پاکستانی جمہوریت : خرابی کی جڑ،اصلاح کا راستہ : آخری قسط

بشکریہ۔۔۔روز نامہ 92نیوز
تحریر۔۔۔اوریا مقبول جان
پاکستان کے جمہوری نظام کی سب سے بڑی خرابی ’’حلقہ جاتی طریقۂ انتخاب‘‘ (Consititinecy Based Elections) ہے۔ یہ طریقہ انتخاب اس وقت دنیا کی صرف چند بڑی جمہوریتوں میں ہی رائج رہ گیا ہے ،جن میں برطانیہ اور بھارت سرفہرست ہیں،جبکہ بیشتر جمہوری ممالک نے اس نظام کو مکمل طور پر نمائندہ نہ ہونے کی بنیادپر مسترد کر دیا ہے۔ اس طرح کے طریقۂ انتخاب کو دنیا بھر کے سیاسی ماہرین پاکستان جیسے کسی بھی منقسم معاشرے کے لیئے زہرِ قاتل خیال کرتے ہیں۔الیکشن اور جمہوری سیاست کے ماہرین دلائل کی بنیاد پر بتاتے ہیں کہ حلقہ جاتی الیکشنوں کی وجہ سے لوگوں میں نفرتیں بڑھ جاتی ہیں اور متصادم گروہ آپس میں مزید سخت ہوجاتے ہیں ،جس کی وجہ سے معاشرتی ہم آہنگی ختم ہو کر رہ جاتی ہے اور اس سب کے نتیجے میںملک کا امن و امان تک تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔ یہ طریقۂ انتخاب کسی طور بھی عوام کے ووٹوں کی صحیح اور مکمل نمائندگی بھی نہیں کرتا۔ ایک حلقۂ انتخاب میں اگر دس امیدوار کھڑے ہیں تو عین ممکن ہے ان میں سے صرف پندرہ فیصد ووٹ لینے والا الیکشن جیت جائے اور یوں باقی پچاسی فیصد ووٹروں کی اسمبلی میں کوئی نمائندگی تک نہیں ہوتی کیونکہ یہ پچاسی فیصد ووٹ تو ہارنے والے نو (9)امیدواروں میں تقسیم ہو کر ضائع ہوچکے ہوتے ہیں۔ اسی لیئے دنیا کے91ممالک ایسے ہیں جن میںایک عرصے سے الیکشن ’’متناسب نمائندگی‘‘ (Proprtional Representation) کی بنیاد پر منعقد ہوتے ہیں۔ متناسب نمائندگی کے طریقۂ انتخاب کے تحت پورے ملک میں ووٹر سیاسی پارٹیوں کوبراہ راست ووٹ ڈالتے ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی کے حصے میں جتنے بھی ووٹ آتے ہیں وہ ان کے مطابق اسمبلی میں اپنی نشستیں حاصل کر لیتی ہے اور ان نشستوں پر اہل ، قابل اور حکومتی امور کے ماہر افراد کو نامزد کرتی ہے۔اس طرح اگر ایک پارٹی کے ووٹ اتنے کم ہیں کہ وہ صرف ایک ہی سیٹ کی حقدار ہو تو بھی اسے اسمبلی میں وہ سیٹ ضرور مل جاتی ہے اور یوں اسمبلی میں عوام کے اس مختصر ترین گروہ کی نمائندگی بھی ہو جاتی ہے۔ یعنی اسمبلیوں میں زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم ووٹ حاصل کرنے والوں کی اپنی تعداد کے مطابق پوری کی پوری نمائندگی ہوتی ہے۔ پارٹیاں ’’حلقۂ انتخاب‘‘ سے بالاتر ہو کر قابل اور اہل لوگوں کو اسمبلیوں میں بھیجتی ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک جاہل اور ان پڑھ اس لیئے اسمبلی میں چلا جائے کہ اس کے ’’حلقۂ انتخاب‘‘ میں اس کی برادری، قبیلے یا قوم کے ووٹ زیادہ ہیں۔ان 91ملکوں میں جہاں براہ راست پارٹیوں کو ووٹ ڈالے جاتے ہیں، دنیا کے بڑے بڑے ممالک ،آسٹریلیا، بلجیم، برازیل، ڈنمارک، جرمنی، فن لینڈ، یونان، آسٹریا، اٹلی، انڈونیشیا، نیوزی لینڈ،ہانگ کانگ، ترکی ،جاپان، آئس لینڈ، سویڈن اور سپین جیسے اہم ملک شامل ہیں۔ ان تمام ممالک میں پارٹیاں خود کو نظریاتی سانچے میں آسانی سے ڈھالتی ہیں اور چند مخصوص علاقائی سیاستدانوں کے جتھے سیاسی پارٹیوںکو کسی طور بھی بلیک میل بھی نہیں کر سکتے۔متناسب نمائندگی کا یہ جمہوری نظام چونکہ خالصتاً پارٹی کی بنیاد پر الیکشن کرواتا ہے، اسی لیئے وقت کے ساتھ ساتھ پارٹیاں علاقائی ووٹروں، قبائلی عصبیتوںاور برادری کی وفاداریوں سے بالاتر ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اسمبلی میں جانے والے ممبران کا چونکہ کوئی ایک ’’حلقۂ انتخاب‘‘ نہیں ہوتا، اس لیئے ان کی سوچ بھی علاقائی نہیں رہتی۔ ایسی اسمبلیوں میں منصوبہ بندی بھی اجتماعی سطح پر ہوتی ہیں اور ترقیاتی پروگرام بھی حلقہ بندیوں سے بالا تر ہو کر بنائے جاتے ہیں۔ حلقہ بندیوں والے انتخابات کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ایک رکن اسمبلی اپنے حلقے کے ووٹر سے بلند ہو کر نہیں سوچ سکتا۔ وہ اگر خوش قسمتی سے کسی محکمے کا وزیر بن جاتا ہے تو پھر آئندہ انتخاب میں زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لیئے اپنے ہی حلقے کے افراد کو بھرتی کرتا ہے، کوشش کرتا ہے سڑک ، شفاخانہ اور سکول وغیرہ بھی اسی علاقے میں بنیں، خواہ اس کے ارد گرد کے علاقوں میں ایسی سہولیات کی زیادہ ضرورت ہی کیوں نہ ہو۔ متناسب نمائندگی کا یہی نظام ہے جس کی بدولت پاکستان معرضِ وجود میں آیاتھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے مسلمانوں کے لیئے علیحدہ نشستوں کا مطالبہ کیا تھا، جس کے تحت الیکشنوں میں مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم بن کر ابھری تھی۔ قیامِ پاکستان کا معجزہ دنیا کے مروجہ جمہوری اصولوں کے مطابق کرائے گئے الیکشنوں کی ذریعے کبھی بھی وقوع پذیر نہیں ہو سکتاتھا۔ہندوستان کے تقریباً نوے فیصد ’’حلقہ ہائے انتخاب‘‘ میں ہندو اکثریت میں تھے اور وہ کسی بھی صورت پاکستان کے حق میں ووٹ نہ ڈالتے اور یوں ’’حلقہ بندی والے جمہوری الیکشنوں‘‘ کے ذریعے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو پاتا۔ اس لیئے یہ دعویٰ عین حقیقت ہے کہ پاکستان عمومی جمہوری اصولوں کی بنیاد پر وجود میں نہیں آیا، بلکہ ایک مذہبی اقلیت کو جمہوری اکثریت کی آمریت سے نجات دلانے کے لیئے تخلیق ہوا تھا۔ اگر ہندوستان میں خالص جمہوری الیکشن کروائے جاتے تو آج پاکستان کا اس خطے میںوجود تک نہ ہوتا اورہماری وہی حالت ہوتی جو اس وقت بھارت میں چوبیس کروڑ مسلمانوں کی ہے۔ برطانوی ہندوستان کی آبادی، 1941کی مردم شماری کے مطابق 39کروڑ تھی جبکہ ان میں مسلمانوں کی تعداد 8.9کروڑ تھی جو پوری آبادی کا 22.8فیصد بنتی ہے۔ ان میں پاکستان اور بنگلہ دیش، دونوںکے مسلمان بھی شامل تھے۔ آج کے بھارت میں بھی مسلمانوں کی تعداد اتنے ہی فیصد ہے۔ یعنی وہ لوگ جو ابو الکلام آزاد کی دی گئی منطقیں پیش کرتے نہیں تھکتے کہ ہم اگر اکٹھے رہتے تو ہم ایک کثیر تعداد کی وجہ سے اپنے مفادات کا زیادہ بہتر دفاع کر سکتے تھے، ان کی خدمت ِ اقدس میں عرض ہے کہ اگر متحدہ ہندوستان آزاد ہوتا تو آج پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کا بھی وہی حشر ہوتا جو بھارت میں ممبئی، احمد آباد اور اورنگ آباد جیسے شہروں میں ہو رہا ہے جہاں مسلمانوں کی ان شہروں میںآبادی 35 سے 40 فیصد تک ہے، مگر ان کی ذلت و رسوائی اور استحصال بھی اتنا ہی زیادہ ہے۔ یہ تمام تلخ حقائق اس لیئے بیان کر دیئے ہیں تاکہ حقیقت حال واضح ہو کہ آج بھی پاکستان میں رائج ’’حلقہ جاتی جمہوری نظام ِ حکومت‘‘ میں کسی بھی بہتری کی توقع رکھنا خیالِ خام ہے۔ جوں جوں یہ انتخاب مسلسل ہوتے جائیں گے، حلقوں کے لوگوں میں گروہ بندیاں مزید سخت سے سخت تر ہوتی چلی جائیں گی۔ متناسب نمائندگی والے الیکشنوں کے بعد دوسرا اہم ترین فیصلہ جو اس ملک کے استحکام اور بقا کیلئے ضروری ہے جو اس ملک کو نفرتوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب سے بچا سکتا ہے وہ انگریز کی بنائی ہوئی صوبائی تقسیم یعنی ان چار وفاقی اکائیوں سے نجات ہے۔ یہ چاروں صوبے جنہیں ہم ’’وفاقی اکائیاں‘‘ کہتے ہیں، انہیں بھی انگریز نے ہمیں تحفے میں دیا ہے۔ انگریز نے یہ صوبے ایسے تخلیق کیئے تھے کہ ان میں ایک بڑی لسانی اکثریت وہاں آباد لسانی اقلیت پر حکمران رہی اور جوتیوں میں دال بٹتی رہی ۔ بلوچستان میں بلوچ، پشتون اور بروہی تقسیم ایک آتش فشاں ہے، سندھ میں سندھی اور اردو بولنے والوں کی بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں، جبکہ پنجاب میں سرائیکی اور خیبر پختونخواہ میں ہندکو بولنے والے بھی کسی دن شعلہ جوالہ بن سکتے ہیں۔ دنیا کا ہر وہ ملک جس میں ایسے بڑے بڑے صوبے تھے جو اپنے اندر ایک آزاد ملک بننے کی اہلیت رکھتے تھے، وہ تمام ملک آج نفرتوں کے سیلاب میں بہہ کر بالاخر تقسیم ہو گئے۔ چیکو سلاویکیہ دو ملکوں، چیک اور سلویک میں تقسیم ہو گیا اور یوگو سلاویہ جیسے خوبصورت ملک سے سربیا، بوسنیا اور کروشیا جیسے تین ملک معرض وجود میں آگئے۔ انگریز کی کھینچی ہوئی ان لکیروں کا یہ کمال ہے کہ آج پاکستان دنیا کا وہ واحد بدقسمت ملک ہے جہاں کے سیاست دان پاکستان کو ختم کرنے کی باتیںتو عام کرتے ہیں، لیکن انگریز نے جو صوبوں کی لکیریں کھینچیں ہیں ان کے تحفظ کے لیئے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کے نعرے بلند کئے جاتے ہیں۔ جب تک یہ دو اقدا مات نہیں کئے جاتے اگلے سو سال بھی الیکشن ہوتے رہیں،پاکستان کا جمہوری کلچر نہیں بدل سکتا۔(ختم شد)
بشکریہ۔۔۔روز نامہ 92نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں