پرانے شکاری، نیا جال لائے

بشکریہ۔۔۔ روز نامہ 92نیوز
تحریر۔۔۔اوریا مقبول جان
کیمونسٹ طلبہ تحریک کی شروع دن سے ہی تین علامتیں تھیں، اور آج تیس سال کے وقفے کے بعد جب اس تحریک کا دوبارہ آغاز کرنل (ریٹائرڈ) فیض احمد فیض کی یاد میں منعقد لاہور میں امن میلے پر ” لال لال لہرائے گا” گا کر کیا گیا تو وہی تین علامتیں ویسے ہی نظر آتی تھیں۔ امریکی اور یورپی امداد سے چلنے والی این جی اوز میں تیس سال پناہ لینے والے افراد اب سیکولرزم کے بوسیدہ لباس سے برآمد ہوئے ہیں۔ یہ تین علامتیں تھیں (۱) الحاد:یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کے عطا کردہ نظام زندگی سے انکار (۲) پاکستان میں رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر قوم پرستی کے تعصب کا فروغ اور اسکے ذریعے نظریہ پاکستان ہی نہیں بلکہ تخلیق پاکستان سے انکار اور (۳) عورت و مرد کے اختلاط سے ایک ایسے ماحول کی راہ ہموار کرنا جس میں اخلاقی اقدار بے معنی ہو کر رہ جائیں۔سب سے پہلے، الحاد اور مذہب دشمنی، یہ دراصل عالمی کیمونسٹ تحریک کی بنیاد ہے، اور سارے کیمونسٹ اپنے بانی کارل مارکس کا یہ فقرہ عموماً لکھتے اور بولتے ہیں کہ ” مذہب ایک افیون ہے”۔ کیمونسٹ طلبہ تنظیمیں جو لٹریچر طلباء کو پڑھنے کے لیے دیتی تھیں اس میں اول سے لے کر آخر تک، خدا اور مذہب کا انکار تاریخی، سائنسی اور جدلیاتی دلیلوں سے کیا جاتاتھا۔ اینگلز کی کتاب ” خاندان، ریاست، ذاتی ملکیت کا آغاز” فورا پڑھائی جاتی۔ان کتب کا فلسفہ یہ تھا کہ، انسان اصل میں ارتقائی مراحل سے گزرتا ہوا خود بخود ہی مہذب ہوگیا ہے، اس نے اپنے لئے اخلاق بنا لیے ہیں، رشتوں میں بھی تمیز کر لی ہے اور پھر خود ہی مذہب بھی تخلیق کرلئے ہیں ۔ روسی لٹریچر پورے پاکستان میں عام میسر تھا اور ایک کتاب ”انسان بڑا کیسے بنا” پڑھنے کو دی جاتی تھی۔ ریگل چوک میں میاں افتخار الدین کی دوکان ”کلاسیک”کیمونسٹ لٹریچر کی فروخت کا ٹھکانہ تھی جہاں سے دیگر لٹریچر کے ساتھ سوویت یونین کا رسالہ ”ستپنک” اردو زبان میں ملتا تھا۔ اسی ریگل چوک کے آس پاس سرخ قمیض میں ملبوس ایک سرخ و سپید چہرے والا خوبصورت بزرگ عموماً نظر آجاتا۔ یہ خوبصورت شاعر،” موسم بدلا، رت گدرائی، اہل جنوں بے باک ہوئے”، لکھنے والا کیمونسٹ تحریک سے ایسا متاثر ہوا کہ الحاد کے گیت گانے لگا آسمانوں سے اُترتی ہے نبوت نہ کتاب آسمانوں میں اندھیروں کے سوا کچھ بھی نہیں طلبہ تحریکوں کے ساتھ ساتھ انجمن ترقی پسند مصنفین کا بھی بہت زور و شور تھا۔ پاک ٹی ہاؤس جو کئی برسوںسے ہر نظریے کے ادیب کے لیے اپنی باہیں کشادہ کیے ہوا تھا۔ وہاں ایک طوفان بدتمیزی کھڑا ہوگیا۔کیمونسٹ طلبہ تحریک کے بطن سے برآمد ہونے والے دانشوروں کی غنڈہ گردی ایسی بڑھی کہ انتظار حسین جیسے عظیم افسانہ نگار کو اپنی عزت بچاکر وہاں سے نکلنا پڑا۔ جو ادیب ذرا بھی اللہ، رسول اور مذہب کے حوالے اپنی تحریروں اور شاعری میں دیتے انہیں نہ صرف مسترد کیا جاتا بلکہ انکا جینا دوبھر کردیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر شعرا اور ادیبوں نے مقبول عام ہونے کیلئے ایسے اشعار لکھنے شروع کر دیے جن میں خدا، رسول اور مذہب کا انکار ہو۔ یہاں تک کہ احمد فراز جیسا شاعر جسے زلف و رخسار اور عشق و محبت سے ہی زندگی بھر فرصت نہ ملی اس نے بھی لکھ ڈالا ان رسولوں کی کتابیں طاق پر رکھ دو فراز نفرتوں کے یہ صحیفے، عمر بھر دیکھے گا کون الحاد اور مذہب دشمنی ان لوگوں نے شاعروں، ادیبوں اور لکھاریوں کے ذمہ چھوڑ رکھی تھی تاکہ وہ نئی نسل کی آبیاری کرتے رہیں۔لیکن کیمونسٹ طلبہ تحریکیں بدترین قسم کی قوم پرست سیاست کے علمبردار بن گئی تھیں۔بات دراصل یہ تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو نے کیمونسٹ رہنماؤں کی نظریاتی سیاست کو امریکی پالیسیوں کے دباؤ میں دفن کردیا تھا۔ بھٹو نے جب عراق کے سفارت خانے سے روسی اسلحہ برآمد کیا اور اس کے نتیجے میں بلوچستان میں کیمونسٹ انقلاب کی خبر دیتے ہوئے عطا اللہ مینگل کی حکومت ختم کی تو اسکے نتیجے میں احتجاج کرتے ہوئے صوبہ سرحد میں نیشنل عوامی پارٹی حکومت نے استعفی دے دیا۔ اب کیمونزم یا لیفٹ کی سیاست کا یہ عالم ہو گیا کہ سندھ اور پنجاب والے بھٹو کے ساتھ تھے اور سرحد اور بلوچستان والے بھٹو کے خلاف جنگ میں مصروف تھے۔ پنجاب سے واحد آواز حبیب جالب کی تھی جو کسی طور پر بھی کیمونسٹ نہیں تھا بلکہ ایک آمریت مخالف مجاہد تھا۔اس نے بلوچستان اور سرحد کا ساتھ دیا۔ کس قدر بدقسمتی ہے کہ جالب پر ایک ہی غدّاری کا مقدمہ بنا اور وہ ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا جسے حیدرآباد سازش کیس کہتے ہیں۔ ایوب خان کے خلاف ”میں نہیں مانتا” لکھنے والا یہ شاعر اب بھٹو کے خلاف ”لاڑکانے چلو، ورنہ تھانے چلو” لکھنے لگا۔تاریخ یہ ہے کہ لیفٹ اور کیمونزم کی سیاست کے ساتھ ساتھ اسکی طلبہ سیاست بھی دفن ہو گئی تھی۔ جب دسمبر 1970 میں ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تھا۔ اب صرف قوم پرست جدوجہد باقی رہ گئی، اور وہ بھی بلوچستان کے پہاڑوں اور ریگستانوں میں۔ پنجاب اور سندھ کے نظریاتی کیمونسٹ فیض احمد فیض سمیت حکومت کے ثقافتی مشیر بن گئے اور جو چند دھن کے پکے تھے انہوں نے نجم سیٹھی اور راشد رحمان کی طرح بندوق اٹھائی اور بلوچوں کے ساتھ پہاڑوں پر چلے گئے۔ بھٹو دور میں یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اسلامی جمعیت طلبہ بہت پھلی پھولی۔ ہر کوئی اس کے سائے تلے آکر انتخاب جیتنا چاہتا تھا۔ جاوید ہاشمی سے لے کر حسین حقانی تک، کون تھا جس نے اسلامی انقلاب کی بہتی گنگا میں ہاتھ نہ دھویا ہو۔ کمال دیکھئے کہ کراچی یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ یونین کی طرف سے اسلامی جمعیت طلبہ کا امیدوار حسین حقانی تھا اور کیمونسٹ سیاست کے متحدہ محاذ کا امیدوار الذوالفقار کا طیارہ اغوا کرنے والا، سلام اللہ ٹیپو۔ دونوں جانب اب طلبہ سیاست نظریاتی رہی تھی اور نہ ہی اخلاص پر مبنی۔ جس طرح ذوالفقارعلی بھٹو نے کیمونسٹ طلبہ تحریک کو دفن کیا ویسے ہی اسلا می جمعیت طلبہ کی تدفین ضیاء الحق کے ہاتھوں ہوئی۔ مجھے پنجاب یونیورسٹی کے ایڈیٹوریم کا وہ دن یاد ہے جب یونین کے صدر لیاقت بلوچ نے ضیاء الحق کے برسر اقتدار آتے ہی انہیں یونیورسٹی پر اپنے قبضے کا یقین دلانے کے لئے مدعوکیا۔ ضیاء الحق ہال میں داخل ہوا تو ہال جمعیت کے مخصوص نعرے سے گونج اٹھا، انقلاب، انقلاب، اسلامی انقلاب۔ یہ وہ آخری نعرہ تھا جو صدق دل سے برآمد ہوا، پھر اسکے بعد سب کچھ صدا بصحرا ہو کر رہ گیا۔ اب تک یونیورسٹیاں صرف لاٹھیوں اور پیتل کے مکوں کی لڑائی تک محدود تھیں۔کہیں کہیں اسلحہ لہرا دیا جاتا، مگر افغان جہاد نے پورے ملک کی طرح یہاں بھی اسلحہ کو متعارف کروادیا۔ پورے چودہ سال روس کے پروردہ کیمونسٹ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ اسلام پسند یونیورسٹیوں میں مورچہ بند رہے۔ طلبہ سیاست کا بدترین نقصان یہ ہوا کہ ان تمام طلبہ تنظیموں نے اپنے زیراثر تعلیمی اداروں میں اپنی مرضی کے نالائق، ناکارہ اور نظریے سے وفادار استاد بھرتی کروانا شروع کر دیے اور پورے پاکستان کے اعلی تعلیمی نظام کی قبر کھود دی۔ پنجاب یونیورسٹی جماعتیوں سے بھر دی گئی اور سندھ یونیورسٹی سندھو دیش کے متوالوں سے، کراچی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آئی تو اس نے سب بدل کر رکھ دیا۔ بلوچستان اور سرحد کی یونیورسٹیاں بھی اسی طرح نالائقی کے پہاڑوں سے آراستہ ہو گئیں۔ وہ درسگاہیں جہاں کم از کم دو درجن ممالک سے غیر ملکی طالب علم شوق سے آکر تعلیم حاصل کرتے تھے اور جن یونیورسٹیوں کا معیار عالمی سطح پر پہچانا جاتا تھا،اب کا کھنڈر بنا دی گئیں۔ یونین کا صدر وائس چانسلر کو حکم دیتا کہ فلاں شخص کو لیکچرار رکھا جائے اور وہ خوفزدہ وائس چانسلر چوں چرا نہ کر سکتا۔آخرکار یونین ختم ہوگئیں،لیکن طلبہ تنظیمیں قائم رہیں اور انکے ساتھ خوف بھی اور یہ خوف آج بھی قائم ہے۔ آج قوم پرست تنظیمیں اسلام آباد یونیورسٹی سے خضدار اور گومل یونیورسٹی تک اپنی بات بزور طاقت منواتی ہیں اور اسلامی جمعیت طلبہ کا بھی جہاں بس چلتا ہے، وہاں وہ طاقت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ ایسے میں اگرآج الیکشن ہوتے ہیں تو کیا یہاں امن کی فاختائیں میدان میں اتریں گی۔ تعلیمی ادروں کے ساتھ طلبہ یونینز وہی سلوک کریں گی جو پاکستان کی بددیانت جمہوریت ملک کے سطح کر رہی ہے۔(ختم شد)
بشکریہ۔۔۔ روز نامہ 92نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں