دنیا افغانستان سمیت دیگر معاملات میں عمران خان کی مریدی اختیار کرے،صدر مملکت کا پارلیمنٹ سے خطاب

اسلام آباد(مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ بھارت پاک چین تعلقات میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش میں ناکام ہوگا،دنیا کو ماننا پڑے گا کہ پاکستان نے دہشت گردی کا بہت بہادری سے مقابلہ کیا،دنیا تسلیم کرے کہ افغانستان کے متعلق عمران خان اور پاکستان کا مشورہ درست ثابت ہوا، دنیا کو دیگر معاملات میں بھی عمران خان کی شاگردی و مریدی اختیار کرنی چاہیے،بھارت میں ایٹمی مواد کی کھلم کھلافروخت باعث تشویش ہے اور بھارت کیفاشسٹ نظریئے کی مذمت کرتاہوں،فیک نیوزکے ذریعے دنیاکوگمراہ کیاگیا، جھوٹی خبروں کا سدباب ضروری ہے،انتخابات میں اصلاحات ضروری ہے، ای وی ایم کو سیاسی فٹبال نہ بنایا جائے،ملک کی تقدیرکا مسئلہ ہے،انتخابات میں شفافیت جمہوریت کے لیے بہت ضروری ہے،اپوزیشن کو شورمچانے کی بجائے حقیقت تسلیم کرنی پڑیگی، صبرکریں اورسنیں،حکومتی کارکردگی اورکامیابی کوشورشرابے سے نہیں روکاجاسکتا،کرپشن کے ناسوراورماضی کی غلط ترجیحات کی وجہ سے ہم ترقی سے محروم رہے، ہم نے ماضی میں ٹیلنٹ کی قدرنہیں کی، ہم نے لوٹ مارسے توجہ ہٹاکرانسانیت پرفوکس کیا۔پیر کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان، قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی شہبازشریف، قائد حزب اختلاف سینیٹ یوسف رضا گیلانی،شاہد خاقان عباسی،پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹوزرداری، چاروں صوبوں کے گورنرز اور ورزائے اعلیٰ کے علاوہ آزاد کشمیرکے صدر، سروسز چیفس اور مختلف ممالک کے سفیر بھی مہمانوں کی گیلری میں موجود تھے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ میں تیسرے پارلیمانی سال کی تکمیل اور چوتھے سال کے آغاز پر تمام معزز اراکین پارلیمان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہوں کہ پاکستان میں جمہوری اقدار اور ایک دوسرے کی برداشت کی روایات فروغ پائیں۔صدر مملکت نے کہا کہ میری آج https://www.dawnnews.tv/news/1168324/کی یہ گفتگو پاکستان کے حال اور مستقبل کے حوالے سے ہے کیونکہ میرا ملک ایک نئی اور مثبت سمت کی جانب گامزن ہے۔گزشتہ تین سالوں میں ہمارے ملک اور قوم میں بہت سی مثبت تبدیلیاں آئی ہیں اور میری آج کی یہ تقریر اِن تبدیلیوں اور کامیابیوں کا احاطہ کرنے کی کوشش ہو گی۔ میں ، انشاء اللہ، اس بات کا بھی ذکر کروں گا کہ ہم پچھلی دہائیوں میں تربیت کے کن مراحل سے گزرے اور اس کے نتیجے میں ہم نے کون کون سی طاقتیں اور صلاحیتیں اپنے اندر پیدا کیں جن کی بدولت ہم انشا ء اللہ ایک چمکتے دمکتے اور ابھرتے ہوئے پاکستان کی منزل کو پا لیں گے۔ صدر مملکت نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ کورونا کے منفی اثرات کے سبب دنیا کی تمام معیشتیں سکڑنے لگیں۔ مگر، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور حکومت کی اچھی پالیسیوں کی بدولت پاکستان کی معاشی کارکردگی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت بہتر رہی اور پاکستانی معیشت کی شرحِ نمو 3.94 %رہی۔ میں زیادہ تفصیل میں جانے سے گریز کروں گا کیونکہ پچھلے دنوں بجٹ سیشن کے دوران حکومت نے اور خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان نے معاشی کامیابیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی ،مگر میں چیدہ چیدہ کامیابیوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں،مالی سال2020-21 کے دوران پاکستان کی برآمدات گزشتہ سال23.7 ارب سے بڑھ کر 25.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ترسیلات زر 29.4 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے جو کہ پچھلے سال کی نسبت تقریباً 6 ارب ڈالر زیادہ ہیں اور اس سال کے شروع کے 2 مہینوں میں مزید 10 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے اور ایشیاء کی بہترین اور دنیا کی چوتھی بہترین کارکردگی کا اعزاز حاصل کیا۔ اور مئی 2021ء میں ایک سیشن میں ریکارڈ توڑ 2.21 ارب حصص کی خریدو فروخت ہوئی۔ حکومتی اقدامات کی بدولت دو سال قبل عالمی بینک کی ease of doing business index میں پاکستان کی پوزیشن میں 28 درجے کی بہتری آئی تھی۔ صدر مملکت نے کہا کہ اور اب آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ Overseas Investors Chamber of Commerce and Industry کے حالیہ سروے کے مطابق سمندر پار سرمایہ کاروں کا پاکستانی معیشت اور حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد یعنی business confidence index میں تقریباً60 فیصدکا اضافہ ہوا۔ صدر مملکت نے کہا کہ ایف بی آرنے سا ل2021 ء میں ٹیکس وصولیوں کی مد میں 4732ارب روپے اکھٹے کیے جو کہ پچھلے سا ل کی نسبت تقریباً18 فیصدزیادہ ہیں۔ اسی طرح موجودہ مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں ہدف سے 160 ارب روپے زائد کی وصولیاں ہوئیں ہیں۔ عوام کا اتنی بڑی تعداد میں ٹیکس جمع کرانا اور ترسیلات ِ زر بھیجنا حکومتی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں مبارکباد دیتا ہوں حکومت کو کہ FATF کے میدان میں بڑی تندہی سے کام کر کے سارے اعتراضات کے حل کیلئے قوانین اور procedure بنا لیے گئے اور لاگو بھی کر دیے گئے ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہعوام اور بالخصوص کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو حکومت نیایک بڑا construction package دیا ، مکان اور چھت کی فراہمی کیلئے “نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام ” کاآغاز کیا۔ اس کیلئے حکومت نے تعمیراتی شعبے کو 36 ارب روپے کی سبسڈی دینے کے علاوہ مختلف ٹیکسوں کی مد میں چھوٹ بھی دی۔بینکوں کی مدد سے عوام کو اپنے مکان کی تعمیر کیلئے آسان شرائط پر قرض کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات اٹھائے ہیں۔ نتیجتاً پاکستان کے بینکنگ سیکٹرکاhousing and construction finance portfolio 260ارب روپے کی حد عبور کر چکا ہے۔حکومت کے اعلان کردہ تعمیراتی پیکج میں اب تک447 ارب مالیت کے 1252 منصوبوں کی رجسٹریشن ہوئی ہے۔حکومت کے ان اقدامات کی بدولت نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے بلکہ 70 کے قریب downstream industries جیسا کہ اسٹیل،سیمنٹ،پینٹ اور الیکٹرانکس انڈسٹری میں لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئے ہیں۔ تعمیراتی شعبے میں تاریخی ترقی کا سہرا وزیرِ اعظم کے سر جاتا ہے کہ جنہوں نے عوام کے احساس پر مبنی پالیسی اپنائی جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں معاشی کامیابی سے بھی نوازا۔زراعت کے شعبے میں 2.77 فیصدکی ترقی ہوئی اور اس میں مزید محنت کی ضرورت ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ حکومت کی IT شعبے پر خصوصی توجہ کی وجہ سےIT برآمدات 2.12 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ گزشتہ سال کی نسبت ان برآمدات میں 47 فیصدکا اضافہ ہوا ہے۔صدر پاکستان نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں کو تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے بھی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں ان میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت نوجوانوں کی آن لائن تربیت کاپروگرام ” ڈیجی اسکلز” قابلِ ذکر ہے۔ یہ امر لائق تحسین ہے کہ اب تک 17 لاکھ نوجوانوں کو اس پلیٹ فارم کے ذریعے تربیت دی جاچکی ہے ۔ جس میں اکثریت 18 سال سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں کی ہے ۔ پاکستان کے فری لانسرز اب تک 20 کروڑ ڈالر سے زائد زر مبادلہ کما چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا ادراک ہے کہ دنیا اس وقت چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے اور یہ انقلاب صرف مادی ترقی کا انقلاب نہیں بلکہ ایک فکری اور ذہنی انقلاب ہے۔ ماضی میں اقوام نے کارخانوں اور انڈسٹری کی مدد سے ترقی کی۔ یہ ترقی جسے ہم اینٹ اور گارے کی ترقی بھی کہتے ہیں ، ضروری ہے مگر یہ وقت لیتی ہے۔ اس کے مقابلے میں جدید ٹیکنالوجیز ، جیسا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس،سافٹ ویئر کمپیوٹنگ،اینالسز ڈیٹا نیٹ ورکنگ ودیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی مدد سے تیز رفتار ترقی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ میں سائبر سیکورٹی پر بھی توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں، میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ذہانت کے اعتبار سے پاکستانی قوم اور پاکستانی نوجوان دنیا کی کسی قوم سے کم نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں ذہانت مساوات سے بانٹی ہے۔،مجھے اپنے سائنسدانوں اور آئی ٹی ماہرین پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ اپنی ذہنی استعداد کو بروئے کار لا کر عصرِ حاضر کے سائبر ڈیفنس اور سیکورٹی چیلنجز پر احسن طریقے سے قابو پالیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں