کمرہ عدالت میں بیٹھے کھلی آنکھوں دیکھا خواب!


سینئر صحافی کے مشاہدات!
کمرہ عدالت میں دس بارہ کے قریب ملزمان‘مدعی یا انکے قریبی لوگ کرسیوں پر بیٹھے جج کے کمرہ عدالت میں آنے کا انتظار کررہے تھے‘کمرہ عدالت میں مکمل خاموشی تھی لیکن دروازہ کھول کر بار بار کوئی وکیل اندر آتا‘ریڈر سے جج صاحب کے بارے میں دریافت کرتا اور پھر کمرہ عدالت سے باہر چلاجاتا یا پھر عدالت میں وکلاء کیلئے رکھی گئی کرسیوں میں سے کسی ایک کرسی پر براجمان ہو جاتا‘ ملزمان میں سے زیادہ تر کے رنگ اڑے ہوئے تھے‘حالانکہ بہت ساروں کو دوبارہ قبل از گرفتاری ضمانت مل سکتی تھی کیونکہ ان کے مقدمات کی دفعات قابل ضمانت جرائم پر مبنی تھیں‘میں بھی اپنے ایک عزیز کے ساتھ کمرہ عدالت میں بیٹھا تھا اور معلوم کرچکا تھا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحب سول اور ایڈیشنل سیشن ججز کے ساتھ میٹنگ میں مصروف ہیں اسلئے ابھی کچھ وقت درکار ہے‘میری ساتھ والی کرسی پر ایک پچاس پچپن سال کا شخص بیٹھا کمرہ عدالت کی چھت کی طرف دیکھ رہا تھا‘وہ اپنی آنکھوں کی پلکیں بھی نہیں چھپک رہا تھا‘کئی منٹ کی شش و پنج کے بعد میں نے اس سے پوچھنے کی جرات کی کہ آپ کا کیا کیس ہے اور آپ نے کیا جرم کیا ہے؟اس انجان شخص کے جواب نے میرے رونگٹے کھڑے کردئیے‘اب اس کا جواب درست تھا یا غلط؟ اس کا فیصلہ یقینی طور پر معزز عدالت کے محترم جج صاحب ہی کرینگے لیکن اس کی سنائی گئی روداد ہمارے روایتی تھانہ کلچر‘پولیس اور عدالتی نظام کی بھرپور عکاسی کرتی ہے‘اس روداد نے مجھے سابق چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس (ر)ثاقب نثار کی بابا رحمتے کے حوالے سے کئی ریمارکس اور وکلاء کی مختلف بار کونسلز میں تقاریر بھی ذہن نشین کروادیں‘ ایک اور سابق چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کی بھی یاد دلوائی‘جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار بار بار کہتے تھے کہ ہمارے قانون ساز وں کو عدالتوں‘آئین اور قانون سے متعلق درکار تقاضوں کے مطابق ترمیم کرتے ہوئے اس میں جدت لانے کی ضرورت ہے‘جسٹس (ر)افتخار چوہدری بھی جوڈیشنل ریفارمز کے نام پر ایسے مطالبے کرتے رہے لیکن آج جبکہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں جن میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں شامل ہیں‘یہ دونوں وہی جماعتیں ہیں کہ جب برسر اقتدار تھیں تو جناب ثاقب نثار اور جناب افتخار چوہدری ان سے مطالبات کررہے تھے جبکہ ان کی طرف سے ایسے کسی بھی مطالبے پر کان تک نہیں دھرا جارہا تھا اور آج ان دونوں جماعتوں کے اپنے ہی قائدین پابند سلاسل ہیں‘مجھے کمرہ عدالت میں اس انجان شخص کی سنائی گئی روداد نے 2013ء سے لیکر 2018ء کے عام انتخابات تک وزیر اعظم عمران خان کی تبدیلی کے حوالے سے کئے گئے وعدے‘دعوے اور بھڑکوں کی بھی بہت زیادہ یاد آئی‘اس کی سب سے بڑی وجہ اس انجان شخص کا یہ بتانا تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کے ہمراہ ایک بڑے شخص کے گھر پینٹ اور دیگر مزدوری کا کام کیا اس دوران کام تسلی بخش نہ ہونے پر ان کے درمیان تکرار ہوگئی جس پر اس با اثر شخص نے ان کے اور انکے بیٹے کے خلاف چوری کا جھوٹا مقدمہ درج کروادیا‘ان کے گھر مقدمہ درج ہونے سے پہلے کئی روز تک پولیس کے چھاپے پڑواتے رہے اور پھر بلآخر مقدمہ درج ہوگیا جس پر وہ قبل از گرفتاری گزشتہ کئی ماہ سے عدالت کے چکر پر چکر لگا رہے ہیں مگر مدعی قانون کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کبھی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوتا‘اس طرح کے مقدمات سے ہماری پولیس نے عدالتوں پر کام کے بوجھ کو حد سے زیادہ بڑھا دیا ہوا ہے‘یہ اچھی بات ہے کہ موجودہ چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ فوجداری مقدمات کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے میں دن رات ایک کررہے ہیں لیکن نچلی عدالتوں میں سائلین کو جن مسائل کا سامنا ہے اور جن کے حل کیلئے چیف جسٹس صاحبان بھی برملا لب کشائی کرتے ہوئے اصلاح و احوال کا کہتے رہے ہیں اس پر وزیر اعظم عمران خان قانون ساز اداروں سے اپنا کردار ادا کروانا چاہیے‘عمران خان ملک میں تبدیلی کا نعرہ لگا کر آئے تھے آج وہ ماضی کے حکمرانوں کو چور‘ڈاکو کا نام دے رہے ہیں اور انکی گرفتاریاں بھی عمل میں آرہی ہیں مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ تبدیلی جسکا عمران خان اب تک واویلا کررہے ہیں‘اس پر عملدرآمد کے بغیر کوئی بہتری آسکتی ہے؟ یقینا نہیں!آج بھی تھانوں میں جھوٹے مقدمات کا اندراج جاری ہے‘پولیس مقدمے کے اندراج سے لیکر عدالت میں مثل‘تفتیشی رپورٹ‘چالان وغیرہ وغیرہ پیش کرنے تک مکمل طور پر کرپشن کی دلد ل میں غوطہ زن ہے‘ماضی میں عدالتوں کے حوالے سے کئی حکمران کئی طرح کے سوال کرتے اور باتیں کرتے رہے ہیں‘پیپلز پارٹی آج تک ذوالفقار علی بھٹو کیس پر گلہ ہے‘بینظیر بھٹو قتل کیس کی روداد بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں‘ماضی میں آصف علی زرداری اپنے پر نواز شریف کی طرف سے جھوٹے مقدمات عائد کروانے کا الزام لگاتے رہے اور پھر با عزت بری بھی ہوگئے‘نواز شریف بھی ماضی میں ڈیل اور این آر او کے ذریعے ایسے کیسز سے بچے‘پیپلز پارٹی نے ماضی میں ایک جج جو کہ مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی کے بھائی بھی ہیں ان کی شہباز شریف کے ساتھ خفیہ گفتگو کی مبینہ ٹیپ ریکارڈنگ بھی سامنے لاتی رہی‘اب محترمہ مریم نواز العزیز یہ ریفرنس کیس کے ایک جج کی ویڈیو ریکارڈنگ پر پریس کانفرنس کرچکی ہیں‘آئندہ کا سیاسی منظر نامہ کیا ہوگا؟ اہم سیاسی جماعتوں کے لیڈر جو جیل میں ہیں‘وہ اندر ہونگے یا باہر آجائینگے‘ اس کا فیصلہ وقت کریگا لیکن زبانِ خلق ہے کہ ماضی کی طرح یہ لوگ ایک مرتبہ پھر قانونی گرفت سے بچ کر باہر نکل آئینگے لہذا وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ کرپشن مافیا کے خاتمے کے ساتھ ساتھ عام عوام کیلئے کم از کم تھانے اور کچہریوں میں وہ تبدیلی لے آئیں جس کا انہوں نے قوم سے وعدہ کیا تھا اور عوام آج تک اس خواب کی تعبیر کے منتظر ہیں‘ میں کمرہ عدالت میں بیٹھا یہی خواب دیکھ رہا تھا اور یہ کھلی آنکھوں کا خواب تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں