شہباز شریف نے حمزہ شہباز کے روکنے پر پارٹی صدارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ واپس لے لیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام)مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کیس میں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہائی کے بعد مسلم لیگ (ن) کو بحران سے نکالنے کے لئے اور پارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے شہباز شریف کے بیانیے کو اپنانے سے متعلق دی گئی تجاویز پر عمل درآمد نہ ہونے پر ان کے بیٹے حمزہ شہباز شریف نے ان کو پارٹی صدارت سے استعفیٰ دینے سے روک دیا جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں انتخابات کیلئے بنائی گئی پارٹی کی ناقص حکمت عملی پر شہباز شریف نے شدید تحفظات کا اظہار کردیا۔ ذرائع کے مطابق لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہائی کے بعد شہباز شریف نے لندن جا کر اپنے بڑے بھائی سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو قومی مفاہمت کی پالیسی اپنانے پر راضی کرنے کے لئے لندن جانے کا پروگرام بنایا تھا تاہم حکومت نے ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جس کے بعد شہباز شریف نے مختلف اور ذرائع سے لندن میاں نواز شریف کو کچھ تجاویز بھجوائیں جن میں مسلم لیگ (ن) کو موجودہ صورتحال سے نکالنے‘ قومی مفاہمت کی پالیسی اپنانے اور اسٹیبلشمنٹ سے ایک حد سے زیادہ لڑائی مول نہ لینے کا مشورہ بھی دیا تھا تاہم جب شہباز شریف کی ان تجاویز کو زیادہ پذیرائی نہ ملی تو انہوں نے آزاد کشمیر کے انتخابات سے ایک ماہ قبل پارٹی صدارت سے استعفیٰ دینے کا اصولی فیصلہ کیا تاہم انہوں نے جب اس معاملے پر پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور اپنے بیٹے حمزہ شہباز اور دیگر قریبی دوستوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے شہباز شریف کو پارٹی صدارت سے استعفیٰ دینے سے روک دیا اور یہ رائے دی کہ آپ انتظار کریں انشاء اللہ صورتحال بہتر ہوگی اور آپ پارٹی معاملات پر اپنی گرفت کو مضبوط کریں جس پر شہباز شریف نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر شہباز شریف پارٹی صدارت سے استعفیٰ دے دیتے ہیں تو ان کی جگہ پہلے مرحلے میں سابق وزیراعظم اور پارٹی کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کو پارٹی کا قائمقام صدر مقرر کئے جانے کا امکان تھا۔ دریں اثناء آزاد کشمیر کے انتخابات میں پارٹی کی حکمت عملی اور انتخابی مہم پر بھی شہباز شریف نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے اپنے قریبی رفقاء سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بہتر حکمت عملی اپنائی جاسکتی تھی بڑے جلسے کرنا اچھی بات ہے لیکن ووٹرز کو پولنگ سٹیشن پر لانے اور ووٹ کاسٹ کروانے سمیت دیگر معاملات بہتر انداز میں حل کئے جاسکتے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں میاں شہباز شریف دوبارہ سے متحرک ہوجائیں گے اور پارٹی کے اہم اجلاس طلب کریں گے جس میں پارٹی کی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس بلائے جائیں گے جن میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے مشاورت کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں