ہڑتال مطالبات تسلیم کرنے کا جمہوری حق لیکن مسئلہ کا حل نہیں

پنجاب کے ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری ہے اور یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ہڑتال کب تک جاری رہے گی اور اب تو ینگ ڈاکٹرز نے اپنے مطالبات تسلیم کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کرنے اور پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے کی دھمکی بھی دے دی ہے سرکاری اداروں میں جتنے بھی ادارے شامل ہیں ان ایکی ادارہ جسے امن و امان اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہو تی ہے سول اداروں پولیس کا واحد محکمہ ہے کہ پولیس ملازمت کے لاکھ مسائل ہوں یا کوئی ایک اجتماعی مسئلہ ہو وہ مسئلہ حکومت کے سامنے اپنے افسران بالا کے ذریعے حکومت کو پیش کرنے کا حق تو رکھتے ہیں لیکن مطالبہ تسلیم کرانے کیلئے آئینی اور قانونی طور پر ہڑتال نہیں کر سکتے اگر پولیس ملازم ایسا انتہائی قدم اٹھاتے ہیں تو ان کا یہ اقدام آئین اور قانون سے بغاوت اور سر کشی قرار دیا جائے اور ان سے وہی سلوک کیا جائے گا جو ریاست اپنے باغیوں سے کراتی ہے اور باغی سزا دار قرار دینا تقایہ قانون بھی ہے اور قانون کی بالادستی بھی‘ پنجاب پولیس نے پیپلز پارٹی کے عہد حکومت میں جب غلام مصطفی کو پنجاب کے گورنر تھے‘ تو ہڑتال جیسا نا قابل قدم اٹھایا تھا اور پولیس اہلکاروں نے اسلحہ سے لیس ہو کر نہ صرف جلوس نکالا بلکہ خوف و ہراس پھیلانے کیلئے فائرنگ بھی کی لیکن گورنر علام مصطفی کھر نے پولیس کی اس بغآوت کو کچل دیا اور ٹریفک کا تمام نظام پارٹی ورکروں کے سپرد کر دیا‘مسیحائی صرف مریضوں کے علاج معالجہ تک محدود نہیں ہے بلکہ امن و امان کو قائم رکھنا اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا بھی مسیحائی کی تعریف میں آ تا ہے‘ڈاکٹرز بھی خود کو مسیحا قرار دیتے ہیں اور امراض سے دکھی انسانیت کو شفایابی کی منزل سے ہمکنار کرتے ہیں اور مسیحاؤں کی لغت میں ہڑتال نامی کوئی لفظ نہیں ہے بلکہ مسیحائی کی ضد ہے‘ دنیا بھر کے ممالک میں غالباً پاکستان واحد ملک ہے جس کے ڈاکٹرز آئے روز اپنے مطالبات تسلیم کرانے کیلئے ہڑتال پر چلے جاتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ پیشے محض پیشے نہیں ہو تے در حقیقت درجہ عبادت کو پہنچنے ہوتے ہیں‘ تدریس کی مثال بس اگر یہ محض پیشہ ہو تا تو اللہ رب العزت اپنے تمام انبیا ء و رسول کو معلم بنا کر مبعوث فرمایا! بعض بیماریوں اور مختلف امراض میں مبتلا افراد کے روگ دور کرنے پر ہی حضرت عیسیٰ ؑ کو مسیح کہہ کر پکارا گیا اور آپ کا عمل مسیحائی کہلایا‘آج یہ مسیحائی ڈاکٹرز کے ہاتھوں میں ہے‘ یہ محبت نہیں کہ وہ اس مقدس پیشے کساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں اور بعض ”سیاستدانوں“ کی طرح پریشر گروپ بنا کر غنڈہ گردی کر تے نظر آ تے ہیں اور ڈاکٹروں کی ہڑتال کی روایت اس قدر پرانی ہے کہ ڈاکٹرز حضرات ہر سال ہڑتالی روپ میں نظر آ تے ہیں جس کے باعث بیشتر مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں‘گزشتہ دنوں ڈاکٹر کی غفلت سے جو معصوم زندگیاں بن کھلے مرجھا گئیں اور ایک ڈاکٹر کی ہوس زر نے ایڈز جیسے موذی مرض کے کھیت کے کھیت آباد کئے ان خبروں کو نظر انداز کرتے ہوئے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کی بات کرتے ہیں‘سرکاری ہسپتالوں کی ممکنہ نجکاری کے خلاف ینگ ڈاکٹرز اور پرامیڈیکس کے گرینڈ الائنس کا احتجاج ہی نہیں بلکہ ہڑتال بھی جاری ہے اور اب صورت حال مزید بد سے بد تر ہو تی نظر آ تی ہے اور ڈاکٹرز نے اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے حکومت 72گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے اور ڈاکٹر ز کا مطالبہ ہے کہ پنجاب حکومت فوری طور پر میڈیکل ٹیچنگ ایکٹ واپس لے اور یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد غلط بیانی سے کام لے رہی ہیں اور پندرہ بیس برسوں سے ملازم پیشہ ڈاکٹروں اور نرسوں کی نوکریاں چھینی جا رہی ہیں‘سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ یہاں تک نوبت کیوں آئی‘عوام کو یاد ہو گا کہ ایک ایسا وقت بھی آ یا تھا کہ ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے عوام کو علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرنے کی غرض سے سرکاری ہسپتالوں میں آ رمی کے ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کیں گیں‘سر دست فیصل آباد‘لاہور اور پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشن ریفارمز (ایم ٹی آئی) ایکٹ کے خلاف ہڑتال جاری ہے اور مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے ان اور آؤٹ ڈور ز بند ہونے سے مریضوں اور ان کے لواحقین پر جو قیامت ٹوٹی ہوئی ہے اس کے تصور سے ہی پورے وجود پر لرزا طاری ہو جاتا ہے اور مریضوں کے لواحقین در بدر بھٹکتے نظر آ تے ہیں اور مسیحائی کے دعو ے دار حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتے نظر آ تے ہیں‘ سطور بالا تر ہم نے حق ہڑتال کو ایک جمہوری حسن تسلیم کرتے ہوئے حکومت نے مطالبہ کیا تھا جیسے پولیس کو حق ہڑتال حاصل ایسے حکومت کو نئی قانون سازی کرتے ہوئے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر ز کی ہڑتال کو خلاف قانون قرار دینے کی ضرور ت ہے جو اس ہڑتال کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے ان کے لواحقین کن ہاتھوں پر اپنے عزیزوں کے لہو کو تلاش کریں‘ لہذا حکومت کو چاہیے کہ ڈاکٹرز کی ہرتال بابت نئی قانون سازی کریں اس کے ساتھ ہی ڈاکٹرز صابان کو اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیسے مسیحا ہیں کہ ان کی غفلت اور کوتاہی انسانی جانوں کے اخلاق کا باعث بن سکتی ہے حخومت کا یہ موقف کہ اپنی سیاست چمکانے کی یہ سعی ہے‘ سیاست کون نہیں چمکاتا ہے بہتر ہی ہے کہ ڈاکٹرز کے جائز مطالبات کو حکومت منظور کرنے کا اعلان کر ے اور معاملہ کو حل کرنے کیلئے تدبر اور تحمل کے ساتھ گفت وشنید سے حل کیا جائے اور ڈاکٹرز کو بھی ایسی ہٹ دھرمی سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے جو مریضوں کی موت کا سبب بن رہی ہو اس سے ان کی مسیحائی ہی واضح نہیں ہو رہی بلکہ جس پیشہ سے وہ منسلک ہیں جو عبادت کا درجہ رکھتا ہے وہ سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں