قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی ریلویز‘ ڈیڑھ ارب کی ریکوری کیلئے بڑا اقدام!

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ویب ڈیسک‘صحافی ڈاٹ کام)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی براے ریلویز نے ڈیڑھ ارب کی ریکوری کیلئے چیف سیکرٹریز کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا،کمیٹی نے ہرنائی تا سبی ٹریک کو جلد آپریشنل کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام ہرنائی تا سبی ٹریک پر کام 30 اپریل تک مکمل کریں،

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری ریلوئے نے بتایا کہ سی پیک روٹ پر کوئی کراسنگ بند نہیں کیا گیاہے پھاٹک چلانے کیلئے صوبائی حکومتوں کے ذمہ ڈیڑھ ارب روپے ہیں ریلوے نے پھاٹک ملازمین کی تنخواہیں اسی مد سے ادا کرنا ہوتی ہیں۔

منگل کو ریلوئے کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنو نئیر کمیٹی معین وٹو کی سر براہی میں وزارت ریلوئے میں منعقد ہوا۔آئی این پی کے مطابق اجلاس میں پاکستان ریلوے اور ایف بی آر کے مابین تنازع زیر غور کیا گیا، چئرمین کمیٹی معین وٹو نے کہا کہ چمن بارڈر پر ایف بی آر کا بارڈر سروس پراجیکٹ پر تنازعہ ہے

،ایف بی آر نے افغان سرحد پرٹرمینل کا نقشہ تیار کر لیا ہے وزارت ریلوے کے مطابق ٹرمینل ریلوے ٹریک کی گزرگاہ ہے بارڈر سروس پراجیکٹ کی تعمیر این ایل سی کر رہی ہے اجلاس میں موجودایف بی آر حکام نے بارڈر سروس پراجیکٹ پر قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دہتے ہوئے بتایا کہ چمن بارڈ پر بارڈر سروس پراجیکٹ کی تعمیر کی جا رہی ہے ریلوے کے مطابق بی سی پی کی زد میں انکی اراضی آ رہی ہے منصوبے کے نقشے میں تبدیلی پر لاگت 80 ملین ڈالرز بڑھ جائے گی۔

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری ریلوئے نے بی سی پی منصوبے کے تنازعہ پر کہا کہایف بی آر نے بی سی پی منصوبے پر مشاورت نہیں کی ہے چمن تا افغان سرحد 4 کلومیٹر ٹریک بچھانے کا منصوبہ ہے،افغان سرحد تک مال گاڑی لے جانے کیلئے 800 ویگنز خریدرہے ہیں پاک افغان سرحد تک ریلوے ٹریک لے جانے کا مقصد سمگلنگ روکنا ہے،

بی سی پی کی تکمیل پر ٹریک کے وسط میں ٹرمینل آئے گابی سی پی ٹرمینل کی عمارت ریلوے ٹریک کی راہ میں رکاوٹ ہو گی،ایف بی آر بی سی پی ٹرمینل کسی اور جانب منتقل کر سکتا ہے ایف بی آر ٹرمینل کی تعمیر پر ٹریک گزارنے میں مسئلہ ہو گا،انہوں نے کہا کہ ریلوے کو افغان سرحد تک ریلوے کا ڈبل ٹریک درکار ہے ریلوے انجینر زمنصوبے پرایف بی آر سے مشاورت کر سکتے ہیں ٹریک کے اطراف کی پچاس فٹ اراضی پر تعمیرات ممکن نہیں ہیریلوے ٹریک کے باعث ٹرمینل کی عمارت تعمیر ممکن نہیں ہو گی ریلوے ٹریک بچھنے پر ایف بی آر کو دوبارہ زمین خریدنی پڑے گی

۔قائمہ کمیٹی نے سفارش کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر اور وزارت ریلوے کو معاملہ مذاکرات سے حل کریں مناسب ہو گا بی سی پی ٹرمینل کی تعمیر متنازعہ نہ ہوفریقین منصوبے کا حتمی ڈرافٹ پندرہ یوم میں جمع کرائیں پاکستان ریلویز کے محکموں کے ذمے واجبات کی تفصیلات کمیٹی میں پیش کی جائں۔جس پر ریلوئے

حکام نے بتایا کہ مختلف اداروں، محکموں کے ذمے 76 کروڑ روپے واجب الادا ہیں جس میں کوئٹہ ویمن یونیورسٹی کے ذمے 55 کروڑ روپے واجب الاد ا ہیں اس کے علاوہپی ایس او کوئٹہ چمن کے ذمے 4 کروڑ 90 لاکھ واجب الادا ہیں ریلوے حکام کے مطابق شیل پاکستان کے ذمہ 8 کروڑ 44 لاکھ روپے واجب الادا ہیں ہرنائی سبی ٹریک پر مالی گاڑی آپریشن کا آغازسول ورکس کی تکمیل پر ہوگا،

ریلوے حکام نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ ہرنائی تا سبی ٹریک پر پچاس چیک پوسٹ تعمیر ہونگی۔جس پرقائمہ کمیٹی نے ہرنائی تا سبی ٹریک کو جلد آپریشنل کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام ہرنائی تا سبی ٹریک پر کام 30 اپریل تک مکمل کریں ریلوئے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سبی ہرنائی سیکشن پر 413 دکانیں قائم ہیں سبی ہرنائی سیکشن پر 216 پرانی دکانیں ہیں سبی ہرنائی سیکشن پر 197دکانیں غیر قانونی طور پر قائم ہیں۔

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں