کے اہلکار سڑکوں پر دندناتے پھررہے ہیں لیکن آزادی کے متوالے اب کسی ظلم کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سری نگر کے علاقے صورہ میں کشمیری باشندوں نے ریلیاں نکالیں اور صورہ میں جمع ہوگئے جہاں گرفتاریاں بھی ہوئیں بھارتی فوجیوں نے سیدھی فائرنگ کی جب کہ پیلیٹ گن کا بھی استعمال کیا جس سے متعدد کشمیری باشندے زخمی ہوگئے جب کہ متعدد کے شہید ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا جہاں ان میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے۔ ایک بھارتی صحافی کے مطابق سری نگر کے صرف ایک اسپتال میں پیلیٹ گن سے زخمی ہونے والے 21 افراد لائے گئے ہیں دیگر اسپتالوں کے اعداد و شمار علیحدہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں