فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم‘مولانا فضل الرحمان نے بڑا اعلان کر دیا!

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک‘ویب ڈیسک‘صحافی ڈاٹ کام) جمعیت علما اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے عالم اسلام بالخصوس مظلوم فلسطینی عوام کے لئے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ مسلمانوں کا خون ارزاں کب تک بہتا رہے گا،اسرائیلی درندے مسجد اقصی میں گھس گئے اور اسلامی دنیا خاموش رہی، عیدالفطر کے بعد پورے ملک میں اسرائیل کیخلاف مظاہروں ہونگے انسانی حقوق کی نام نہاد عالمی تنطیمیں انسانی حقوق کو بیچنے والی تنطیمیں،یہ ناجائز قبضوں کی حمایت کرتی ہیں ۔صباح نیوز کے مطابق گزشتہ روز مولانا فضل الرحمن نے اپنے وڈیو پیغام میں کہا ہے کہ برادران ملت میں پوری امت مسلمہ اور بالخصوص اپنے برادر اسلامی ملک فلسطین کی عوام سے مخاطب ہورہاہوں۔ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت اور وہاں پر ریاستی دہشت گردی کی ایک طویل تاریخ ہے۔

فلسطینی عوام نسل درنسل بڑی بے جگری کے ساتھ ریاستی دہشت گردی کیخلاف،فلسطین پر قبضے کے خاتمے اور آزادی کیلئے قربانی دے رہے ہیں، بچے، مائیں، بہنیں قربانیاں دے رہی ہیں، فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنی جماعت پاکستان کی عوام کی طرف سے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔ رمضان المبارک میں 27 ویں شب کو بیت المقدس میں جب مسلمان تراویح کی ادائیگی کررہے تھے، اسرائیلی درندے مسجد میں گھس گئے، شیلنگ کی، مسلمانوں کی عبادت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ یہ اتنا گھناؤنا سنگین جرم ہے اگر صہیونی اور عالمی برادری کو کچھ بھی احساس ہو تو انہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ اس درندگی کا سامنا کرنے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ سے اپنا تعلق نہیں چھوڑا،

مسلسل نماز کیلئے مسجد اقصیٰ جارہے ہیں جبکہ درندے مسلسل گولیاں چلارہے ہیں۔30مسلمان شہید، سینکڑوں زخمی ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے گردونواح میں دہشت گردی کی فضا بنائی جارہی ہے عالمی برادری فوری طورپر اس کا نوٹس لے، غزہ پر اسرائیلی بمباری اور اس کے لئے یہ جواز پیش کرنا کہ ہمارے اوپر گولے برسائے گئے ہیں۔ یہ اقدام نہیں بلکہ میرے خیال میں مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی حملے کا جواب ہوگا مگر اس کو بہانہ بنا کر غزہ پربمباری کی، مسلمانوں کو شہید کیا، مسلمانوں کا خون ارزاں کب تک بہتا رہے گا۔خون مسلم ارزاں کیوں اور کیونکر امت مسلمہ اس پر خاموش ہے اس خاموشی کی کوئی حثیت نہیں ہے،

میں اس موقع پر پوری امت مسلمہ کو جھنجھوڑنا چاہتا ہوں اس وقت ان کی خاموشی اسرائیلی درندگی کی حمایت اور تائید ہے۔ او آئی سی اب تک خاموش ہے، اسلامی دنیاآخر اس کیا کردار ہے۔ ایک روایتی بیان جاری کیا گیا ہے اقوام متحدہ کی سطح پر بھی کوئی اقدام نہیں کیا گیا آخر کہاں گئی انسانی حقوق کی تنظیمیں اگر اسلامی دنیا میں کوئی ذرا برابر معمولی واقعہ ہو جائے تو یہ تنظیمیں آسمان سر پر اٹھالیتی ہیں۔ لیکن جو اسرائیلی درندگی اور دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں، وہاں ان کی زبانیں گنگ ہیں۔ یہ کس کی نمائندگی کررہے ہیں، کیا واقعی ہم ان کو انسانی حقوق کا پاسبان سمجھتے ہیں۔ کیا واقعی ہم ان کو انسانی حقوق کا وکیل سمجھیں۔

یہ انسانی حقوق کو بیچنے والے ہیں۔ یہ بڑی قوتوں کے مفادات کے محافظ ہیں اور دنیا میں ناجائز قبضوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمارا موقف واضح رہا ہے اور دنیا جانتی ہے دو ماہ قبل کراچی میں تاریخی ملین مارچ کیا گیا اس کے اثرات کبھی نہیں مٹیں گے۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا عیدالفطر کے بعد پورے ملک میں اسرائیل کیخلاف مظاہروں کا آغاز کریں گے۔ پوری امت مسلمہ سے اپیل کرتا ہوں، پوری پاکستانی قوم سے ،علماء سے،

خطبا، عیدالفطر اور جمعہ کے اجتماعات میں اسرائیلی درندگی کو اجاگر کریں اور اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کو اپنا دینی، ملی فریضہ سمجھیں۔ فلسطینی عوام کو یقین دلاتا ہوں ان کے شانہ بشانہ رہیں گے، ان کے دوش بدوش ظلم کیخلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور امت مسلمہ سے اپیل کرتا ہوں پوری دنیا میں جہاں بھی مسلمان ہیں یا عید اور جمعہ کے اجتماعات ہیں اسرائیلی درندگی کیخلاف اپنے احتجاج کو ریکارڈ کروائیں، خطبا آئمہ سے اپیل ہے اسرائیلی درندگی کی مذمت کریں اور اپنا اسلامی فریضہ ادا کریں۔

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں