تھلیاں ہاؤسنگ منصوبہ ختم ہو گیا، قائمہ کمیٹی میں انکشاف‘ ارکان کمیٹی صوبوں میں موجود وفاقی لاجز کی حالت زار پر پھٹ پڑے

اسلام آباد(مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو وزارت ہاؤسنگ حکام نے آگاہ کیا ہے کہ تھلیاں ہاؤسنگ منصوبہ ختم ہو گیا ہے،گرین انکلیوون بھارہ کہو منصوبہ دسمبر 2022میں مکمل ہوگا جبکہ کشمیر ایونیو اپارٹمنٹس منصوبہ جون 2023،چکلالہ ہائیٹس، چکلالہ سکیم 3 کا منصوبہ ستمبر 2023 اور سکائی لائن اپارٹمنٹس منصوبہ جون 2023تک مکمل ہو گا ، ارکان کمیٹی صوبوں میں موجود وفاقی لاجز کی حالت زار پر پھٹ پڑے، ارکان کمیٹی نے کہا کہ قصر ناز میں بہت مسئلے ہیں دو دفعہ بجلی کاٹ دی گئی، وہاں کتوں کی بھرمار ہے، کوئٹہ کے لاجز انسانوں کے رہنے کے قابل ہی نہیں ، خیبر پختونخوا کے وفاقی لاجز کا نہ کوئی بجلی کا بل دے رہا نہ گیس کا بل دے رہا ہے، وہاں گیس اور بجلی کاٹی ہوئی ہے، چیئرمین کمیٹی نے صوبوں میں موجود وفاقی لاجز کے مسائل کے جائزے کے لئے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس چیئرمین کمیٹی نجیب ہارون کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران قصرناز کی خراب حالت کا معاملہ زیر بحث آیا، رکن کمیٹی سید محمود شاہ نے کہا کہ قصر ناز میں بہت مسئلے ہیں دو دفعہ بجلی کاٹ دی گئی، وہاں کتوں کی بھرمار ہے، کوئٹہ کے لاجز انسانوں کے رہنے کے قابل ہی نہیں ہے،سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے کمیٹی کہا کہ قصر ناز اور چنبہ ہاؤس کو آؤٹ سورس کر رہے ہیں، قصر ناز اور چنبہ ہاؤس دونوں نقصان میں جا رہے ہیں، قصر ناز میں سالانہ دو کروڑ کا نقصان کر رہے ہیں، چیئرمین کمیٹی نے صوبوں میں موجود وفاقی لاجز کے معاملے پر ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔ اجلاس میں اسلام آباد کے سیکٹر ایف 14اور پندرہ سے متعلق بھی بریفنگ دیتے ہوئے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی حکام نے کہا کہ ایف 14اور پندرہ کی 2016میں ہی الاٹمنٹس ہو گئیں تھیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پلاٹ یا گھر کا قبضہ کتنے لوگوں کو دیا گیا، جس پر حکام نے بتایا کہ چھ ہزار تین سو کے قریب پلاٹ تھے جو 2016میں الاٹ کر دیئے تھے، اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ تھلیاں ہاؤسنگ منصوبہ ختم ہو گیا ہے، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو کام ہوا اس میں پیسے تو لگے ہوں گے؟ جس پر حکام نے کہا کہ کچھ کام نہیں ہوا، فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گرین انکلیوون بھارہ کہو منصوبہ دسمبر 2022میں مکمل ہوگا جس کی لاگت8.8ارب ہے، کشمیر ایونیو اپارٹمنٹس منصوبہ جون 2023تک مکمل ہو جائے گاجس کی لاگت 14.2ارب روپے ہے، چکلالہ ہائیٹس چکلالہ سکیم 3 کا منصوبہ ستمبر 2023 تک مکمل ہو گا، جس کی لاگت 26.63ارب روپے ہے، نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کے قریب سکائی لائن اپارٹمنٹس کا منصوبہ جون 2023تک مکمل ہو گا جس کی لاگت 27.61ارب روپے ہے، حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سب سے کم قیمت کا اپارٹمنٹ 50لاکھ کا ہے، رکن کمیٹی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ ایک ایسا آدمی جس کے خاندان کی آمدن 60 ہزار روپے ہو میں نہیں سمجھتا وہ اس اپارٹمنٹ کے لئے کوالیفائی کر سکتا ہے ،سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے کہا یہ کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے گھر ہیں،نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی وزرات کے ماتحت نہیں ہے، اس میں سب سے کم قیمت والے گھر 27لاکھ کے ہوں گے، دوسری سلیب 60لاکھ ہے،50لاکھ گھروں میں یہ ذکر نہیں تھاکہ یہ کم لاگت کے گھر ہوں گے، وہ گھر تمام سطح کے ہیں، صرف کم لاگت کے نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں