ڈاکٹر انور سجاد:ہمہ جہت دانشور کی رخصتی

تحریر: افتخار بھٹہ

میں اس خبر پر کوئی خیران نہیں ہوا کہ ڈاکٹر انور سجاد کی نماز جنازہ میں بہت کم لوگوں نے شرکت کی اس سے قبل بھی مجھے ممتاز کالم نگار اور دانشور ارشاد احمد حقانی کا جنازہ یاد ہے جس میں بہت کم لوگ شریک ہوئے جبکہ اسی دوران فوت ہونے والے ٹیپو ٹرکا ں والے کے جنازے میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس کی بنیادی وجہ اس کی دولت اورسیاسی شخصیت تھی یہی صورتحال دوسرے کالم نگاروں، دانشوروں اور ادیبوں کے جنازوں کے حوالے سے ہے یوں بھی ہمارے پڑھے لکھے طبقے میں کافی نظریاتی گروہ بندی اور ایک دوسرے کے بارے میں حسد ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ کبھی بھی ایک پلیٹ فارم زندگی ہو یا موت ہو ایک پیج پر دیکھائی نہیں دیتے ہیں ہمارے دانشور، کالم نگار اور ڈرامہ نگار ایک وقت میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ڈرامہ نگاری، شاعری، افسانہ نگاری اور ناول نگاری کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتے ہیں مگر وہ جوں ہی منظر عام سے ہٹ جاتے ہیں تو ان کی پذیرائی ختم ہونے کے ساتھ لوگ اور دوست بھلا دیتے ہیں ادب، ثقافت، سیاست اور سماجیت کے افق پر وہی شخصیات دائمی شہرت حاصل کر پاتی ہیں جن کا کوئی نظریاتی بیانیہ اور اصول پسندی شامل ہوتی ہے، دوسرے انہیں ایسے حلقہ ادب کی حمایت شامل ہوتی ہے جو کہ ان کے حوالے سے مختلف پروگراموں اور اپنی تحریروں میں تذکرہ کرتے رہتے ہیں پاکستان میں بڑے بڑے شاعروں، کالم نگاروں افسانہ نگارو اور تخلیق کاروں جن کا تعلق بائیں بازو سے ہے انہیں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے ہمیشہ اپنی آنکھوں پر بیٹھائے رکھا ہے آج بھی مختلف چینلوں پر ہونے والے پروگراموں میں دائیں بازو کے لکھاریوں کی اکثریت غالب دیکھائی دیتی ہے ان کی جذباتی اور رومانوی تحریریں بڑے شوق سے پڑھی جاتی ہیں مگر ان کی بحث اور تحریروں کا محض وقتی اثرہوتا ہے کیونکہ سماج کے حقوق اور مسائل کے حوالے سے وہ کبھی نظام کی تبدیلی کے بارے میں گفتگو نہیں کرتے ہیں آج ہمیں انسان دوست ادب اور فن کہیں دیکھائی نہیں دیتا ہے اور ہمیں زیادہ تر ادب برائے ادب کی بحثیں اور غیر نظریاتی بیانیوں کے حوالے سے بے لاگ تبصرے سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں ہمارے ادبی حلقوں کو کسی تازہ مرنے والے ادیب دانشور اور شاعر کی تلاش ہوتی ہے کہ اس کے بارے میں تحقیقاتی مکالے تحریری کر سکیں یا ایم فل حاصل کرنے والے طالبعلموں کو تھیسز لکھنے کیلئے یونیورسٹی والے نئی شخصیت کے بارے میں کہیں۔یہی صورتحال مستقبل قریب میں ڈاکٹر انور سجاد کے بارے میں ہوگی وہ شخص دس سال تک بستر علالت پر تھا اس کی عیادت کیلئے کوئی نہیں جاتا تھا سوائے چند ترقی پسند مصنفین کے متحرک اراکین کے انہیں انجمن ترقی پسند منصفین کی طرف سے لائف اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا گیا حکومت نے ان کے وظائف بند کر رکھے تھے جس کی بحالی کیلئے ان کی بیگم نے صدر پاکستان عارف علوی کو خط لکھا تھا جبکہ ہمارے متحرک پولیٹیکل فرخ سہیل گوندی نے متعلقہ وزارت کے وزیر اور دیگر محکموں سے ملاقات کی خیال تھا کہ انہیں وظیفہ مل گیا ہو گا لیکن ہمارے ناروے میں موجود دوست سید مجاہد علی کے بقول اس سلسلہ میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی انہیں امدادی فنڈز دیئے گئے ہیں ڈاکٹر انور سجاد کا انتقال عید کے دنوں میں ہوا جبکہ لوگ آنے جانے والے مہمانوں کی مہمانداری میں مصروف ہوتے ہیں جبکہ انسان صحت مند اور توانا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی تخلیقی اور مجلسی سر گرمیاں جاری رکھتا ہے تو لوگوں کے سامنے رہتا ہے مگر ڈاکٹر انور سجاد کے ساتھ زیادہ ہی بے اتناعی برتی گئی ان کے وظیفہ کی بحالی کیلئے فرخ سہیل گوندی نے کوششیں کیں یاد رہے کہ وہ ایک انسان دوست اور دانشور شخصیت ہیں جنہوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی وابستگی ختم کرنے کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو کے ترقیاتی پسندانہ نظریات کے ساتھ رومانوی رشتے کو بر قرار رکھا ہے اور گردش ایام سے دو چار ادیبوں اور شاعروں کی مدد کیلئے سر گرم عمل رہتے ہیں انہوں نے چند روز قبل ڈاکٹر انور سجاد کا انٹر ویو بھی کیا جو کہ گوندی گروپس الیکٹرک میڈیا پر موجود ہے۔جس میں دالخراش صورتحال کے حوالے سے زمانے کی سر د مہری اور بے اعتنائی کا ذکر ہے ڈاکٹر انور سجاد ایک ترقی پسند سوچ رکھنے والے لکھاری تھے، وہ پیپلز پارٹی سے اس لئے متاثر تھے کہ اس نے پاکستان میں محکوم طبقات کے حوالے سے عوام دوست منشور دیا تھا وہ اس کے فکری ونگ سے وابستہ تھے۔وہ نظریاتی رومانیت کے عشق میں مبتلا پاکستان میں طبقاتی جکڑ بندیوں سے آزادی کیلئے جدو جہد کرتے رہے۔ وہ کہتے تھے کہ میں اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے طبقے کیلئے لکھتا ہوں جو کہ محنت کشوں خاریوں اور چھوٹے کسانوں پر مشتمل ہے، آپ پوچھیں گے کہ ڈاکٹر انور سجاد کون ہے۔
ڈاکٹر انور سجاد اندرون لاہور وارڈ سٹی میں پیدا ہوئے ان کے والد کا تعلق لدھیانہ اور والدہ امر تسر سے تھیں، سید گھرانے سے تعلق رکھنے والے انور سجاد نے اپنے نام کے ساتھ کبھی سید نہیں لکھا تھا اور کہتے تھے میری عادات سیدوں والی نہیں لہذا اپنے نام کے ساتھ سید لکھنے سے گریز کرتا ہوں ان کے والد لاہور کے جانے پہچانے ڈاکٹر تھے انہوں نے کنگ ایڈوٹ کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا بچپن سے ہی ریڈیو پاکستان کے پروگرام میں جانے لگے اور لاہور آرٹ کونسل کے مختلف ڈراموں میں کام کیا 1964میں پاکستان ٹیلی ویژن پر آئے یاد رہے 1950سے1975تک پاکستان میں بڑا تخلیقی ماحول تھا ہر قسم کی ثقافتی اور سماجی سر گرمیاں ہو رہی تھیں تھیٹر ہو رہا تھا، فکشن لکھا جا رہا تھا، انور سجاد کی ہمہ جہت خوبیوں والی شخصیت نے تخلیق کے ہر میدان میں قلم اٹھایا جو کہ کہیں پر فکشن ڈرامہ نگاری اور شاعری کے علاوہ آرٹ کی شاعری، رقص پر مشتمل تھی، جب ڈاکٹر صاحب 16برس کے تھے تو انجمن ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس ہوئی۔ اس زمانے میں پیپلز ڈیمو کریٹ سٹو ڈنٹس فیڈریشن کے نام کی ایک بائیں بازو کی تنظیم ہوتی تھی جس کے ناطے سے ان کا مزدور یونینوں اور مرزا ابراہیم سے رابطہ ہوا۔ انور سجاد نے جس عہد میں سیاسی اور نظریاتی بلوغت حاصل کی تھی اس وقت دنیا کے بڑے بڑے ایشوز تھے جس میں ویت نام میں ساری دنیا کو متاثر کیا ہوا تھا۔انہوں نے تاریخ کو بنتے بگڑتے اور دائیں بازو کے دانشوروں کے بقول تاریخ کو ختم ہوتے ہوئے دیکھاان کے بلراج میرا اور سریند ر پرکاش بقول 1965کی جنگ کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے ادیبوں کے درمیان رابطے ختم ہو گئے تھے۔ مختلف بحثوں میں ترقی پسندی کی نئی تشریح کے حوالے سے بحث ہوتی تھی اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی ختم ہو چکی تھی سعادت حسن منٹو کے بقول ہندوستان کے ترقی پسندوں کی لائن ماسکو سے سیدھی آتی تھی اسی دوران تھوڑی سے تازہ ہوا چین کی طرف سے آئی تھی، مازوے تنگ کی تھیوری میں بھی تضادات تھے آخر وہی ہوا ماؤ سے کسی نے انقلاب کے بارے پوچھا تو اس نے کہا بات نہیں بنی ہے۔ ڈاکٹر انور سجاد کو سعادت حسن منٹو پسند تھے وہ سمجھتے تھے کارل مارکس کا بہت زیادہ کنٹری بیوشن ہے، کیونکہ انقلاب کا مطلب مسلسل تغیر اور تجربے کرتے رہنا ہے مگر یہ بد قسمتی ہے کہ پاکستان کے بائیں بازو کے لیڈر ابھی ستر کی دہائی میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کی نئی بحثیں نئی گروپ بندیوں اور دھڑوں کو تشکیل کر رہی ہیں، وہ انتصار حسین کو نظریاتی معاملات سے قطع نظر ایک بڑا فطری اور ماہر کہانی کار سمجھتے تھے انہوں نے انتظار حسین کے کالم بستی پر مضمون لکھتے ہوئے کہا کہ انتظام حسین لاکھ چاہیں کہ وہ ترقی پسند ہو جائیں لیکن ان کی نسل کا پرابلم ہے وہ اپنے نظریاتی بیانیہ کے دائرہ کار سے باہر نہیں نکل سکتے ہیں وہ کلاسیکل سوچ کے حامل ہیں یہ لوگ نئے تجربات کرنے سے ڈرتے ہیں ڈاکٹر انور سجاد کہتے ہیں انسان پیدائشی طور پر اسباط چاہتا ہے۔ اس نے غاروں میں تصوریں بنائین جس میں بعد کو جادو کا نام دیا گیا ان لکیروں کے ذریعے انسان نے کائنات میں اپنی موجودگی کا اظہار کیا۔ عہد حاضر کی ممتاز دانشور اور نقاد ڈاکٹر شاہین مفتی کے بقول انور سجاد کی تحریروں میں خاص قسم کا اضمحلال ہے اور منتشر خیالی ہے جو کہ پڑھنے والے کو ہیجان اور افسردگی میں مبتلا کرتی ہے ان کے کرداروں کی فکری اٹھان چھوٹے چھوٹے ہیجانی جھٹکوں میں مبتلا کر دیتی ہے اور وہ ایک خاص فکری اسودگی حاصل کرتے ہیں افسانی ادب کے تنقید نگار ان کے علامتی اور تحریری افسانوں کو پاکستان کے طویل مارشل لائی نظام کا مسلسل جائزہ قرار دیتے ہیں اپنے جدید نظریات کا انہوں نے خوب پر چار کیا ادب میں کئی تنازعات کو جنم دیا زندگی کے آخری سالوں میں انہوں نے تند و تیز انٹر ویو ریکارڈ کروائے ان کی شفاف اور تربیت یافتہ آواز تھی نظریاتی لگن ان کا سرمایہ تھی وہ محبت اور سرمایہ کے میدان میں ہمیشہ خالی ہاتھ رہے ایسے سچے اور کھرے لوگ حال ہی حال ملتے ہیں اللہ ان کی مغفرت کرے(آمین)1967میں ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی وہ اس کے بانی ارکین میں شامل تھے اور جنرل ضیاء الحق کے دور میں قید و بند کی صوبتیں برداشت کیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں