کیا پاکستان میں کبھی سیاسی اور معاشی استحکام رہا ہے؟


تحریر: افتخار بھٹہ
سوچتا ہوں کس موضوع پر بات شروع کروں ایک طرف سیاسی محاذ آرائی اور انتشار عروج پر ہے جس کا سلسلہ قیام پاکستان کے بعد ہی فوراً شروع ہو گیا تھا اپوزیشن چیئر مین سینٹ تبدیل کرنے کیلئے منصوبہ بندی کر چکی ہے مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز احتساب جج کی گفتگو کے حوالے سے متنازعہ اڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ سامنے لا چکی ہے جس کو غلط ثابت کرنے کیلئے حکومتی حلقے کافی متحرک دیکھائی دیتے ہیں جج صاحب کا تردیدی بیان اور ملاقات کے بارے میں تصدیق سامنے آ چکی ہے کون غلط ہے یا صحیح اس کا فیصلہ کس طرح ہوگا اور معاملہ عدالت میں یا کمیشن کے ذریعے طے پائے گا بہر صورت حسب روایت ن لیگ کی قیادت کی طرف سے عدالتوں کو متنازع بنانے کا عمل شروع ہو چکا ہے ماضی میں اس جماعت نے عدالتوں کیخلاف مہم جوئیاں کی ہیں جس میں کہیں کوئٹہ مشن چیف جسٹس سجاد علی کی عدالت پر حملہ بے نظیر کیس میں سزا دلوانے کی کوششوں کی ٹیلی فون ریکارڈنگ اور عدالتوں کے فیصلوں کو نہ ماننا شامل ہے کس طریقہ سے حدیبہ پیپر مل کا مقدمے کی فائل بند کروائی گئی اس کی مثال پاکستان کی عدالتی تاریخ میں نہیں ملتی ہے اس کیس کے بارے میں کہا جاتا تھا یہ منی لانڈرنگ سب سے اہم ترین واقع ہے نواز شریف خاندان 35سال سے بر سر اقتدار رہا ہے اس لیے اس کی ریاست ڈھانچے میں گہری جڑیں اور تعلقات ہیں اور یہ مقتدرہ طبقات کا منظور نظر بھی رہا ہے اب چونکہ گردش حالات کی وجہ سے گرفت میں ہے تو اپنی سیاست بچانے کیلئے ہر حربہ آزمانے کیلئے تیار ہے یوں بھی مسلم لیگ ن نے ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھانے کیلئے کارکنوں کے کنونشن شروع کر دیئے ہیں دوسری طرف پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری پختونخواہ کے مختلف مقامات پر جلسے منعقد کر رہے ہیں اور وہ قومی ایشوز کے بارے میں اظہار خیال کر رہا ہے کہیں پر آئی ایم ایف کے پاس ملک کو گروی رکھنے کا الزام لگا رہا ہے حالانکہ مسلم لیگ ن نے اپنے عہد میں ملک کے تمام موٹر وے اور ائیر پورٹ آئی ایم ایف کے سامنے گروی رکھ دیئے ہیں اور اب ریاست کے پاس اور کچھ گروی رکھنے کیلئے کچھ نہیں بچا ہے بہر صورت دیکھا جائے تو دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کرپشن کے الزام میں جیلوں میں ہے جبکہ دیگر قیادت کو نائب کے سامنے پیشیوں کا سامنا ہے اور یہ دنوں خاندان ہی اپنی سیاست اور والدین کو بچانے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، اس محاذ آرائی کی کیفیت میں ریاستی مشینری سب سے زیادہ دباؤ میں اور خوف زدہ ہے معاشی اور تجارتی سر گرمیاں دم توڑ رہی ہیں رہی سہی کسر بجٹ میں لگائے جانے والے ٹیکسوں نے پوری کر دی ہے جس کے خلاف ملک کی صنعت کار اور تاجر برادری سراپا احتجاج ہے ڈالر کی قیمت کہیں رک نہیں رہی ہے اور نہ ہی پیدا واری عمل کے ذریعے ڈالر کی آمد ہو رہی ہے لہذا بیرونی ادائیگیوں کیلئے ہم گزشتہ نصف صدی سے ڈالر کے محتاج رہے ہیں جس کی کمی کو پورا کرنے کیلئے دوست ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لیے جاتے رہے ہیں اور یہ عمل اب بھی جاری ہے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے بقول ڈالر کو آزاد رکھنے سے مہنگائی بڑے گی ماضی میں ڈالر کو مصنوعی طریقہ سے کنٹرول کیا گیا تھا ناقص پالیسیوں سے معیشت کمزور ہوئی ہے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے ایف بھی آر کی مکمل طور پر ریسٹرکچرنگ کی ضرورت ہے جس کے ذریعے سے ایف بھی آر کے ٹیکس ریکوری کی صلاحیتوں کو بڑھایا جا سکے اور اس کے ساتھ سسٹم کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے جس کیلئے کمپیوٹرائزیشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے تا کہ اس سے معیشت کو مکمل طور پر آن ریکارڈ لانے کیلئے دستاویزی شکل دی جائے یاد رہے سابق ادوار میں جتنے آئی ایم ایف سے قرضہ جات حاصل کیے گئے تھے ان میں موجودہ حکومت کی تسلیم کی جانے والی تمام شرائط شامل تھیں مگر بد قسمتی سے آئی ایم ایف کی ہدایات پر عمل کرنے کی بجائے تمام فیصلے سیاسی مفادات کے حوالے سے کئے معشیت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں