بھارتی آبی جارجیت حد سے بڑھ گئی

انٹرویو:احمد جمال نظامی:::::
سندھ طاس واٹرکونسل کے چیئرمین حافظ ظہورالحسن ڈھیر نے کہا ہے کہ بھارت اپنی جارحیت جاری رکھتے ہوئے دریائے ستلج پر 38سو کلومیٹر لمبی نہر بنا کر سارا پانی اس میں منتقل کر کے 50بڑے اور 240چھوٹے ڈیمز بنانے جا رہا ہے۔ گلیشیئرز کا پانی روک کر اس پانی میں منتقل کرنا چاہتا ہے۔ دریائے سندھ سے بھی ایک نہر نکال کر اس کا پچاس فیصد پانی اس میں منتقل کر کے برہم پترا ڈیم بنانے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ کارگل سے 20کلومیٹر اوپر بھی ایک نہر نکال کر کارگل میں دنیا کا دوسرا بڑا ماڈل ڈیم بنا کر اسے 2028ء تک مکمل کرنا چاہتا ہے۔ بھارت مذاکرات کی آڑ اور ہائیڈروپاور پراجیکٹس کا جھانسہ دے کر پاکستان کو عالمی عدالت انصاف میں جانے سے روکنا چاہتا ہے۔ بھارت کی آبی جارحیت سندھ طاس معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے۔ معاہدے کے تحت بھارت 10ہزار کیوسک سے زیادہ پانی سٹور نہیں کر سکتا لیکن لاکھوں کیوسک پانی سٹور کر رہا ہے۔ بگلہیار ڈیم کے فیزIII پر بھی ہٹ دھرمی سے کام شروع کر چکا ہے۔ 1972ء میں بھی بھارت نے سلال ڈیم بنا کر سٹوریج کا جھانسہ دیا تھا جس میں آج دو لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی سٹور کیا جا رہا ہے حکومت کو فوری طور پر بھارتی آبی جارحیت کے خلاف عالمی عدالت انصاف کا رخ کرنا ہو گا۔ ملک میں زیادہ سے زیادہ آبی ذخائر تعمیر کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ حافظ ظہور الحسن ڈھیر نے بتایا کہ بھارت دریائے چناب پر 23 جبکہ دریائے جہلم پر 52 ڈیم بنا رہا ہے۔ افغانستان میں لداخ کے مقام پر 12ڈیمز کی صورت میں دریائے کابل کے پانی کو روک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھارتی آبی جارحیت کا حل پاک بھارت مذاکرات میں نہیں ہے بھارت ان مذاکرات کی آڑ لے کر پاکستان کو صرف اور صرف عالمی عدالت انصاف میں جانے سے روکنا چاہتا ہے کیونکہ بھارتی آبی جارحیت پر اب عالمی بینک بھی اپنے موقف سے دستبردار ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دریائے چناب پر دراصل بھارت چالیس ڈیمز بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ دریائے سندھ پر 190ڈیم بنانے جا رہا ہے۔ دریائے ستلج کے پانی کو 38سو کلومیٹر لمبی اور بڑی نہر نکال کر اس پر 50بڑے اور 240چھوٹے ڈیم بنانے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ گلیشیئر کا پانی روک کر اس نہر میں ہی شامل کرنا چاہتا ہے۔ دریائے سندھ کا بھی پچاس فیصد پانی روک کر ایک نہر دریائے سندھ سے نکال کر دریائے برہم پترا میں شامل کر رہا ہے۔ کارگل سے 20کلومیٹر اوپر بھی بھارت ایک نہر نکال رہا ہے۔ کارگل میں بھارت دنیا کا دوسرا بڑا ماڈل ڈیم بنانے جا رہا ہے جو 2028ء میں مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں جس پر صرف اور صرف مذاکرات کی آڑ لے کر سازشوں کو بڑھایا جا رہا ہے۔ پکل ڈل ڈیم بگلہیار ڈیم کے برابر تعمیر کیا جا رہا ہے جس پر پاکستان کے شدید احتجاج اور تحفظات کے بعد بھارت کی طرف سے روایتی انداز میں مذاکرات کا ڈرامہ رچایا گیا تاکہ عالمی عدالت انصاف کے دروازے پر دستک نہ دی جا سکے۔ اس ڈیم کی صورت میں بھارت روزانہ آٹھ ہزار کیوسک پانی جمع کر سکے گا۔ بھارت دریائے چناب کو بالکل ختم کر دینا چاہتا ہے۔ ہمارے پاس عالمی عدالت انصاف کے علاوہ کوئی حل نہیں۔ عالمی عدالت انصاف میں جانے سے روکنے کے لئے بھارتی مذاکراتی ڈرامے کو رد کر دینے کا وقت آ چکا ہے کہ بھارت مذاکرات اور ہائیڈرو پراجیکٹس کی آڑ میں ہمیں جھانسہ دے رہا ہے اور پانی کی سٹوریج کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے حالانکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت پانی سٹور نہیں کر سکتا وہ صرف دس ہزار کیوسک پانی سٹور کر سکتا ہے۔ پکل ڈل ڈیم میں بھارت دو لاکھ کیوسک پانی سٹور کرے گا جو کہ کھلم کھلا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ مرالہ ڈیم سے 20کلومیٹر اوپر 1972ء میں بھی بھارت نے سلال ڈیم بنایا تھا تب بھی ہائیڈرو پراجیکٹ کا جھانسہ دیا گیا تھا۔ سلال ڈیم میں بھی دو لاکھ سے زائد کیوسک پانی جمع ہو رہا ہے۔ بگلہیار ڈیم فیزI اور فیزII پر معاہدوں کی خلاف ورزی کے تحت کام مکمل کرنے کے بعد بھارت فیزIII بنا رہا ہے جس پر ہماری حکومت کو فوری طور پر عالمی عدالت انصاف کے دروازے پر دستک دینی ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں