کچھ اِدھر اُدھر کی باتیں مگر معذرت کے ساتھ

تحریر: افتخار بھٹہ

آج کل شدید گرمی ہے جس کی وجہ سے گھر سے نکلنا خاصہ مشکل کا کام ہے کچھ عمر کا تقاضہ بھی ہے رابطے مؤثر نہیں رہے ہیں دل کی باتیں کرنا چاہتا ہوں مگر کس سے باتوں میں سوال کو اٹھاؤں نہ کوئی ملے تو پڑھنے کیلئے صرف اخبار کتابیں رسائل اور دیکھنے کیلئے ٹیلی ویژن چینل ہی رہ جاتے ہیں جہاں پر ہر قسم کے دانشور، ادیب، تجزیہ نگار اور اینکرز اپنی اپنی باتیں اس اعتماد کے ساتھ سنا رہے ہوتے ہیں کہ شائد سارا سچ اور مسائل کا حل ان کے پاس موجود ہے اس طرح ہر ایک کا اپنا اپنا مفاداتی سچ ہوتا ہے یہی صورتحال پارٹی کے لیڈروں اور ترجمانوں کے حوالوں سے ہے وہ ہر روز ٹی وی ٹالکس اور بیانات میں اپنی اپنی قیادت کی صفایاں پیش کرتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں مگر اس میں خلوص سماج کی سدھار کیلئے کوئی لائحہ عمل یا نظریہ موجود نہیں ہے ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت جیل میں مقدمات کا سامنا کر رہی ہے مسلم لیگ ن کی قیادت کے دو بیانیں مریم نواز اور شہباز شریف کی صورت میں ہیں ایک محاذ آرائی اور تحریک چلانے کی بات کرتی ہے جبکہ شہباز شریف ذرا معتدل معزاج کے ہیں انہیں ریاستی اداروں کے ساتھ مفاہمت کے ساتھ معاملات طے کرنے کا تجربہ ہے لہذا یہ دونوں اپنے اپنے سیاسی بیانیوں کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں دوسری طرف حکومتی اتحادی اپوزیشن کے دباؤ کی وجہ سے تحریک انصاف سے اپنی مزید وزارتیں حاصل کرنے کیلئے کامیاب ہوتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کے تحریک انصاف شائد اپنی نظریاتی اصول پسندی پر منشور پر عمل کرنے میں کامیاب ہوتی ہوئی دیکھائی نہیں دیتی۔
پاکستان میں موجودہ پیدا کردہ سیاسی معاشی اور سماجی بحران چند سالوں میں پیدا ہوا نہیں ہے بلکہ اس کا آغاز قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی شروع ہو گیا تھا، ایوب خان نے ایبڈو کے ذریعے سیاست دانوں کو سیاست سے خارج کرنے کی کوشش کی اور بلاواسطہ جمہوریت کے ذریعے ممبروں کو منتخب کر کے قانون ساز اسمبلیوں کا انتخاب کیا اور اپنی صدارت کو یقینی بنایا گیا، جنرل ضیاء الحق نے مثبت نتائج کے نام پر کنٹرول جمہوریت کا تصور دیا اس کے اقتدار کی مخالف کرنے والوں کے قید و بند کی صوبتیں برداشت کرنا پڑیں پاکستان کے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔صدر مشرف کے عہد میں صدائی ہوئی جمہوریت کا تجربہ کیا گیا اس دوران سیاسی پارٹیوں کی توڑ پھوڑ کر کے وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ دلایا گیا صدر مشرف کے عہد میں بے نظیربھٹو انتخابی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد خود کش حملے میں شہید ہو گئیں،آج بھی صورتحال یوں ہی دیکھائی دیتی ہے، چند ایک نئے چہروں کے علاوہ وہی چہرے حکومت میں موجود ہیں مگر شائد مقتدرہ قوتیں شائد ہمیشہ کی طرح اپنی تراشیدہ جمہوری قوتوں کے ساتھ اعتماد کا اظہار نہیں کر پا رہی ہیں شائد انہیں جمہوری اور عوامی حقوق کی سیاست پسند نہیں ہے ہم ایسی ریاست میں رہ رہے ہیں جہاں پر کوئی معاشی سماجی اور سسٹم نہیں بن سکا ہے اس ماحول میں نظریاتی سوچ رکھنے والے حب الوطنی سے سر شار مخلص سوچ رکھنے والے انسانوں کا رہنا مشکل ہے تو عام آدمی ہو یا بزنس مین یا صنعت کار اس کیلئے پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں کہاں ملازمت کرنا ہے کونسا کاروبار کرنا ہے سرکاری اداروں کی بھرمار میں نئی صنعت کے قیام کیلئے بھی اجازت کی خاطر کونسا کونسا دروازہ کھٹکھانا پڑتا ہے، قدم قدم پر مافیا اور قبضہ گروپ ہیں ہم میں سے ہر با شعور کو اپنے ہی دائروں میں گھومتے ہوئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہی صورتحال تبدیلی سرکار کے حوالے سے ہے جو کہ معیشت سیاست اور سماجیت کو سنوارنے میں ناکام دیکھائی دیتی ہے اس نے کئی محاذ جنگ ایک ساتھ کھول دیئے ہیں ترجمانوں اور وزراء کے اپوزیشن پر تابڑ توڑ حملوں کے بعد سیاسی صورتحال قابو میں نہیں آ رہی ہے پی ٹی آئی کے میڈیا پر صفائی دینے والے راہنماؤں کو دیکھیں تو ان سے بیشتر کا تعلق کئی دہائیوں تک پیپلز پارٹی کے ساتھ رہا ہے اورگفتگو کرنے کا سلیقہ جانتے ہیں مگر وہ قیادت کی یو ٹرن سیاست کی وجہ سے اپنے لیڈر کی پالیسوں کا دفا کرنے میں ناکام دیکھائی دیتے ہیں یاد رہے پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی ملک کی واحد جماعتیں ہیں جن کے کارکنوں نظریاتی تربیت کی گئی ہے یہی وجہ ہے ان کی گفتگو اور فہم و فراست میں دوسری جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کی نسبت کافی فرق واضح ہے
پاکستان کی معیشت چند ماہ میں خراب نہیں ہے اس کے بگاڑ کا دباؤ موجودہ حکومت کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لوٹ مار کل بھی جاری تھی آج بھی جاری ہے معیشت کو درست کرنے کیلئے ہماری حکومتوں کے پاس کبھی معاشی ماہرین نہیں رہے ہیں اور انہوں نے عالمی اداروں سے معاملات کو طے کرنے کیلئے انہی کے ملازمین کی خدمات کو حاصل کیا ہے وہ ان اداروں کی شرائط کے مطابق ٹیکس ریکوری کے اہداف کو پورا کرنے کی کوشش میں عوام کی بنیادی ضروریات زندگی پر ٹیکس عائد کر دیئے گئے ہیں سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گھی اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جانا چاہیے تھا اگر کیا گیا ہے تو کس کے فائدہ کیلئے اس کے علاوہ یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف نے ان اشیا پر ٹیکس لانے کے بارے میں کئی ہدایت نہیں دی تھی آخر ڈالر کی قیمت کیوں نہیں ٹھہر رہی ہے روزانہ کی بنیاد پر کبھی اس میں کئی روپے اضافہ اور چند پیسوں میں کمی ہو جاتی ہے اس قدر عدم استحکام ہے جس کو کنٹرول کرنے کیلئے مرکزی بینک کو کردار ادا کرنا ہوگاجس کے بارے میں اسٹیٹ بینک کے سربراہ سید باقر رضا کہہ چکے ہیں کہ ہم ڈالر کی قیمت کا تعین منڈی کی قوتوں پر نہیں چھوڑ سکتے ہیں اب دیکھتے ہیں حکومت ڈالر کی قیمت کو روکنے کیلئے کیا اقدام اٹھاتی ہے، حکومت ترقیاتی کونسل کا قیام عمل میں لائی ہے جس میں ایک ادارے کے سربراہ کو ممبر بنایا گیا ہے یہ بات درست ہے اس ادارے سابق ملازمین کی فاؤنڈیشن کے تحت 17سے زیادہ صنعتی یونٹس اور ادارے کامیاب چلائے جا رہے ہیں امید ہے قونصل میں اس کے اراکین کی شمولیت سے حکومتی اداروں کو مالی اور انتظامی امور میں شفافیت لانے میں مدد ملے گی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کوئی ایک سیاسی جماعت یا ادارہ مل کر ملکی معیشت میں بہتری نہیں لا سکتا تمام اسٹیک ہولڈر کی اجتماعی دانش کی ضرورت ہے یہی وجہ ہے سابق صدر آصف زرداری نے میثاق معیشت کے بارے میں بات کی ہے جس کو عمران خان نے منظور کرتے ہوئے پارٹیوں کے تھینک ٹینک سے ماہرین معاشیات کو لینے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ اجتماعی دانش سے ملک کو اقتصادی بحران سے نکالا جا سکے۔
ایک طرف تو قیامت کی گرمی ہے تو پھر بھارت سے شکست ورلڈکپ میں پے در پے ناکامیاں مزاج میں تیزی آنا لازمی ہے چالیس سال بینکنگ کے شعبہ سے وابستہ رہا ہوں آج کل بینک کا عملہ یہاں پر انتظامیہ کے دباؤ میں ہے وہاں پر ایف بی آر سے بھی خوفزدہ ہے کیونکہ خطہ دار روز نت نئی معلومات چاہتے ہیں کہ ان کے جمع شدہ پیسوں کا کیا بنے گا کچھ تو پہلے ہی کروڑوں کا ٹیکس ادا کر رہے ہیں مگر پھر بھی ایف بی آر سے نوٹسوں کا سامنا ہے اور شائد متعلقہ ادارے شبر زیدی کو ناکام بنانا چاہتے ہیں، آج کل لوگ اپنے انگوٹھے چھاپنے کیلئے بینکوں میں جا رہے ہیں جس میں بوڑے، نوجوان، عورتیں اور معذور بھی شامل ہیں ان میں سے اپنے کھاتوں میں پیسے کئی دہائیوں پرانے ہیں انہیں ضبط ہونے کا ڈر ہے ھوس زر میں مبتلا چند افراد کی وجہ سے پوری قوم مشکو ق ہو گئی ہے پہلے اسٹیٹ بینک طاقتوروں کے آگے بولنے کی جرات نہیں کرتا تھا اور کالا دھن رکھنے والوں کے مزے تھے کہ اپنی مرضی سے اکاؤنٹ کھول لیں اور بے نامی جائیدادیں بنائیں مگر ایک ریاست کو ایک دھیلا ٹیکس نہ دیں اب لوگ ایمنسٹی سکیم میں اپنے اثاثے ڈکلیئر کرنے کے بارے میں سوچنے لگے ہیں سب کچھ کہ کس طرح اپنے اثاثوں اور دولت کا تحفظ کیا جا سکے آج انگوٹھا لگانے والوں کی دیگر سرکاری اداروں کی طرح لائنیں لگی ہوئی ہیں تمام بینک اپنے صارفین کے ڈیپازٹ سے فائدہ کما رہے ہیں ان کے افسران کو کھاتے داروں کے ساتھ بہتر سلوک کرنا چاہیے اور یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ یہ تھانہ یا کچہری ہیں بلکہ عوامی خدمات کے مراکز ہیں۔ نجی بینکوں کے قیام سے قبل پاکستان میں چند ایک بینک سرکاری تحویل میں تھے اور اسٹاف بھی ایک بینک میں بھرتی ہو کر اپنی تمام نوکری وہاں پر مکمل کرتا تھا اس لیے ان کی اپنے کھاتے داروں کے ساتھ کئی نسلوں تک جان پہچان تھی ان بینکوں میں آج بھی دادا سے لیکر پوتے تک اکاؤنٹ ایک ہی بینک میں ہیں مگر ایسا نہیں ہے بینکوں کا پرانا سٹاف ریٹائر ڈ ہو چکا ہے۔اب بینکوں میں نوجوان نسل تھوڑے عرصے کیلئے ٹکتی ہے دوسرا اچھا موقع ملنے کے بعد دوسرے بینک میں ملازمت کر رہی ہے اس لیے وہ اپنے ٹارگٹ کے علاوہ کوئی تعلقات بنانے کی کوشش نہیں کر سکتے ہیں بینکوں میں کئی ان پڑھ بوڑھے مزدور اور دیگر محنت کش اپنے چیک اور سلپیں بنوانے کیلئے اسٹاف کا تعاون چاہتے ہیں مگر کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہوتا وہ ایک کاؤنٹر سے دوسرے پر جاتے ہیں آخر کار ان کا کام آپریشن مینجر یا مینجر کرتے ہیں کیونکہ انہیں ہی اپنے ٹارگٹ اور ملازمت کا خیال ہوتا ہے یہ بھی یاد رکھیں وہ لوگ جنہوں نے منی لانڈرنگ کی یا کالا دھن کمایا وہ بے نامی اکاؤنٹس رکھتے ہیں ان کے پاس قانونی معاونت موجود ہوتی ہے۔ وہ جنہوں نے سالوں محنت سے پائی پائی جمع کی ہے آج کل وہ دوسروں کے رحم و کرم پر ہیں انہیں بینکوں میں بے مقصد چکر لگوائے جا رہے ہیں بینکوں کو بزرگوں اور عورتوں کی بہتر خدمات کیلئے علیحدہ باؤ میٹرک کی حصوصی سہولیات فراہم کرنی چاہیں بینک کاروباری ادارے ہیں وہ تحقیقاتی مرکز نہیں ہیں انہیں اپنے صارفین کی بہتر خدمات سر انجام دینی چاہیں ہمارے ٹیکس جمع کرنے والے اداروں کو صنعت کاروں پر چھاپے مارنے کی بجائے اپنے محکموں میں اصلاحات کر کے رشوت ستانی کو ختم کرنا چاہیے اور یہ یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان کے سارے لوگ دھوکے باز اور جرائم پیشہ نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں