قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر عام بحث ساتویں روز بھی جاری رہی، اپوزیشن کی شدید تنقید!

اسلام آ باد (مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام) قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر عام بحث ساتویں روز بھی جاری رہی، اپوزیشن اراکین راجہ پرویز اشرف، جاویدلطیف، امیر حیدر ہوتی و دیگر نے بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو اڈے نہ دینا بہت اچھا اقدام ہے لیکن اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سرحد پار دہشت گردوں کی آمد رفت نہ ہوں، ایوان کو جان بوجھ کر بے تو قیر کیا جا رہا ہے، آئین کی بات کرنے والا غدار کیسے ہے، ایوان اگر فیصلہ نہیں کرسکتا کہ غدار کون ہے اور کیوں ہے تو اس پارلیمان کو تالہ لگادیں، حکومت قانون سازی کرتے ہوئے اپوزیشن کو بلڈوز کرے گی تو شورشرابہ اور افرا تفری پید ا ہوگی، عام شہری تک بجٹ کے ثمرات پہنچنے چاہیں، حکومت نے تین سال اس بات پر گزار دئیے کہ کام کی بجائے گالیاں دینا اور لینا شروع کردیں، عوام کا تین سال کا وقت الزام تراشیوں میں ضائع ہوگیا،ایک وزیر کی انشورنس کمپنی کو کامیاب بنانے کیلئے سٹیٹ لائف انشورنس کو ناکام بنایا گیا،ایف بی آر کو گرفتاریاں کرنے کا اختیار کیوں دیا جارہا ہے، اس سے ٹیکس دینے والے طبقے کو خوفزدہ اور بلیک میل کیا جائے گا، آئی ایم ایف اور فیٹف کی ڈکٹیشن پر بھونڈے انداز میں قانون سازی کی جارہی ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان کو مشکل میں ڈالا جارہا ہے، ایسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں جو آنے والی حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرے گا، بجٹ میں ایسے لگتا ہے جیسے کینسر کے مریض کا علاج اسپرین سے کیا جارہا ہ، 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو وسائل فراہم نہیں کئے گئے، تمام صوبوں کو ایف سی ایوارڈ 18 ویں ترمیم کے تحت دئیے جائیں جبکہ وزیر اقتصادی امور عمر ایوب، وزیر موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل اور وزیر دفاع پرویز خٹک و دیگر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن)نے اپنے کھانچے لگانے کے لیے ملک کو سیکڑوں ارب روپے کے ٹیکے لگائے، مسلم لیگ (ن)کی حکومت معیشت کا دیوالیہ نکال چکی تھی، انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھائیں، دشمن بھی جنگ کے بعد نقشہ دے دیتے ہیں کہ بارودی سرنگ کدھر ہیں، انہوں نے نقشہ بھی نہیں چھوڑا اور ہمیں خود یہ سرنگیں ڈھونڈنی پڑیں،، اب عمران خان کی قیادت میں سر اٹھا کر چلنے کا وقت آ گیا ہے،اپوزیشن چیخنے سے پہلے بجٹ کی کتابیں پڑھ لیا کریں، پاکستان کی تاریخ میں پہلا بجٹ ہے جس میں کسانوں کر ریلیف دیا گیا ہے، سخت مشکلات کے باوجود سرکاری ملازمیں کی تنخواہ میں 10فیصد اضافہ ہوا،ہم اپوزیشن کا ان کی کرپشن میں مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اپوزیشن کے ارکان ہم پر ایسے تنقید کرتے ہیں جیسے ان کے دور میں دودھ شہد کی نہریں بہتی تھیں،ملک قرضدار نہ ہوتا تو آئی ایم ایف کے پاس نہ جاتے،ملک میں لوگوں کے پاس گاڑیاں ہیں اچھا رہن سہن ہے،غربت کا سارا ڈرامہ ہے، بتائیں کہاں غربت ہے،ہمارے صوبے میں کوئی کچا گھر دکھا دیں مان جاؤں گا ملک پیچھے جا رہا ہے،مہنگائی پوری دنیا میں ہو رہی ہے۔پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس پینل آف چیئرپرسن کے رکن امجد علی خان کی صدارت میں شروع ہوا، پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ بجٹ پر اپوزیشن کی تنقید اور تجاویز پارلیمانی نظام کا حصہ ہے، خواہش ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے، آج ہماری قائد شہید بینظیر بھٹو کی سالگرہ کا دن ہے، بینظیر بھٹو اس ایوان کی قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈررہ چکی ہیں، اس ایوان نے کئی ادوار دیکھے، ڈکٹیٹر نے ایوان کے اختیارات سلب کیے، صدر آصف علی زرداری نے تمام اختیارات اس ایوان کو واپس کیے، اس خاندان نے اس ایوان کی توقیر کیلئے جانوں کی قربانیاں دیں، خدا کرے جمہوریت کا یہ سفر رواں دواں رہے، جمہوریت میں مشکلات اور سخت وقت آتے ہیں،منزل کو سامنے رکھنے والی قومیں کامیاب ہوتی ہیں، جمہوریت ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم کامیابی کی منزلیں طے کر سکتے ہیں، معاملات کو حد سے زیادہ آگے لیکر جانا اس ایوان کے ساتھ زیادتی ہے، یہ ایوان 22 کروڑ عوام کا نمائندہ ایوان ہے، عوام کے احساسات کی ترجمانی کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے، غصہ میں وہ حدود نہیں پھلانگنی چاہئیں، قانون سازی سے عوام کی زندگیاں آسان کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے،قانون سازی دونوں جانب کی مشاورت سے ہونی چاہیے، چند ووٹ زیادہ ہونے سے قانون سازی کرنے سے آدھے پاکستان کو ان کے حق سے محروم کیا جاتا ہے، حکومت قانون سازی کرتے ہوئے اپوزیشن کو بلڈوز کرے گی تو شورشرابہ اور افرا تفری ہوگی، اس ایوان کو ایسے انداز میں چلایا جائے جو سب کیلئے باعث توقیر ہو، آمدن اور اخراجات کا تخمینہ بجٹ کہلاتا ہے، ہر حکومت کوشش کرتی ہے ایسے بجٹ لایا جائے جس سے ان کی نیک نامی ہو، جو مرضی معاشی اعشاریے لے آئیں آئیڈیل بجٹ نہیں بنایا جاسکتا، عام شہری تک بجٹ کے ثمرات پہنچنے چاہیئں، اگر معاشی اعشاریے اچھے ہوگئے ہیں تو پھر مہنگائی نے کیوں عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی، تین سال گزرنے کے بعد بھی وہی وعدے کیے جارہے ہیں جو الیکشن کے وقت کیے جاتے تھے، پانچ سالہ پروگرام تین سال میں آدھا مکمل تو ہونا چاہیے تھا، نوکریوں، گھروں، قرضوں کے وعدوں پر کس حد تک عملدرآمد ہوگیا ہے، وعدوں ہر ایک فیصد عمل نہیں ہوا تو کیا سمجھا جائے، آپ تو پہلے دن کام کرنے کی بجائے اپوزیشن سے دست و گریباں تھے،شروع دن سے ہر ناکامی پر اپوزیشن کو چور ڈاکو کہا گیا آج بھی وہی رویہ ہے، تین سال اس بات پر گزار دیے کہ کام کی بجائے گالیاں دینا اور لینا شروع کردیں، کیا پانچ سال اپوزیشن پر الزامات لگانے کیلئے حکومت بنائی گئی، عوام کا تین سال کا وقت الزام تراشیوں میں ضائع ہوگیا، کسی قوم کا ایک ایک منٹ قیمتی ہوتا ہے، پھر تین سال کیسے ضائع کردیے گئے،بجٹ کی حمایت کرنا حکومتی ارکان کی مجبوری ہے،جس پیپلز پارٹی پر تنقید کی جاتی ہے بتائیں اس دور میں آٹے کی قیمت کیا تھی اور آج کیا ہے، فوڈ سیکیورٹی کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے، آصف زرداری نے کاشتکاروں کو آسانیاں فراہم کرنے کی ہدایات دیں، پیپلز پارٹی دور میں پاکستان گندم ایکسپورٹ کرتا تھا، ایک ہزار ارب روپے سے زائد دیہی اکانومی میں انجیکٹ کیا گیا جس سے کسان خوشحال ہوا،اپوزیشن پرالزامات کے ہتھیار سے مزید کام نہیں چل سکتا،تقریروں سے نہیں عملی اقدامات سے غریب کی زندگی آسان ہوگی،حکومت سے قبل عمران خان جو وعدے کرتے تھے اج اس کا الٹ ہورہا ہے، ہر سال لاکھوں نوجوان یونیورسٹیوں سے نکل رہے ہیں ان کیلئے کیا منصوبہ بندی ہے، آج لاکھوں لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں، ایک وزیر کی انشورنس کمپنی کو کامیاب بنانے کیلئے سٹیٹ لائف انشورنس کو ناکام بنایا گیا،ایف بی آر کو گرفتاریاں کرنے کا اختیار کیوں دیا جارہا ہے، اس سے ٹیکس دینے والے طبقے کو خوفزدہ اور بلیک میل کیا جائے گا، آئی ایم ایف اور فیٹف کی ڈکٹیشن پر بھونڈے انداز میں قانون سازی کی جارہی ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان کو مشکل میں ڈالا جارہا ہے، ایسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں جو آنے والی حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرے گا،آئیں ملکر مشاورت سے قانون سازی کریں،حکومت ایف بی آر کو گرفتاریوں کا اختیار دینے کی شق ختم کرے، حکومت فاٹا کی سٹیل انڈسٹری کو مراعات دے لیکن اس کا دوسرے صوبوں پر فرق نہیں پڑنا چاہیے، کون سا طبقہ ہے جو اس بجٹ سے فائدہ اٹھائے گا، کورونا کے باعث پڑھائی نہیں ہوئی اچانک طلبہ کے امتحانات لینے کا فیصلہ کیا گیا، پورے ملک میں طلبہ آج سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں، اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو امتحانات کا معاملہ دیکھے، الیکشن سے متعلق اپوزیشن کو بلڈوز کر کے حکومت نے قانون سازی کی، الیکشن کمیشن نے الیکشن بلز کی 13 شقوں کی نشان دہی کی جو آئین کے متصادم ہیں، بابر اعوان ایسا کوئی طریقہ نکالیں جس سے منظور شدہ بلوں پر دوبارہ بات ہوسکے، باہمی مشاورت سے ایسے قوانین بنائے جائیں جس سے صاف اور شفاف الیکشن کی راہ ہموار ہو۔وفاقی وزیر عمر ایوب کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ(ن)نے اپنے کھانچے لگانے کے لیے عوام کو سیکڑوں اربوں کا ٹیکہ لگایا ہے، اتنا تو کوئی مچھلی بھی نہیں نگل سکتی۔ مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی نے حقائق بیان نہیں کیے جس کی وجہ سے آج یہ اپوزیشن میں اور تحریک انصاف حکومت میں ہے۔ہم ماضی کی باتیں اس لیے یاد دلاتے ہیں کہ وہ حقائق کو تور مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن)کی حکومت معیشت کا دیوالیہ نکال چکی تھی، انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھائیں۔ لیگی حکومت کے دور میں پلاننگ کمیشن کی 2018 کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ موجودہ حکومت اور سابقہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس ملک کا بیڑا غرق کیا ہے۔قائد حزب اختلاف نے کہا تھا کہ جھوٹ بولنے پر جھک کر معافی مانگوں کا، انہیں یہیں چٹائی بچھا کر سجدہ کرنا چاہیے اور معافی مانگنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں