اپوزیشن کی اے پی سی نے انکوائری کمیشن مستر د کر دیا، پارلیمنٹ پرحملہ قرار، 25جولائی کو یوم سیاہ منانے کا فیصلہ‘مزید جانیے!

اسلام آباد(مانیٹرنگ نیوز‘ صحافی ڈاٹ کام‘ ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ25 جولائی کو دھاندلی زدہ الیکشن کیخلاف یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا گیا جس دوران اپوزیشن کے مشترکہ جلسے ہوں گے،سیاسی جماعتیں پارلیمان کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج جاری رکھیں گی، وزیراعظم کا قرضوں کے خلاف انکوائری کمیشن مستر د کرتے ہوئے اسے پارلیمنٹ پرحملہ قراردیدیا گیاہے،رہبرکمیٹی نئے چیئرمین سینیٹ کیلئے متفقہ امیدوارلائے گی،پارلیمانی نظام حکومت،18ویں ترمیم کیخلاف کوششوں کی مذمت کی گئی۔آئی این پی کے مطابق بدھ کو آٹھ گھنٹے طویل جاری رہنے والے اے پی سی کے اجلاس کے بعد جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے ہمرا ہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اے پی سی کے اجلاس نے بجٹ کو عوام تاجر اور صنعت دشمن قرار دیکر مسترد کردیا ہے،بجٹ کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج جاری رکھے گی،پہلے مرحلے میں تمام سیاسی جماعتیں رائے عامہ ہموار کریں گی، وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو ممبران کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں،ججز کے خلاف ریفرنسز ختم کئے جائیں، لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قانون سازی کی جائے،جو لوگ سکیورٹی اداروں کے ہاس ہیں ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو پولنگ اسٹیشنز میں تعینات کرنے کی مخالفت کرتے ہیں،فوج کو پولنگ اسٹیشنوں کے اندر تعیناتی کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے،آئین اور سول بالا دستی کو برقرار رکھا جائے۔ اجلاس نے مطالبہ کیا ہے عدلیہ کے ججز کیخلاف ریفرنس واپس لیا جائے،سوموٹو اختیارات پر قانون سازی کی جائے،لاپتہ افراد کی بازیابی کیلیے قانون سازی کی جائے،جو لوگ سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے،قبائلی علاقہ جات اور کے پی کے میں حراستی سینٹرز کو بند کئے جائیں، میڈیا اعلانیہ اور غیر اعلانیہ پابندی کی مخالفت کرتے ہیں،موجودہ احتساب کے عمل کی مخالفت کرتے ہیں،احتساب کا عمل منصفانہ کیا جائے،اجلاس نے انکوائری کمیشن کو مسترد کیا،حقائق سامنے لانے کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے،کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے شامل کئے جائیں، انہوں نے کہا کہ این ڈی سی غیر قانونی ادارہ ہے اسے ختم کیا جائے، اجلاس نے پچیس جولائی کو دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف یوم سیاہ منانے،کل رہبر کمیٹی تشکیل دینے،سینٹ چیئرمین کو عہدے سے ہٹانیکا فیصلہ کیا ہے،نواز شریف تک ذاتی معالج کی رسائی نہ دینے کی مخالفت کرتے ہیں،نواز شریف تک ذاتی معالج کی رسائی دی جائے۔ جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہاکہ اے پی سی مشترکہ اجلاس میں مطالبہ کیا ہے کہ اداروں کو ملکی سیاست میں مداخلت بندکی جائے،قرضہ کمیشن کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیا ہے،ایک پارلیمانی کمیٹی بناکر 2000 سے اب تک کے قرضوں کی تحقیقات کرائی جائے، الیکشن کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی سے استعفے دے۔ انہوں نے کہا کہ کل جماعتی رہبر کمیٹی قائم کردی گئی،چیئرمین سینیٹ کو آئین و قانون کے تحت ہٹاکر نئے چیئرمین کے تقرر کا فیصلہ رہبر کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے،قانون کے مطابق نواز شریف کے ساتھ ملاقاتیں کرائی جائیں، صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں،آصف زرداری، نواز شریف سمیت تمام اسیران کی زندگی اور بنیادی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔ جبکہ فرحت اللہ بابر نے کہاکہ رہبر کمیٹی کا کام آج کے فیصلوں پر عملدرآمد کرے گی اور نئے چیئرمین سینٹ کے نام تجویز کرے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں