جنسی زیادتی کے مجرموں کی اب خیر نہیں‘ وفاقی کابینہ نے تاریخی فیصلہ کرلیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام)وفاقی کابینہ نے جنسی زیادتی کے مجرموں کو نامرد کرنے کے قانون اینٹی ریپ آرڈیننس اور تعزیرات پاکستان (ترمیمی) آرڈیننس 2020 کی منظوری دیدی۔کابینہ نے جی20ممالک سے قرضوں کی ری شیڈیولنگ کیلئے معاہدے کرنے، پی ٹی وی کی جانب سے بھارتی براڈکاسٹرز کو کی جانے والی ادائیگی پر این او سی اجراء،اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے قیام اور دیگر فیصلوں کی منظوری دیدی۔وزیراعظم عمران خان نے زیادتی کے مجرمان کیلئے سخت سزاؤں پر کہا کہ ہم نے معاشرے کو محفوظ ماحول دینا ہے، عوام کے تحفظ کیلئے واضح اور شفاف انداز میں قانون سازی ہو گی، یقینی بنایا جائیگا کہ سخت سے سخت قانون کا اطلاق ہو۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزراء سینیٹر شبلی فراز،حماد اظہر اور خسرو بختیار نے کہا کہ نواز شریف، انکے بیٹوں، اسحق ڈار کے پاکستان آنے اور بیگم شمیم اختر کے نماز جنازے میں شرکت پر کوئی قدغن نہیں، کورونا وائرس کی دوسری لہر خوفناک ہوسکتی ہے،ان حالات میں جلسے کرنا ایک سنگین جرم ہوگا،

اسلام آباد کے کچھ ہسپتالوں میں جگہ نہیں مل رہی،گلگت بلتستان میں شفاف اورآزادانہ انتخابات ہوئے ہیں، اپوزیشن کے رہنماشکست تسلیم نہیں کرسکتے،اگر کسی کو شکایات ہیں تو الیکشن کمیشن کے پاس جائے، چینی مافیا کی حوصلہ شکنی کے لیے قانون سازی کی جائے گی جس میں پچاس ہزار کے بجائے 50 لاکھ روپے یومیہ جرمانہ رکھا جائیگا، حکومتی اقدامات سے چند دنوں میں آٹے کا مصنوعی بحران ختم ہوجائے گا۔منگل کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔آئی این پی کے مطابق اجلاس میں وزیر اعظم نے بچوں اور خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کیے جاتے۔اجلاس میں قانونی ٹیم کی جانب سے مجوزہ ریپ آرڈیننس کا مسودہ پیش کیا گیا۔ قانونی ٹیم نے آرڈیننس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خواتین پولیسنگ، فاسٹ ٹریک مقدمات اور گواہوں کا تحفظ مجوزہ قانون کا بنیادی حصہ ہوگا، متاثرہ خواتین یا بچے بلا خوف و خطر اپنی شکایات درج کراسکیں گے،

متاثرہ خواتین و بچوں کی شناخت کے تحفظ کا خاص خیال رکھا جائیگا۔بریفنگ کے بعد وفاقی کابینہ نے مجرمان کی سخت سزاؤں پر مشتمل سفارشات کی اصولی منظوری دے دی تاہم اس قانون میں سزائے موت کو شامل نہیں کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے زیادتی کے مجرمان کیلئے کیسٹریشن (نامرد بنانے)کا قانون لانے کی بھی اصولی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے معاشرے کو محفوظ ماحول دینا ہے، یہ سنگین نوعیت کا معاملہ ہے جس کی قانون سازی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کریں گے، عوام کے تحفظ کیلئے واضح اور شفاف انداز میں قانون سازی ہو گی، یقینی بنایا جائیگا کہ سخت سے سخت قانون کا اطلاق ہو۔بعض وفاقی وزرا نے زیادتی کے مجرمان کو پھانسی کی سزا دینے کو نئے قانون کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا، اعظم سواتی اور نورالحق قادری نے بھی پھانسی کی حمایت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے رائے دی کہ ابتدائی طور پر کیسٹریشن کے قانون کی طرف جانا ہوگا۔تفصیلی غور کے بعدکابینہ نے اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) آرڈیننس2020اور تعزیرات پاکستان (ترمیمی) آرڈیننس 2020 کی اصولی منظوری دیدی۔وزیر قانون و انصاف نے کابینہ کو سرکاری اداروں کے بورڈ آف ڈائیریکٹرزمیں ممبران پارلیمنٹ کی تعیناتیوں سے متعلقہ قوانین کے حوالے سے بریفنگ دی۔

کابینہ نے اس ضمن میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے رہنمائی لینے کا فیصلہ کیا۔کابینہ نے کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے مورخہ 29 اکتوبر و 12 نومبر2020 کو منعقدہ اجلاسوں میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ کابینہ کو سرکاری اداروں میں سی ای اوز اور منیجینگ ڈائریکٹرز کی خالی آسامیوں پر تعیناتیوں کی پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی۔وزیر اعظم کا اس معاملے کوجلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ کابینہ نے نیشنل آرکائیوز ایکٹ کی شق نمبر 3(2) کے تحت نیشنل آرکائیوز کے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی کی منظوری بھی دی۔اکنامک افیئرز ڈویڑن نے کابینہ کو آگاہ کیاکہ اس وقت G20 ممالک کی طرف سے پاکستان کومئی سے دسمبر 2020 کے عرصے تک کے لیے دیے گئے قرضوں میں 1.7 سے 2 ارب ڈالر کی ادایئگیاں موخر کر دی گئی ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی کی موخری کا فیصلہ اور سہولتG20 نے کرونا وبا ء کی وجہ سے فراہم کی ہے جو جون 2021تک موثر رہے گی۔کابینہ نے سیکریٹری اکنامک افیئرز ڈویڑن کو G20تنظیم کے 16 ممالک سے قرضوں کی ری شیڈیولنگ کے لیے معاہدے کرنے کی اجازت دی جبکہ کابینہ نے وزارت کامرس کو پاکستان ٹیلیویڑن پر کھیلوں کی نشریات کی مد میں بین الاقوامی ٹی وی چینلز کو ادایئگیوں کے لیے این او سی جاری کرنے کی اجازت دی۔کابینہ نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن پر احکامات کے حوالے سے وزارت اطلاعات و نشریات کو کووناء وبا کے بارے موثرآگاہی مہم چلانے کی ہدایت جاری کی۔

کابینہ نے نیشنل بک فاونڈیشن کے بورڈ آف گورنرز پر تعیناتیوں، نیشنل بک فاونڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تعیناتی بھی منظوری دی۔کابینہ نے سول ایویشن رولز1991میں ترامیم کا معاملہ کابینہ کمیٹی برائے قانون کے سپرد کرنے کی اجازت دی جبکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مورخہ 16نومبر 2020 کو منعقدہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں، کمیٹی برائے توانائی کے 19نومبر 2020 کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کابینہ نے اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے قیام کی اصولی منظوری دی۔ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز ابتدائی طور پر پشاور، اسلام آباد، لاہور اور ہری پور میں قائم کیے جایں گے۔ کابینہ نے کراچی اور کوئٹہ میں بھی ان زونز کے قیام کی منظوری دی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان میں آئی ٹی کا وسیع پوٹینشل موجود ہے جسے بروئے کار لانا لازمی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی جدید دور میں ترقی کا زینہ ہے۔وزیر اعظم نے ملک بھر میں 50 ٹیکنالوجی زونز بنانے کی ہدایت کی۔ وفاقی وزیر امین الحق نے کابینہ اجلاس میں کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر سست روی کا معاملہ اٹھایا جس پر وزیراعظم نے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر جمعرات کو اعلی سطح کا اجلاس بلانے کی ہدایت کردی۔کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزراء سینیٹر شبلی فراز،حماد اور مخدوم خسروبختیار نے مشترکہ طور پر میڈیا کو بریفنگ دی۔

وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ملک میں خواتین کے ساتھ ریپ کے واقعات کی ایک لہر اٹھی ہے اور وفاقی کابینہ نے ریپ کے واقعات کی روک تھام پر غور کیا ہے،ریپ اور گینگ ریپ کے ملزمان کو اکثر رہائی مل جاتی ہے تاہم وزیر اعظم نے سخت سے سخت قانون کے اطلاق کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ریپ کے ملزمان کے خلاف سخت سزاؤں کے آرڈیننس کی منظوری دے دی، امید ہے ریپ کے ملزمان کے خلاف قانون کا مسودہ جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف کو 5دن کے لیے پیرول پر رہائی سے متعلق کچھ دیر میں تصدیق ہوجائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین اور سمدھی اسحق ڈار کے پاکستان آنے اور بیگم شمیم اختر کے نماز جنازے میں شرکت پر کوئی قدغن نہیں ہے۔شبلی فراز نے ملک میں کورونا وائرس سے بڑھتے ہوئے کیسز سے متعلق کہا کہ جب ہم نے کورونا سے متعلق خبردار کیا تو اپوزیشن نے ایسے سیاسی حربہ قرار دیا، کورونا وبا کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، کورونا وائرس کی دوسری لہر خوفناک ہوسکتی ہے،

کورونا کی پہلی لہر سے نکل گئے تھے لیکن وبا کی دوسری لہر کے بارے میں بہت زیادہ سنجیدہ ہونا پڑے گا،ان حالات میں جلسے کرنا ایک سنگین جرم ہوگا۔شبلی فراز نے اپوزیشن کو مخاطب کرکے زور دیا کہ وہ بھی سن لیں اسلام آباد کے کچھ ہسپتالوں میں جگہ نہیں مل رہی۔گلگت بلتستان الیکشن کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات کاکہنا تھا کہ اپوزیشن کے رہنماشکست تسلیم نہیں کرسکتے،گلگت بلتستان میں شفاف اورآزادانہ انتخابات ہوئے ہیں،پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں شرپسندی کر رہی ہے،وہاں گاڑیوں کو آگ لگائی گئی اس کی مذمت کر تے ہیں،جلا گھیرا میں ملوث افراد کے خلاف مقدمے درج ہوں گے،سیاسی جماعتیں ٹینشن کا ماحول پیداکریں گی تو عوام کی کوئی خدمت نہیں ہوگی،جب یہ ہار جائیں تو دھاندلی ہوئی اور جیت جائیں تو الیکشن ٹھیک ہیں،اگر کسی کو شکایات ہیں تو الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے پاس جائے۔اس موقع پر وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ چینی مافیا کی حوصلہ شکنی کے لیے قانون سازی کی جائے گی جس میں پچاس ہزار کے بجائے 50لاکھ روپے یومیہ جرمانہ رکھا جائیگا،

زراعت ایک بہت بڑاشعبہ جس میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور اس وقت ‘شوگر ریفارم کمیٹی بھی اپنا کام کررہی ہے۔حماد اظہر نے چینی کی قیمتوں میں کمی سے متعلق دعوی کیا کہ ایکس مل ریٹ اور ہول سیل ریٹ میں گزشتہ 10روز کے دوران 10سے 12روپے فی کلو کی کمی آئی ہے۔یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی 68 روپے کلو دستیاب ہے۔وزیر صنعت و پیداوار نے مارکیٹ ماہرین کا حوالہ دے کر امید ظاہر کی کہ آئند دنوں میں چینی کی قیمتوں میں مزید کمی آئیگی۔ اگلے چند ہفتوں تک درآمدی چینی کی سپلائی جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ ملک بھر کے کسانوں کو گنے کی پوری قیمت ملے اور اس ضمن میں صوبائی حکومتوں نے بھی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی شوگر ملز مکمل گنجائش کے قریب آگئی ہیں جبکہ پنجاب میں 10 نومبر سے گنے کی کرشنگ شروع ہوگی۔

وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق خسرو بختیار نے کہا ہے کہ 22لاکھ ٹن گندم کی کمی کو درآمد کے ذریعے پورا کیا جارہا ہے اور اسی بنیاد پر قیمتیں کم ہونا شروع ہوگئیں ہیں، نومبر کے آخری ہفتے میں 2لاکھ 95ہزار میٹرک ٹن گندم سے درآمد کی جائے گی، دسمبر میں 4لاکھ 45ہزار میٹرک ٹن، جنوری میں 4 لاکھ 55 ہزار میٹرک ٹن اور فروری میں 3 لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن اور مارچ میں ایک لاکھ 65 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ گندم کی سپلائی کا عمل متاثر ہونے سے مشکلات کا سامنا ہے تاہم حکومتی اقدامات سے چند دنوں میں آٹے کا مصنوعی بحران ختم ہوجائے گا۔خسرو بختیار نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کے دور میں گندم کی امدادی قیمت 13سو رہی جبکہ موجودہ حکومت امدادی قیمت کو 16سو 50روپے پر لائی تاکہ زمیندار اور کسان دونوں کو فائدہ پہنچے۔

Sahafe.com.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں