آگ لگی یا لگائی گئی؟سانحہ بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر آگئی!جانیے جگر چیر دینے والے تہلکہ خیز انکشافات!

کراچی (مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام)سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ فیکٹری میں آتشزدگی کا واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ 20کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی گئی تھی نجی ٹی وی کے مطابق سانحہ بلدیہ فیکٹری کی 37صفحات پرمشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کا واقعہ نہیں تھا بلکہ دہشت گردوں نے 20کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی تھی۔رپورٹ میں پولیس کی غیر ذمہ دارانہ تفتیش میں نقائص کی سنگین خامیاں بھی سامنے آئیں ہیں، جے آئی ٹی ٹیم نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کے کیس میں پولیس کا کردار غیر ذمہ دارانہ قرار دیا گیا ہے۔آئی این پی کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں پولیس مکمل ناکام دکھائی دی اور پولیس دہشتگردی کے المناک سانحے کے اصل کرداروں کو بچاتی دکھائی دی۔جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے سفارش کی ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری میں ملوث کرداروں کو بیرون ملک سے لایا جائے اور ملزمان کے پاسپورٹ ضبط کرکے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے جائیں۔جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے سفارش کی کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کے گواہان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ رپورٹ پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کے دستخط موجود ہیں۔یاد رہے کہ کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاون میں 11 ستمبر 2012 کو خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں ڈھائی سو کے لگ بھگ ملازمین جل کر خاکستر ہوگئے تھے

۔Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں