الیکٹرونک میڈیا اوراخبارات اچانک حکومت کے حق میں کیسے ہو گئے،جانیئے اندر کی تہلکہ خیز کہانی

اسلام آباد:(خصوصی رپورٹ)پچیس جولائی کو انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعدحکومت کے خلاف الیکٹرونک میڈیا اور اخبارات نے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا جس پر تحریک انصاف کا سوشل میڈیا کے ذریعے یہ موقف سامنے آ رہا تھا کہ سابقہ حکومتوں کی طرح قومی خزانے سے بے دریغ فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے اشتہارات نہ دینے کے باعث پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا جان بوجھ کر حکومت کے خلاف سنسنی پھیلا رہا ہے جو کہ در حقیقت بلیک میلنگ ہے اس موقف پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی لیکن اچانک وفاقی وزیر خزانہ سے میڈیا کے ناخدا ملے مگر اسد عمر نے ان کے اشتہارات حاصل کرنے کے مطالبے پر واضح کیاکہ حکومت کی جو مالی پوزیشن ہے وہ اسکی متحمل نہیں ہو سکتی ،وزیر خزانہ کے اس انکارکے بعد پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر حکومت کی مزید مخالفت شروع ہو گئی تا ہم گزشتہ روز اے پی این ایس ،سی پی این ای،اور پی بی اے کا اعلیٰ سطحی وفد وزیر اعظم عمران خان کے پاس جا پہنچا اور میٖڈیا انڈسٹری کی بحران کا رونا رویا جس پر وزیر اعظم نے کہا کہ میڈیا اہمیت کو ان سے زیادہ کون سمجھتا ہے وہ آج جس مقام پر ہیں اس میں میڈیا کا اہم کردار ہے وزیر اعظم نے میڈیا انڈسٹری کے بحران کو حل کرنے کی یقین دہانی کروائی یعنی کہ اشتہارات کی مد میں کچھ اضافہ ہو سکتا ہے وزیر اعظم سے اس ملاقات کے بعد دیکھنے میں آیا کہ تمام ٹاک شوز پر اینکرز نے تحریک انصاف کی حکومت کی نا صرف تعریفیں شروع کر دیں بلکہ تلاش کر کر کے حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف کی ,کامران خان ،شاہ زیب خانزاداہ اور دیگر معروف اینکرز حکومت کی تعریف میں مصروف ہو گئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے ملک کی میڈیا انڈسٹری کا یہی نظریہ ہے کیونکہ سی پی این ای تمام ایڈیٹرز ،اے پی این ایس تمام اخباری مالکان اور پاکستان براڈ کاسٹرزایسوسی ایشن (پی بی اے)تمام ٹی وی مالکان کی تنظیمیں ہیں اور وہ صرف وزیر اعظم کی ایک یقین دہانی پر ڈھیر ہو گئے ہیں ان کا آزادی صحافت کا نظریہ بھی اب کہیں نظر نہیں آ رہا جبکہ دوسری طرف یہ تلخ حقیقت ہے کہ میڈیا مالکان کروڑوں اربوں پتی ہیں لیکن ہر صحافتی ادارے میں کارکنوں کا اسحصال کیا جاتا ہے ،کم تنخواہیں دینے کے علاوہ ان کی عزت تک محفوظ نہیں رہتی حالیہ صورتحال نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے ملک میں شعبہ صحافت سے ایڈیٹر کا شعبہ عملی طور پر ختم ہو چکا ہے ،صحافتی کارکن اب بھی چیف جسٹس کی طرف دیکھ رہے ہیں اور سوال کر رہے ہیں کہ ان کو ان کی کئی کئی ماہ سے رکی ہوئی تنخواہیں کب دی جائیں گی میڈیا کا حالیہ یوٹرن پاکستان میں صحافت کی تنزلی کا بد ترین ثبوت ہے جو ثابت کرتا ہے کہ میڈیا مالکان کو صرف اور صرف اپنی آمدن سے غرض ہے لیکن چند اداروں کی اجارہ داری کے برعکس یاتو ڈمی اخبارات کو کرپشن کے زریعے سرکاری اشتہارات کی بندر بانٹ کی جاتی ہے اور بہت سارے اصل ورکنگ ایڈیٹرز کو ان اداروں کی آشیرباد پر حکومتی متعلقہ ادارے بھی نظر انداز کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے اصل اور نظریاتی اصولوں پر مبنی صحافت پاکستان میں دم توڑتی جا رہی ہے کہ کوئی ورکنگ جرنلسٹ اپنا اخبار یا ٹی وی نکالنے کا سوچ بھی نہیں سکتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں