قومی اسمبلی، حکومت نے آئینی ترمیمی بل اورسی پیک اتھارٹی کے قیام کے بل پیش کر دئیے!

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ویب ڈیسک‘صحافی ڈاٹ کام)قومی اسمبلی میں حکومت نے دستور ترمیمی بل اورسی پیک اتھارٹی کے قیام کے بل پیش کر دئیے۔آئی این پی کے مطابق اپوزیشن ارکان نے سی پیک اتھارٹی بل پر”پاپا جونز”پاپا جونز”کے نعرے لگائے،اپوزیشن ارکان نے”پاپا جونز”پاپا جونز” کے بینرز بھی ایوان میں لہرائے۔آئینی ترمیمی بل کے تحت دوہری شہریت کے حامل افراد پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہو سکے گا،

چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب خفیہ رائے شماری کی بجائے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے انتخاب کی طرز پر ہوں گئے۔سی پیک اتھاڑتی بل کے تحت وزیر اعظم سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کا تقرر4سال کیلئے کر سکے گا،ایک بار چیئرمین سی پیک اتھارٹی کی مدت ملازمت میں 4سال کی توسیع کی جا سکے گی،

آڈیٹر جنرل پاکستان سی پیک اتھارٹی کے حسابات کی سالانہ جانچ پٹرتال کریگا،وزیر اعظم اتھارٹی سے کسی بھی مالی امور سے متعلق وضاحت طلب کر سکے گا،اتھارٹی میں کام کرنے والے ملازمین بشمول چیئرمین و اراکین سول سرونٹس تصورنہیں ہونگے،کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کو کوئی بھی ریکارڈ یا وصول کردہ معلومات سے آگاہ نہیں کریگا،

سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین و ارکین کے اٹھائے گئے اقدامات پر کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکے گی۔ ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے دونوں بل مزید غور وخوض کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دئیے۔جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔

اجلاس شروع ہوتے ہی معاون خصوصی پارلیمانی امور بابر اعوان نے وفقہ سوالات معطل کر کے حکومتی ایجنڈا لینے کی تحریک پیش کی جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور کروم کی نشاندہی کر دی۔گنٹی کے بعد کورم مکمل نکلا جس پر ڈپٹی سپیکر نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کی جسکی ایوان نے کثرت رائے سے منظوری دیدی۔

معاون خصوصی پارلیمانی امور بابر اعوان نے دستور ترمیمی بل2020 (26ویں ترمیم) پیش کیا۔مجوزہ آئینی ترمیم کے تحت دوہری شہریت کے حامل افراد پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہو سکے گا تاہم انہیں حلف لینے سے قبل غیر ملکی شہرت ترک کرنا ہوگی،

آئینی ترمی کے تحت چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب خفیہ رائے شماری کی بجائے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے انتخاب کی طرز پر ہوں گئے جبکہ صوبائی اسمبلیوں سے سینیٹرز کا انتخاب قابل انتقال ووٹ کی بجائے اوپن ووٹنگ سے ہو گا۔معاون خصوصی پارلیمانی امور بابر اعوان نے چین پاکستان اقتصادی راہ داری اتھارٹی (سی پیک) بل2020پیش کیا۔اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے “پاپا جونز “پاپا جونز”کے نعرے لگائے،

اپوزیشن ارکان نے “پاپا جونز “پاپا جونز” کے بینرز بھی ایوان میں لہرائے۔جے یو آئی (ف) شاہدہ اختر علی نے کہا کہ اس وقت سینیٹ اور قومی اسمبلی کے دونوں اجلاس جاری ہیں، حکومت بل لانے کی بجائے آرڈیننس سے کام چلا رہی ہے، سی پیک اتھارٹی بل میں اتھارٹی کو نیب اور ایف آئی اے استثنیٰ قرار دیا گیا ہے یہ اس حکومت کے احتساب کے بیانیہ کے خلاف ہے،

کیا احتساب صرف اپوزیشن کیلئے ہے، اس بل سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ حکومت صرف انتقام کیلئے آئی ہے۔سی پیک اتھارٹی بل میں تجویز دی گئی ہے کہ اتھارٹی چیئرپرسن،ایگزیکٹوڈائریکٹرآپریشنزیا ایگزیکٹوڈائریکٹر ریسرچ اور6ارکان پر مشتمل ہو گی، وزیر اعظم سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کا تقرر 4سال کیلئے کر سکے گا جبکہ صرف ایک بار چیئرمین سی پیک اتھارٹی کی مدت ملازمت میں 4سال کی توسیع کی جا سکے گی

،اس طرح سی پیک اتھارٹی کے6ارکان ہونگے،چیئرمین و اراکین اپنے عہدے کی مدت مکمل ہونے سے قبل وزیر اعظم کو استعفیٰ دے سکیں گئے، وزیر اعظم یا انکی جانب سے نامزد شخص کو تحقیق کے بعد چیئرمین یا اراکین میں سے کسی کو بھی برطرف کرنے کا اختیار ہو گا،اتھارٹی ایک سال میں کم ازکم ایک اجلاس کرنے کی پابند ہو گی،اتھارٹی کے فیصلے کل اراکین کی اکثریت سے کئے جائیں گئے۔

آڈیٹر جنرل پاکستان سی پیک اتھارٹی کے حسابات کی سالانہ جانچ پٹرتال کریگا،سی پیک اتھارٹی سال کے آخری تین ماہ میں اپنی سالانہ رپورٹ وزیر اعظم کوپیش کرنے کی پابند ہو گی۔وزیر اعظم اتھارٹی سے کسی بھی مالی امور سے متعلق وضاحت طلب کر سکے گا۔اتھارٹی کی سہ ماہی ترقیاتی رپورٹس اتھارٹی کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع کیا جائے گا۔

اتھارٹی میں کام کرنے والے ملازمین بشمول چیئرمین و اراکین سو سرونٹس تصورنہیں ہونگے مگر ڈیپوٹیشن پر آئے سول ملازم، سول سرونٹس ایکٹ1973بابت71کے تابع ہو گا۔سی پیک اتھارٹی بل کے تحت کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کو کوئی بھی ریکارڈ یا وصول کردہ معلومات سے آگاہ نہیں کریگا یا آگاہ کرنے کی اجازت نہیں دیگا،

جو اس معلومات کا قانونی طور پر مستحق نا ہو۔سی پیک اتھارٹی بل کے تحت سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین و ارکین کے اقدامات جو انہوں نے اس قانون کے مطابق اٹھائے ہوں ان پر قانونی کارروائی نہیں ہو سکے گی۔ ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے دونوں بل مزید غور وخوض کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دئیے۔

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں