ایف بی آر حکام کی ڈوریاں کہیں اور سے ہلائی جارہی ہیں،سرینا عیسیٰ کا انکشاف!

اسلام آباد(مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام)سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا نے حکومت اور ایف بی آر کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر کے ساتھ ملکر غیر قانونی معلومات اکٹھی کرنے والے شخص ذوالفقار احمد کومیرے کیس میں کمشنر انکم ٹیکس آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔آن لائن کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے مجھے 2 نوٹسز موصو ل ہوئے ہیں جن کی زبان الگ الگ استعمال ہوئی ہیں اور دونوں پر دستخط کمشنر انکم ٹیکس آفیسر ذوالفقار احمد کے ہی ہیں وضاحت مانگے پر تاحال جواب نہیں دیا گیا، کوئی شک نہیں کہ ایف بی آر افسران نہ صرف اپنی ساکھ کھو چکے ہیں بلکہ خود مختاری سے کام کرنے کی صلاحیت سے بھی عاری ہیں اور صاف نظر آ رہا ہے کہ کارروائی کے لئے کہیں اور سے ڈوریاں ہلائی جارہی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ایف بی آر کو لکھے گئے دوسرے خط میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی آزادی اور خودمختاری پر ایک بار بھی سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنے تحریری بیان کے ساتھ ایف بی آر کو جواب الجواب میں جمع کروایا گیا دس صفحات کا جواب بھی منسلک کیا ہے جس میں اپنے کیس پر کام کرنے والے ایف بی آر افسران کے ماضی قریب میں ایسٹ ریکوری یونٹ کے ساتھ کام کرنے کی کڑیاں تفصیلات کے ساتھ بیان کر کے مبینہ طور پر حکومت اور ایف بی آر کے گٹھ جوڑ اور بدنیتی کو بھی بے نقاب کیا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے کہا کہ انہوں نے 21 جولائی 2020 کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر اپنا جواب الجواب جمع کروایا ہے۔ انہوں نے انکم ٹیکس کمشنر سے اپنے جواب الجواب میں وہ 12 نکات پر تفصیلات دوبارہ مانگیں جو انہوں نے اپنے 9 جولائی 2020 کے جواب میں بھی مانگی تھیں لیکن ابھی تک وہ ان سوالوں کے جواب کی منتظر ہیں۔رپورٹ کے مطابق جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے انکشاف کیا ہے کہ ایف بی آر کے جس انکم ٹیکس کمشنر ذوالفقار احمد کے سامنے پیش ہو رہی ہیں یہی موصوف ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ بیرسٹر شہزاد اکبر کے ساتھ مل کر غیر قانونی طور پر میرے خلاف ایف بی آر سے معلومات اکٹھی کیں اور اب یہی موصوف انکم ٹیکس کمشنر بن کر مجھے نوٹس بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار احمد صدارتی ریفرنس دائر کرنے سے قبل ایسٹ ریکوری یونٹ کا حصہ تھے اور ایف بی آر سے مسز سرینا عیسیٰ اور ان کے بچوں کی معلومات انہوں نے ہی حاصل کی تھیں جو بعد میں صدارتی ریفرنس میں استعمال کی گئیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے کہا کہ ایف بی آر سے اپنے جمع کروائے گئے ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات طلب کی تھیں جو وہ اپنے مرحوم ٹیکس ریٹرن فائلر ریحان حسن نقوی کے ذریعے ایف بی آر کو سالوں تک جمع کرواتی رہی ہیں۔میرے ٹیکس ریٹرن کی کاپی نہ دینا بہت پریشان کن ہے کیونکہ ایف بی آر مجھ سے ان ٹیکس ریٹرنز کا جواب مانگ رہا ہے جو میں نے جمع نہیں کروائے تھے کیونکہ اس وقت میری کوئی قابل ٹیکس آمدن نہیں تھی اور ایسے گوشواروں کی بنیاد پر جواب مانگنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے خلاف کچھ گھڑا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے حکام کو آگاہ کر چکی ہوں کہ سپریم کورٹ میں مختصر فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیل داخل کررکھی ہے جس میں ایف بی آر کے متعلقہ افسران محّمد اشفاق احمد، ذوالفقار احمد، ضیا احمد بٹ، منظور احمد کیانی،فروغ نسیم اور شہزاد اکبر پر سنگین الزامات ہیں۔ 18 پیراگرافس پر مشتمل الزامات کے لئے انہوں نے ایف بی آر اور حکومت کی جاری کردہ دستاویزات پر ہی انحصار کیا ہے لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے مزید بتایا کہ مجھے دو نوٹسز بھجوائے گئے ہیں لیکن دونوں کی زبانوں میں فرق ہے لیکن دستخط دونوں پر ایک ہی شخص ذوالفقار احمد کے ہیں اس پر وضاحت مانگی تو کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جواب نہ دینا ظاہر کرتا ہے کہ کارروائی کے لئے کسی سے ہدایات لی جارہی ہیں اور ایف بی آر افسران نہ صرف اپنی ساکھ کھو چکے ہیں بلکہ خود مختاری سے کام کرنے کی صلاحیت سے بھی عاری ہیں

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں