ZIM

بشکریہ۔۔۔روز نامہ دنیا
تحریر۔۔۔رؤف کلاسرا
فیس بک پر شاہین قریشی صاحب کی وال پر ظفراقبال مرزا کی لاہور میں وفات کی خبر پڑھی تو ماضی کی یادوں کا ایک دریچہ کھل گیا۔ نئی نسل ان کے نام تک سے واقف نہیں ہوگی۔ سب انہیں ان کے نام کے مخفف ZIM سے جانتے تھے۔
بعض لوگ آپ کو پہلی دفعہ زندگی میں ملتے ہیں۔ وہ جانتے تک نہیں کہ آپ کون ہیں‘ لیکن پھر بھی پتہ نہیں انہیں کون سا ایسا خیال آتا ہے کہ وہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دفتر لے جاتے ہیں اور ایک لمحے میں آپ کی زندگی بدل دیتے ہیں۔میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔
1993ء کا ذکر ہے‘ ملتان میں مظہر عارف فرنٹیئر پوسٹ کے بیوروچیف تھے اور ان کا صحافت میں بڑا نام تھا۔ اگر مظہر عارف سے نہ ملتا اور چند ماہ ان کے دفتر میں انٹرن شپ نہ کی ہوتی تو میں آج صحافی نہ ہوتا۔ انہیں دیکھ کر مجھے لگا تھا کہ میں صرف یہی کام کرنے کے لیے پیدا ہوا ہوں۔ ایک ایماندار اور محنتی‘ صحافی مظہرعارف‘ اگر میں آج بھی صحافت میں کچھ اصولوں‘ ضابطوں پر عمل کرپایا ہوں یا رپورٹر بن پایا تو اس میں مظہرعارف سے لے کر ضیا الدین اور شاہین صہبائی سے ناصر ملک تک‘ سب کا بڑا ہاتھ ہے۔ خوش قسمت رہا کہ ایسے بڑے صحافیوں کے ساتھ کام کیا ‘ بہت سیکھا اور ہاں ڈانٹ بھی کھائی۔ ایک دفعہ ملتان میں مظہر عارف کی کسی سخت بات پر میں نے سوچا اب میں نے نہیں بننا صحافی۔ نعیم بھائی کے پاس بہاولپور گیا تو وہ مجھے گھنٹوں سمجھاتے رہے کہ مظہرعارف دل کے کتنے خوبصورت انسان ہیں۔ استادوں کی ہر بات برداشت کرنا پڑتی ہے‘ کئی جنگل عبور کرنے پڑتے ہیں‘ دریا تیرنے پڑتے ہیں اور پھر جا کر نروان ملتا ہے۔ میری بدقسمتی‘ تین ماہ بعد ہی فرنٹیئرپوسٹ کا بیوروآفس ملتان سے بند ہوگیااور میں سڑک پر آ گیا۔ ابھی تو سفر شروع ہی نہیں ہوا تھا۔ خیر ملتان کے کئی دوستوں شکیل انجم‘ جمشید رضوانی‘ ظفر آہیر‘ عبدالستارقمر‘ خالد شیخ‘ طاہر ندیم‘ شوکت اشفاق‘ سجاد جہانیہ اور دیگر کے ساتھ صحافت شروع کی۔
1996 ء میں مجھے بیکار دیکھ کر ایک دن میری یونیورسٹی کے سینئر ضیغم خان‘ جو اُس وقت ہیرالڈ میگزین میں اپنا نام اور مقام بنا چکے تھے‘ نے مجھے کہا ‘ لاہور جا کر کوشش کرو۔ ڈان لاہور میں محمود زمان بھی تھے‘ انہیں مظہر عارف نے فون کیا کہ اگر ڈان ملتان کے لیے کوئی جگہ بنتی ہو تو رئوف کو ایڈجسٹ کرا دو۔ انہی دنوں لاہور پریس کلب کے صدر ہما علی سے بھی ملا کہ شاید فرنٹیئر پوسٹ میں جگہ مل جائے۔ خیر‘ محمود زمان نے لاہور ڈان کے ایڈیٹر طاہر مرزا سے بات کی۔ مرزا صاحب نہ مانے۔ اس دوران ضیغم خان نے لاہور میں ہیرالڈ کے بیوروچیف ( بعد میں ہیرالڈ اور بی بی سی کے ایڈیٹر) عامر احمد خان سے کہا کہ وہ طاہر مرزا صاحب کو کہہ کر دیکھیں۔ مجھے آج تک یاد ہے کہ عامر احمد خان نے مرزا صاحب سے کہا کہ ایک نوجوان ہے‘ ملتان کے لیے دیکھ لیں۔ مجھے عامر احمد خان نے فون پر بتایا کہ کل جا کر گیارہ بجے مرزا صاحب کو ان کے حوالے سے ملیں۔پوری رات اس ٹینشن میں نیند نہ آئی۔ ملتان میں ڈان آفس کے دوست خالد شیخ نے ہمت بڑھائی اور کچھ ٹپس دیے کہ ڈان ملتان کو ایک اور رپورٹر کی ضرورت ہے‘ لہٰذا مرزا صاحب کو کیسے قائل کیا جاسکتا ہے۔
خیر ‘اگلے دن ڈان لاہور کے دفتر گیا۔ ابھی مرزا صاحب نہیں آئے تھے۔ وہیں ایک ریٹائر کرنل صاحب نے‘جو ایڈمن میں تھے‘ مجھے دیکھا تو پوچھا: کس سے ملنا ہے۔ بتایا تو بولے: چلیں اتنی دیر میرے کمرے میں بیٹھیں۔ مجھے عزت سے بٹھایا اور چائے پلائی۔ باتوں باتوں میں پوچھنے لگے: آپ کتنی تنخواہ کی توقع رکھتے ہیں؟ میں نے کہا :اس وقت میری ترجیح تنخواہ نہیں بلکہ کسی جگہ پائوں رکھنے کی جگہ کی ضرورت ہے‘ تاکہ میں کام کر سکوں ‘ اس وقت میں اس پوزیشن میں نہیں کہ بارگین کرسکوں۔ کرنل صاحب نے ایک ایسی بات کہی جس نے آنے والے برسوں میں میری سوچ پر بہت اثر کیا۔ کرنل صاحب بولے: میں تو اپنے گھر کام کرنے والے ملازمین کو بھی اتنی تنخواہ دیتا ہوں جتنی میرا خیال ہے اس کی جگہ میں ہوتا تو توقع رکھتا۔ میں نے آنے والے برسوں میں جب بھی کسی نوجوان کو اپنے ساتھ نوکری دی یا گھر پر ملازم رکھا تو کرنل صاحب کا وہ جملہ ہمیشہ میرے ذہن میں ابھرتا کہ اگر میں اس لڑکے یا لڑکی کی جگہ ہوتا تو میں کتنے پیسوں یا تنخواہ کی توقع رکھتا۔ اس وجہ سے گھر میں میری بیوی سے لے کر اخبارات اور ٹی وی چینلز کی انتظامیہ تک مجھ سے گلہ کرتی تو بھی میں یہی جواب دیتا کہ دوسرے کا بھائو فکس کرتے وقت ایک لمحے کے لیے خود کو اس جگہ رکھ کر سوچیں تو زندگی میں فیصلے کرنا بہت آسان ہوجائیںگے۔
خیر‘ تھوڑی دیر بعد مرزا صاحب آگئے۔ مرزا صاحب کی ایک بڑی خوبی تھی کہ چھوٹا ہو یا بڑا ‘وہ اُٹھ کر ملتے تھے۔ ان کی یہ بات اتنی اچھی لگی کہ اس کے بعد عمر بھر کوشش کی کہ کوئی چھوٹا بڑا ہو‘ بہتر ہے اُٹھ کر ملا جائے اور دوسرے کے ہاتھ میں پورا ہاتھ دیا جائے نہ کہ تین انگلیاں ‘تاکہ اگلے کو محسوس ہو کہ آپ اسے اہمیت اور عزت دیتے ہیں۔
مرزا صاحب نے مجھ سے پوچھنا شروع کیا: ملتان کیا کرتے رہے ہو؟ تعلیمی قابلیت کیا ہے؟ پھر ڈان کے کلچر اور روایات بارے بتاتے رہے۔ اچانک مجھ سے پوچھا: آپ مقامی ہیں یا ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے ہو؟ میں نے کہا: سر میں مقامی ہوں۔ میرے اس جواب کے بعد انٹرویو ختم ہوگیا تھا۔ مرزا صاحب بولے: ملتان میں ہمارے پاس پہلے سے ایک کارسپانڈنٹ کام کر رہے ہیں۔ مجھے یوں لگا جیسے ایک طویل مسافت کے بعد ایک اور دریا کا سامنا تھا۔ ضیغم خان اور عامر احمد خان کی کوششیں ضائع گئی تھیں۔ مجھے یہ بھی احساس ہوا کہ ہم دیہاتی یہ نہ سمجھ سکے کہ کوئی آپ کو کسی کے پاس جاب کے لیے بھیجتا ہے تو وہ سفارش نہیں ریفرنس ہوتا ہے۔ باقی آپ نے اتھارٹی کو خود مطمئن کر کے جاب لینی ہوتی ہے۔
مرزا صاحب اُٹھ کھڑے ہوئے اور مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔ میں کمرے سے مایوس نکلا تو اچانک اپنے سامنے ایک بندہ دیکھا جن کی اُلجھی ہوئی داڑھی ‘ لمبی مونچھیں اور پائوں میں شاید عام سی چپل‘ عام سی شلوار قمیص میں ملبوس۔ ایک فقیر‘ ملنگ ٹائپ انسان۔ دنیا جہاں سے بے پروا۔گہری آنکھیں‘ چھوٹا قد‘ لیکن کچھ ایسی بات تھی شخصیت میں کہ آپ انہیں اگنور نہیں کرسکتے تھے۔ انہوں نے اپنی عینک کے اوپر سے مجھے دیکھا اور مسکرا کر ٹھیٹ پنجابی میں بولے: تو مرزا صاحب نے ہاں نہیں کی؟
مجھے حیرانی ہوئی یہ صاحب کون ہیں اور انہیں کیسے پتہ ہے کہ میں مرزا صاحب سے ملتان میں نمائندہ بننے کے لیے ملا ہوں اور وہ انکار کر چکے ہیں؟ میں نے اپنے افسردہ چہرے پر زبردستی مسکراہٹ لانے کی کوشش کی‘ جس میں ناکام رہا۔ انہوں نے بغیر کچھ بولے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے دفتر لے گئے۔ مجھے کرسی پر بٹھایا اور پنجابی میں کہنے لگے : چلو مجھے بتائو تم ملتان میں کس قسم کی رپورٹنگ کرسکتے ہو؟ میں انہیں بتاتا رہا۔ وہ چپ چاپ میرے چہرے پر نظریں جمائے سنتے رہے۔ اچانک بولے: چلیں میں تمہیں تین ماہ کے لیے ملتان میں اپوائنٹ کر رہا ہوں۔ ان تین مہینوں میں خود کو ثابت کرنا ہے۔ قسمت کا عجیب کھیل تھا کہ جس نے نوکری دینی تھی وہ انکار کر چکا تھا اور جس کے لیے کوئی سفارش ریفرنس تک نہیں تھا اس نے بیٹھے بٹھائے نوکری دے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا ‘لیکن طاہر مرزا صاحب؟ وہ بولے میں ان سے کہہ دوں گا۔
وہیں انہوں نے طے کیا کہ تم ہر ہفتے ملتان سے ڈائری لکھا کرو گے۔ ہر ڈائری کے چھ سو روپے ملیں گے اور ڈائری تم مجھے بھیجو گے۔ اُلجھی ہوئی داڑھی اور لمبی مونچھوں کے درمیان سے انہوں مسکرا کر مجھے آنکھ ماری‘ ہاتھ ملایا اور میری تقدیر بدل گئی۔ ایک اجنبی نے اتفاقا ًملاقات میں سب کچھ بدل دیا تھا۔
سوچتا ہوں اگر ایک لمحہ مرزا صاحب کے دفتر سے لیٹ نکلتا یا وہ وہاں سے نہ گزر رہے ہوتے تو ؟
آنے والے دنوں میں ڈان نیوزروم کے دوستوں عمران اکرم‘ محمد امجد‘ عمران شیخ سب نے بڑی مدد کی‘ خصوصاً عمران اکرم نے سکھانے میں مدد کی۔
بعد میں پتہ چلا وہ ظفر اقبال مرزا تھے‘ ڈان کے اسسٹنٹ ایڈیٹر۔ لاہوری کے نام سے لاہور کی کلچرل سیاسی ڈائری لکھتے۔ ان سے بہتر ایڈیٹنگ شاید کوئی کرتا ہو۔ کام پر جت جاتے تو پورا اخبار ہی ایڈٹ کر دیتے۔ موڈ نہ ہوتا تو ایک لائن کو بھی ہاتھ نہ لگاتے۔ وہ سب ایڈٹینگ ہاتھ اور قلم سے کرتے۔ وہ کمپیوٹر ایج کے بندے نہیں تھے۔ ایک پرانے دور کے پرانے انسان‘ جو رکھ رکھائو اور ملتان سے گئے ایک نوجوان کے چہرے پر طاہر مرزا کے کمرے سے نکلتے ہوئے پھیلی طویل مایوسی پڑھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
برسوں بعد وہ اسلام آبادآئے اور میں یہاں رپورٹنگ میں اپنی جگہ بنا چکا تھا تو میں ان سے ملنے ہوٹل گیا۔میں جھک کر ملنے لگا تو پکڑ کر گلے لگایا۔ میں نے شکریہ ادا کرنا چاہا تو بولے: نہیں شکریہ میں نے ادا کرنا ہے کہ تم نے میرا انتخاب غلط نہیں کیا۔ ہنس کر بولے طاہر مرزا صاحب آپ سے کبھی خوش نہ تھے۔
نہ میں نے ان سے پوچھا کہ انہیں ایک اجنبی نوجوان میں کیا نظر آیا تھا‘نہ انہوں نے بتایا۔ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو آپ لاجک سے ثابت کرسکتے ہیں نہ ہی کوئی دلیل کام آتی ہے۔
یہ تھے اُلجھی داڑھی اور لمبی مونچھوں والے پائوں میں عام سی چپل پہنے بے پروا شخصیت کے مالک ZIM‘جن کا لاہور میں انتقال ہوا ‘جو کسی دوردراز گائوں سے طویل مسافت کے بعد آنے والے ایک اجنبی نوجوان کی مایوس آنکھوں میں کچھ محسوس کر کے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی قسمت بدلنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔
بشکریہ۔۔۔روز نامہ دنیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں