بھارت نے کشمیریوں پر ظلم کی انتہا کر دی!

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک‘ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام)مقبوضہ وادی میں کرفیو اور پابندیاں 46ویں روز میں داخل ہوگئیں ہیں۔بھارتی سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود وادی سے کرفیو نہیں ہٹایا گیا۔قابض فوج نسل کشی میں مصروف ہے۔بچے اسکول نہیں جا رہے، روزگار تقریبا ختم ہوچکا ہے، لاکھوں لوگ گھروں میں قید ہیں اور انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ پہلے ہی وادی میں کرفیو ہٹانے کا حکم دے چکی ہے لیکن اِن سب کے باوجود مودی سرکار کی ہٹ دھرمی برقرار ہے مسلسل کرفیو کے باوجود مظاہرے اور جگہ جگہ احتجاج جاری ہے۔بھارتی فوج طاقت کے زور پر کشمیریوں کی آواز دبانے میں مصروف ہے۔ ہر گلی اور سڑک پر بھارتی فوج تعینات ہے، کشمیریوں کو گھروں سے نکلنے نہیں دیا جا رہا، مارکیٹ، دکانیں، ٹرانسپورٹ بند ہیں، کمیونی کیشن سسٹم بند جبکہ ٹی وی چینلز تک رسائی نہیں، مودی سرکار بھارتی سیاسی رہنماں کو بھی وادی کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ مقبوضہ کشمیرمیں قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی کو آج سرینگر میں انکی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرنے کی اجازت نہیں دی۔مواصلاتی پابندیوں کے باعث سیدعلی گیلانی نے مراسلوں کے ذریعے صحافیوں کو اپنی رہائش گاہ پر بلایاتھا۔ تاہم جب صحافی ان کی رہائش گاہ پہنچے تووہاں پر پہلے سے تعینات بھارتی پولیس اہلکاروں نے انہیں اندر جانے سے روک دیا اور واپس جانے کیلئے کہا۔سیدعلی گیلانی 2010سے مسلسل گھر میں نظربند ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں