سینیٹ اجلاس، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخیاں مزیدبڑھ گئیں!

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ویب ڈیسک‘صحافی ڈاٹ کام) سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخیاں مزیدبڑھ گئیں۔ آئی این پی کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کو بات کرنے کا موقع نہ ملنے پرحکومتی ارکان نے احتجاج کیا جبکہ قائد ایوان شہزاد وسیم کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید شور شرابہ کیا

،شبلی فراز نے کہا کہ ہمارا مخالف ملک ایک بیانیہ چلا رہا ہے، میں اپنا پالیسی بیان دشمنوں کو دینا چاہتاہوں، جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے شبلی فراز کو کہا کہ اجلاس کا ایجنڈا پورا ہونے کے بعد بیان دیں،شبلی فراز کی جانب سے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیئے جانے کے دوران اپوزیشن کی اکثریت نے ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔

قائد ایوان سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ جو ا س وقت نریندر مودی ،اجیت دودل کی زبان پاکستان میں بولی جا رہی ہے پاکستان کے عوام اس کو مسترد کرتے ہیں،پاکستان کی عوام سب سے پہلے پاکستان کی ریاست سے محبت کرتے ہیں اس کے بعد وہ پاکستان کے ریاستی اداروں سے محبت کرتے ہیں اس کے بعد سیاست کی باری آتی ہے، سیاست کیا چیز ہے،

سیاست میں آج ہم ہیں کل آپ ہوں گے ،اقتدار کو ہم جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں ملک کے مفاد کو ہم سب سے مقدم رکھتے ہیں،اقتدار کی قربانی کوئی چیز نہیں ہے اگر ملک ہو، جبکہ قائدایوان سینیٹر راجہ ظفرالحق نے کہا کہ اگر کسی وزیر نے کوئی بیان دینا ہوتا ہے تو وہ پہلے چیئرمین کو اس کی اطلاع دیتا ہے اجازت لیتا ہے وہ ایجنڈے پر آئٹم ہوتا ہے،

ہر ایک چیز رولز کے مطابق ہونی چاہیے۔جمعرات کو سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران سینیٹر شبلی فراز نے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں پالیسی بیان دینا چاہتا ہوں، میں دل گرفتہ بھی ہوں رنجیدہ بھی ہوں، دل گرفتگی کا سبب کوئی نہ سیاسی ہے نہ کوئی ذاتی ہے،

شبلی فراز نے کہا کہ ہمارا مخالف ملک ایک بیانیہ چلا رہا ہے،ملک کے خلاف بیانیہ چل رہا ہے، یہ پالیسی بیان دشمنوں کو دینا چاہتاہوں، اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے شبلی فراز کو کہا کہ اجلاس کا ایجنڈا پورا ہونے کے بعد بیان دیں، تاہم شبلی فراز مسلسل بات کرنے کا موقع مانگتے رہے،

اس موقع پر قائد ایوان سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ پالیسی بیان تو دینے دیں، مسئلہ یہ ہے کہ ایجنڈا ختم ہوتا ہے تویہاں پر کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہوتا،یہاں کوئی سچ سننے کو تیار نہیں، اس وقت جو ملک میں ماحول بنایا جا رہا ہے وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس پر بات کی جائے، جو بیانیہ گوجرانولہ سے شروع ہوا،

راستے میں قائداعظم کے مزار کی بے حرمتی کرتا ہوا جب وہ کوئٹہ پہنچا، جو ا س وقت نریندر مودی ،اجیت دودل کی زبان پاکستان میں بولی جا رہی ہے پاکستان کے عوام اس کو مسترد کرتے ہیں، آپ کس کی بولیاں بول رہے ہیں،پاکستان کی عوام سب سے پہلے پاکستان کی ریاست سے محبت کرتے ہیں اس کے بعد وہ پاکستان کے ریاستی اداروں سے محبت کرتے ہیں اس کے بعد سیاست کی باری آتی ہے، سیاست کیا چیز ہے،

سیاست میں آج ہم ہیں کل آپ ہوں گے ،اقتدار کو ہم جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں ملک کے مفاد کو ہم سب سے مقدم رکھتے ہیں،اقتدار کی قربانی کوئی چیز نہیں ہے اگر ملک ہو،ہمارے لوگوں نے جانوں کی قربانیاں دی ہیں،ہمارے بچے آج بھی قربانیاں دے رہے ہیں،

قومی زبان اور منصوبوں کو آپ متنارع بناتے ہیں،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق نے کہا کہ جوذمہ دار لوگ ہوتے ہیں انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیئے،آج پہلی مرتبہ دیکھا ہے کہ منسٹر سوال کر رہے ہیں اور حکومتی ممبرز واک آؤٹ کر رہے ہیں یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا ہے،

اگر کسی وزیر نے کوئی بیان دینا ہوتا ہے تو وہ پہلے چیئرمین کو اس کی اطلاع دیتا ہے اجازت لیتا ہے وہ ایجنڈے پر آئٹم ہوتا ہے، ہر ایک چیز رولز کے مطابق ہونی چاہیئے، راجہ ظفرالحق نے پشاور میں ہونے والے دھماکے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک ہزار سے زیادہ لوگ مسجد میں موجود تھے،

وہاں حکومت کی طرف سے کوئی سیکیورٹی مہیا نہیں کی گئی تھی، اتنی غفلت کیوں کی گئی؟ اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق سینیٹر میاں رضا رربانی کو توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرنے کی اجازت دی جس پر حکومتی ارکان کھڑے ہو گئے اور سینیٹر شبلی فراز کو پہلے بات کرنے کا موقع دینے کا مطالبہ کیا،

سینیٹر میاں رضا ربانی کے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب سینیٹر شبلی فراز نے دیا، شبلی فراز کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں