ہمیں تو شام غم میں کاٹنی ہے زندگی اپنی

تحریر۔۔۔ احمد کمال نظامی

حکومت فوجی ہو یا جمہوری ہو جب بھی سالانہ بجٹ پیش کر تی ہے اس کا دعویٰ یہی ہو تا ہے کہ کوئی حکومت ایسا عوام دوست بجٹ پیش نہیں کر سکی جبکہ ہمیں آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ جو بجٹ بھی پیش کیا جا تا ہے اس میں عوام دوستی اور عوام دشمنی کے کون کون سے نکات ہو تے ہیں جبکہ پاکستان ایک ایسا روایت پسند ملک ہے کہ اس نے روایت شکنی کا کبھی مظاہرہ نہیں کیا‘ ہماری برسوں سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ رمضان المبارک میں تاجر اسے سیزن قرار دے کر دونوں ہاتھوں سے عوام کی جیب صاف کر تے ہیں اور ہر بڑی عید کے گوشت کے بھاؤ میں اضافہ لازمی ہو تا ہے اور ہر بجٹ پر ان اشیاء پر بھی ٹیکس نافذ کر دیا جاتا ہے کہ عوام کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو تا‘ تحریک انصاف جو اپنا پہلا بجٹ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے پیش کیا ہے اور اپنی بجٹ تقریر میں گوشت پر ٹیکس عائد کرتے ہوئے یہ منطق پیش کی کہ گوشت خاص لوگ کھاتے ہیں لہذا گوشت پر بھی ٹیکس عائد کیا جا تا ہے‘ سبحان اللہ ایسی بات کوئی لقمان ہی کہہ سکتا؟ تحریک انصاف کا یہ پہلا بجٹ ہے‘اس بجٹ میں کونسی اشیاء زندگی ہے جسے قابل ٹیکس قرار نہیں دیا گیا‘چینی‘بناسپتی گھی‘خوردنی تیل‘گوشت‘دودھ‘مشروبات غرض کہ ایک ہوا بچی ہے لہذا تحریک انصاف کے اس ٹیکس مار بجٹ پر ”ہمیں تو شام غم میں کاٹنی ہے زندگی اپنی“ سے بھر پور حقیقی تبصرہ کوئی اور نہیں سکتا‘گو اپوزیشن کی جماعتوں نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر بجٹ اجلاس میں شرکت کی اور جب تک حماد اظہر بجٹ تقریر کرتے رہے اپوزیشن کے ارکان نعرے بازی کر تے رہے اور انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی کے ڈائس کا گھیراؤ کئے رکھا‘ بجٹ الفاظ کا وہ گورکھ دھندا ہو تا ہے اور الفاظ کی سرکاری یوں کی جا تی جو عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہو تی ہے اور حیران بات ہے کہ اگر ایک روپیہ کی ریلیف دی جا تی ہے اسی بجٹ کی دوسری شق میں تین روپے عوام کی جیب سے نکال لئے جاتے ہیں‘ اشیاء زندگی کی قیمتیں تو پہلے ہی آسمان سے با تیں کر رہی ہیں‘ لیکن پورے بجٹ میں ایک بات بھی ایسی نہیں کہی گئی جس سے اشیاء زندگی کی قیمتوں میں مستحکم ہوں ایسی کوئی بات دکھائی نہیں دیتی‘دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ مشکل حالات میں غریب دوست اور امیر دشمن بجٹ دیا گیا ہے اور آئی ایم ایف نے معیشت کی موت کا پروانہ بھجوایا تھا‘ عمران خان نے جنازہ پڑھوا دیا‘ ہمارے خیال اس سال کا سب سے بڑا جھوٹ یہی ہے‘ بجٹ میں جو ٹیکس سازی کی گئی اور اس سے مہنگائی کو جو طوفان برپا ہو گا اس اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ بٹ والے دن ہی وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے مالی سال 2018-19کی جو تفصیلی اقتصادی سروے کی رپورٹ جاری کی اور اس رپورٹ سے بہت سے کمزور منفی پہلو سامنے آئے اور وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے ہی نہیں بلکہ شبر زیدی نے بھی اپنے بیانات میں اعتراف کیا کہ حکومت اقتصادی شرح نمو سمیت تمام معایشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور ملکی خسارہ ملکی معیشت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور تمام دعووں کے باوجود عمران خان نے دوست ممالک سے ڈوبتی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو بچانے کیلئے جس قدر بھی سرمایہ حاصل کیا اسے قرض نہ بھی قرار دیا جائے لیکن وہ قرض ہی تھا جو حکومت پر سود کا کوہ عالیہ کھڑا تھا اس کی بھینٹ چڑھ گیا لیکن اس سے عوام کی حالت تبدیل نہ ہو سکی اور اس مقابلہ میں اشیاء زندگی کی قیمتوں میں تواتر سے اضافہ ہو تا چلا گیا اور یہ اضافہ سرمایہ داروں اور تاجروں نے بڑے پلان سے کیا دوسری طرف سے روز گاری میں بھی اضافہ ہوا‘ کیونکہ حکومت نے کوئی ایسی منصوبہ بندی نہیں کی جس سے عام آدمی کو روز گار کے وسائل حاصل ہوں‘ظاہر ہے کہ جب وسائل آمدن کے مقابلہ اخراجات زیادہ ہو تو ملک میں مہنگائی اور بے روز گاری کی شرح بڑھتی ہے جس کے نتیجہ میں ایک لکیر کا اضافہ ہو تا ہے اور یہ لکیرحکمرانوں کو دکھائی نہیں دیتی غربت کی لکیر بذات خود نظر نہیں آ تی‘لیکن غربت کی لکیر کے نیچے اور اوپر رہنے والے لوگ صاف دکھائی دیتے اور بعض ماہرین کی رائے میں اس وقت ساٹھ فیصد کے قریب اللہ کے بندے غربت کی لکیر کے اوپر نیچے اور قریب تر دکھائی دیتے ہیں‘ جبکہ قومی بجٹ میں تنخواہوں میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ والی بات ہے اور ٹیکس جو نافذ کئے جا رہے ہیں‘ ایک دانش ور نے بڑی معنی خیز بات کہی کہ لوگ قحط زدہ علاقہ میں لوگ خوراک کی کمی کی وجہ سے بھی نہیں ہو تے بلکہ خوراک خریدنے کی سکت نہ ہونے کی وجہ سے مرتے ہیں آج بھی کچھ ایسا ہی ماحول دکھائی دیتا ہے کہ اشیاء زندگی کی گرانی اور مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ لوگوں میں اشیاء زندگی خریدنے کی سکت ہی دکھائی نہیں دیتی اور وہ عمران خان کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے کیونکہ عمران خان سے عوام نے جو امید یں وابستہ کیں تھیں ایک امید بھی بھر نہیں آ تئی اور حالات ہیں کہ خراب سے خراب تر ہو تے جا رہے اور عمران خان کا ایک ہی نعرہ ہے کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘ لیکن ان سے لوٹی ہوئی دولت عوامی خزانہ میں لانے کا وعدہ کیا تھا ایک ہونے کو آیا ایک روپیہ بھی عوامی خزانہ میں نہ آ سکا‘کیوں؟ جو بجٹ پیش کیا گیا ہے یہ بجٹ کم اور ٹیکس امہ زیادہ ہے بجٹ میں خالصاً اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلے کئے جا تے ہیں اور بجٹ جمہوری حکومت پیش کرے کوئی فوجی حکومت پیش کرے اس میں غربت کی حقیقت ایک ہندے کی بھی نہیں ہو تی‘ صرف ایک سطر تحریر کر دی جا تی ہے کہ گذشتہ سال کے دوران اتنے فیصد لوگ غربت کی لکیر سے باہر نکالے گئے یا غربت میں دھکیلے گئے‘جبکہ پورے وثوق اور یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ حالیہ بجٹ میں جس تعداد میں عام لوگوں پر ٹیکس عائد کئے گئے ہیں کہ گوشت جیسی خوراک اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک گوشت پر عائد ٹیکس ادا نہیں کریں اور یہ ٹیکس وصول کیسے کریں گے‘ اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی‘اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کا سفید پوش اور غربت طبقہ حکومت کی غلط اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اور بمشکل سانس لے رہا ہے‘ اپوزیشن کی قیادت کا دعویٰ کرنے والے کرپشن کی دلدل میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ اس دلدل سے انہیں کوئی نجات نہیں دلا سکتا اور موجودہ حکومت کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ غریب عوام کو مصائب سے نجات کیسے دلائے بقول شاعر معاملہ یوں ہے۔
گلے شکوے کہاں تک ہوں گے آدھی رات گزری ہے
پریشان تم ہو تے ہو پریشان ہم بھی ہو تے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں