پٹواری منطق العنان شہنشاہ ہو تا ہے۔۔

آسمان بدلتا ہے رنگ کیسے کیسے کا محاوہ تو صدیوں سے اپنی جادو گری دکھا رہا ہے‘ موجودہ عہد میں بہت سی نئی امسطامات اور نئی با تیں منظر عام پر آئی ہیں ان میں سیاسی زاویہ نگاہ سے دہشتگردی کے خوفناک لفظ نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے‘لیکن قیام پاکستان اور قیام پاکستان سے قبل پٹواری نامی ایک مخلوق کی بہت سے بڑے بڑوں کی ہوا نکل جا تی تھی اور وہ پٹواری کے دربار پیش ہونے سے لرزتے تھے کیونکہ پٹواری قانون گو اور گرد اور کہنے کو معمولی درجہ کے سرکاری ملازم قرار دئیے جاتے ہیں لیکن 22بائیس گریٹ کے بھی ان کا پانی بھرتے دکھائی دیتے کیونکہ ان کی قلم کی مار تو شہنشاہ کو بھی گھراگر بنا دیتی تھی اور بڑی سے بڑی عدالت بھی ان کے لکھے کو حرف آخر قرار دیتی اور یہ معمولی درجہ کا سرکاری جب ہم ساہو تو سامنے آئے کا نعرہ اختیار بلند کر تا ہے تو صدر مملکت ایوب خان جیسا فیلڈ مارشل بھی پٹواری کو رام کرنے کیلئے سفارشی کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دیتا ہے‘ قدرت اللہ شہاب جیسے طاقت ور افسر نے اپنی سوائخ عمری میں پٹواری کی شاہ گردی کے بہت سے واقعات پر روشنی ڈالی ہے جو آج کی دہشتگردی سے بھی بڑا خوفناک حرب قرار دیا جا سکتا ہے‘ دہشتگردی کے نتیجہ میں تو موت مسائل سے نجات دلا دیتی ہے لیکن پٹواری کی شاہ گردی تو چمن کی تمام مہک ہی چھین لیتی‘عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ کے سر براہ جسٹس عمر عطا بندیال نے زمین کی منتقلی میں پٹواری اور تحصیل دار کا کردار ختم کر نے کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ پٹواری نظام فرسودہ ہو چکا ہے‘ اس میں سنگین کرپشن ہے کوئی متبادل نظام لانا چاہیے‘ عدالت عظمیٰ کے جسٹس عمر عطا بندیال اپنے دیگر دو جسٹس فیصل عرب اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل بنچ کے ہمراہ از خود نوٹس کے مقدمہ کے سماعت کر رہے تھے‘ مقدمہ کی سماعت کے دوران بلوچستان کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے اپنا جواب جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ بلوچستان ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ نافذ نہیں ہے‘ اس کے باوجود زمین کی منتقلی سے روک دیا گیا ہے‘ لہذا عدالت عظمیٰ نے پنجاب سندھ بلوچستان اور خیبر پی کے نمائندوں کو اپنا موقف اور جواب جمع کرانے کی ہدایت کی اور آئندہ سماعت عید کے بعد مقرر کر دی اور اپنے ریمارکس میں کہا پٹواری اور تحصیل دار کے کردار کو ختم کرنے کیلئے عدالت اپنا فیصلہ صوبوں کے جوابات وصول ہونے کے بعد کریگی‘ عدالت عظمی اس اہم مسئلہ کے حل کیلئے کیا فیصلہ کر تی ہے‘ یہ تو فیصلہ آنے پر ہی معصوم ہو گا‘ جبکہ پنجاب میں پہلے ہی زمین کی منتقلی کا نظام اور سارا ریکارڈ کمپیوٹرائز ہو چکا ہے اس کے باوجود ہیرا پھیری اور فراڈ کے واقعات منظر عام پر آ تے رہتے ہیں‘ کرپشن اور رشوت کا بازار پورے جوبن پر ہے اور لوگوں نقول حاصل کرنے کیلئے ”رشوت“ دینی پڑی ہے‘ہم نہیں جانتے کہ متبادل نظام کی شکل کیا ہو گی لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ مغربی اور امریکی ممالک میں یہ نظام اس قدر مضبوط ہے کہ کوئی پٹواری کسی کا حق مارنے کیلئے اپنی رپورٹ میں یہ تحریر کرنے کی جرات نہیں کر سکتا کہ فلاں اراضی تو دریا برد ہو چکی ہے‘ اگر پاکستان میں اراضی کے حوالہ سے سروے کرایا جائے تو آج کے ساٹھ فی صد جاگیر دار اور بڑے زمینداروں نے پٹواری اور تحصیل دار کی ”ملی بھگت“ نے نہ صرف سرکاری اراضی اپنے نام ”منتقلی“ گرائی بلکہ اپنے مخالفین کی اراضی پر بھی فیصلہ کیا‘ زمین کے تنازعہ پر جس قدر خون ریزی ہو چکی ہے اگر گہری نظڑوں سے اس خون ریزی کی جڑ تلاش کی جائے تو پٹواری اور تحصیل دار کی کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی وجہ سے بعض لوگ تو موت کی وادی میں داخل ہو گئے جبکہ پٹواری اور تحصیل دار ”اربوں پتی“ ہو گئے‘ سیاسی دنیا میں بعض پٹواریوں کی اس قدر شہرت ہے اور تھی کہ سیاسی لیڈروں کے وہ فنانسر کا درجہ رکھتے تھے‘ زمین دیہی ہو یا شہری جب تک پٹواری اور تحصیل دار کسی کو حقوق ملکیت عطا نہیں کر تا وہ وارث قرار نہیں پا سکتا‘ لہذا عدالت عظمیٰ نے درست ہے کہ حکماء قبض کو تمام بیماریوں کی جڑ قرار دیتے ہیں ایسے ہی پٹواری اور تحصیل دار تمام تر کرپشن کے وہ سمندر ہیں جو اس سمند میں ڈوب کیا اس کی نسل کی تباہی بھی ان منطق العنان شہنشاہوں کے قلم نے تحریر کر دی گویا پٹواری اور تحصیل دار کی قلم انسانوں کا مقدر قرار پائی لہذا اس قلم کو جس قدر جلد ہو پٹواری اور تحصیل دار کے ہاتھ سے چھین لیا جائے‘ یعنی شاہی اختیارات انہیں حاصل ہیں ان پر نظریانی کی ضرورت ہے اور موجودہ جدید عہد میں ماضی کے ان مزارات کو مسمار کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جیسے فرہاد سے شریں کیلئے شہد اور دودھ کی نہر کھودنے کی سعی کی نہر تو نہ کھودی گئی‘کیا عدالت عظمی پٹواری اور تحصیل کی بہتی ہوئی کرپشن کی نہر بند کرنے میں کامیاب ہوجائے‘دیکھیں کیا ہو تا ہے اور کیا نتیجہ برآمد ہو تا ہے ہم بھی دیکھیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں