مسلم لیگ ن کاآزادکشمیرالیکشن میں پری پول دھاندلی کا الزام، تحریک چلانیکااعلان

مظفر آباد(مانیٹرنگ نیوز‘ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام)مسلم لیگ (ن)نے آزاد کشمیر الیکشن میں پری پول دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا اور دھاندلی کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا ہے کہ پیسہ بانٹ کر ووٹ چوری کیا گیا،ڈمی وزیر اعظم لا کر ریاست کو صوبہ بنانے کی باتیں کی جا رہی ہیں، انتخابی عمل ریاستی قبضے میں ہونا بدقسمتی ہے، 25جولائی کو جمہوریت ہاری، آزاد کشمیر کے انتخابات میں وہی کچھ ہوا جو 2018 میں ہوا تھا،۔ غیر نمائندہ حکومت کشمیر کاز کو کس طرح آگے بڑھائے گی؟پیسے کے بل بوتے پر لوگوں کو اقتدار میں لانے کی کوشش ہو رہی ہے، یہ عمران خان نہیں بلکہ پیسے کا ووٹ ہے، جو حکومت کشمیریوں کو حق حکمرانی نہیں دینا چاہتی کیا وہ حق خود اارادیت دے گی،آزاد کشمیر کے موجودہ الیکشن نتائج آزاد کشمیر کی سیاست پر کھلا حملہ ہے اور اس حملے کو کشمیری کبھی برداشت نہیں کر سکتے۔منگل کو مظفرآباد میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں شاہد خاقان عباسی ‘ احسن اقبال ‘ مصدق ملک‘ سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر سمیت دیگر رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ الیکشن عمل ریاست کے قبضے میں ہے،ایک بار پھر شفاف الیکشن کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ موجودہ الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے اور غیر نمائندہ حکومت کے قیام کو بھی نہیں مانتے۔ غیر نمائندہ حکومت کس طرح کشمیر کاز کو آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں بڑی سطح پر سب سے زیادہ عوامی جلسے کئے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیہ سے اتفاق کیا لیکن الیکشن کے نتائج انتخابی مہم کی عکاسی نہیں کرتے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے ثابت قدمی دکھائی۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حقیقت میں 25 جولائی کو آزاد کشمیر میں جمہوریت ہاری ہے اوریہ معاملہ پری پول ریگنگ سے شروع ہوا اور جمہوری اقدار کو تباہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے موجودہ الیکشن نتائج آزاد کشمیر کی سیاست پر کھلا حملہ ہے اور اس حملے کو کشمیری کبھی برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں بیٹھ کر وزیر اعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے مسئلہ کشمیرکے حل کرنے اور ثالثی کی جو بات کی تھی اس کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔ بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے پر وفاقی وزراء خاموش رہے جبکہ عمران خان کی دورہ امریکہ سے واپسی پر کہا کہ وہ ورلڈ کپ جیت کر آئے ہیں یہ سب اس جانب نشاندہی کر رہا ہے کہ حکومت نئے راستے کی طرف جا رہی ہے اور مسئلہ کشمیر سے انحراف کر رہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ آزاد کشمیر میں ڈمی وزیر اعظم لا کر صوبہ بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں ۔ صوبہ بنانا اور نیا راستہ ڈھونڈنا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی ہے۔ کشمیری عوام صوبہ بنانے یا نیا راستہ ڈھونڈنے کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے جبکہ انتخابات میں دھاندلی کر کے بنائی جانے والی حکومت کو کشمیری نوجوان کبھی آگے بڑھنے نہیں دینگے۔ دھاندلی کرکے حکومت میں آنے والے عوام کے حق پرڈاکہ ڈالنے آئے ہیں یہ کوئی خدمت کرنے والی حکومت نہیں ہو گی یہ صرف پیسے پر بننے والی حکومت ہو گی جو کشمیرکاز کو روکے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اسے کشمیریوں کے حقوق پر ڈاکہ سمجھتی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم راجہ قاروق حیدر نے کہاکہ کشمیری پاکستانی عوام کے شکر گزار ہیں کہ 74 سال سے ہمارا ساتھ دے رہے ہیں لیکن میرا پاکستانیوں سے سوال ہے کہ جو حکومت کشمیریوں کو حق حکمرانی نہیں دینا چاہتی کیا وہ حق خود اارادیت دے گی۔ کشمیریوں کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے ہمیں تو 5 سال تک حق حکمرانی نہیں دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے آزاد کشمیر کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ کشمیری عوام کوئی بھیڑ بکڑیاں نہیں ہیں۔ وفاقی وزراء نے انتخابی مہم میں پیسے بانٹے‘ اربوں روپے کے منصوبوں کے اعلانات کئے۔ سابق وزیر اعظم آزادکشمیر نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر کیلئے تحریک چلانے کا اعلان کرتا ہوں۔عمران خان کا اصل چہرہ پوری دنیا کو دکھاؤں گا اور عوام کو بتاؤں گا یہ عوام کے الیکشن نہیں یہ پیسوں کا الیکشن ہے۔ ……

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں