فضل الرحمان تحریک انصاف کی حکومت کاحصہ بننے والے ہیں ؟

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:-صحافی ڈاٹ کام)جمعیت علماء اسلام (ف) کے سر براہ مولانا فضل الرحمان کو حکمران جماعت تحریک انصاف کی طرف سے منانے کی تمام باتوں کی حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے ‘ تحریک انصاف فضل الرحمان کو منانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی‘ لیکن سوال پیدا ہو تا ہے کہ آخر اس قسم کی خبریں کہاں سے نکلیں اور ان افواہوں کے اصل محرکات کیا ہیں ؟ فضل الرحمان ہر دور میں حکومتی جماعت کے نہ صرف قریب ہونے کا ہنر جانتے ہیں بلکہ وہ حکومتوں سے وزارتوں اور مختلف کمیٹیوں کی سر براہی بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جایا کرتے ہیں‘ آصف علی زرداری اور نواز شریف دور میں فضل الرحمان کشمیر کمیٹی کے سر براہ رہے اور یہ دور کشمیر کمیٹی کی کارکردگی کے حوالے سے انتہائی مایوس کن دور تھا ‘ پرویز مشرف دور میں فضل الرحمان نے مشرف کو با وردی صدر منتخب کرواتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کا شیرازہ بکھیر دیا ‘ ان دنوں وہ ایک مرتبہ پھر اپوزیشن کے نام پر متحدہ مجلس عمل کا پلیٹ فارم جو 2018ء کے حالیہ انتخابات سے پہلے 2002ء کے عام انتخابات کے بعد معرض وجود میں آیا ہے ‘اس کو استعمال کرنے کی بھر کوششوں میں مصروف ہیں‘ جبکہ دوسری طرف ان کا واسطہ اس مرتبہ تحریک انصاف سے پڑا ہے ‘ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی ایک ضدی سیاستدان ہیں اور وہ اس وقت وزیراعظم کی حیثیت سے بظاہر فضل الرحمان کو کوئی گھاس نہیں ڈال رہے لیکن اندرون خانہ لگتا ہے کہ فضل الرحمان کو وزیراعظم عمران خان کیساتھ کسی قسم کی کوئی ڈیل کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور اس مقصد کی خاطر حکومت کی طرف سے معمولی پیش قدمی فضل الرحمان اور حکومت کے درمیان دوستی کی راہ ہموار کر سکتی ہے ‘ماضی میں جمعیت علماء اسلام محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو غیر شرعی قرار دیتی رہی کہ اسلام میں خاتون کی حکمرانی جائز نہیں‘ لیکن بعدازاں جمعیت علماء اسلام نے محترمہ کی حکومت کو تسلیم کر لیا ‘فضل الرحمان سے کوئی بعید نہیں کہ وہ تحریک انصاف سے بھی ہاتھ ملا لیں گے اور ویسے بھی ان کی طرف سے تحریک انصاف کو یہود کا ایجنٹ وغیرہ قرار دینے کی کوئی حیثیت نہیں ‘ ان کے اپنے استاد اور جامع مدرستہ الحقانیہ کے مہتمم مولانا سمیع الحق عمران خان کے ساتھ ہیں ‘تاہم حکومت اور فضل الرحمان کے درمیان مذاکرات کے بارے میں افواہیں اندرون خانہ کچھ نہ کچھ ضرورت حقیقت رکھتی ہیں اور فضل الرحمان ‘ تحریک انصاف دونوں اپنی عزت بچانے کیلئے اپوزیشن اور حکومت ایک دوسرے کے بارے میں نرم گوشہ رکھے کا سیاسی تاثر دیتے ہوئے اندرون خانہ کوئی کھچڑی پکا رہے ہیں ‘فضل الرحمان اقتدار کے بغیر نہیں رہ سکتے اور اس مرتبہ کسی بھی نشست پر کامیابی بھی حاصل نہیں ہو سکی اس لئے عین ممکن ہے کہ وہ حکومت کیساتھ ہاتھ ملا لیں‘فضل الرحمان اسلامی سیاست پر توجہ دیتے رہتے تو بہتر ہو تا مگر وہ اپنی اصل سے ہٹے اور ان سیاسی قوتوں اور دو جماعتوں کا دفاع کرتے رہے جن پر کرپشن کے بے بہا الزامات ہیں ‘اس طرح سے فضل الرحمان کی پوزیشن بہت خراب ہوئی ہے ‘ وزیراعظم عمران خان آئندہ مدارس کو بھر پور تعاون اور سہولیات فراہم کرنے کیلئے کئی اقدامات اٹھانا چاہتے ہیں اس صورت میں بھی فضل الرحمان حکومت کے خلاف پل کے دوسری طرف رہے تو ان کی پوزیشن مزید خراب ہو گی لہذا وہ حکومت اور ان کے معاملات جلد طے پانے کی شنید ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں