ٓآؤ مجید نظامی کی بر سی پر عہد کریں کہ پاکستان کی اساس نوائے وقت کو بچائیں!!!


آبروئے صحافت معمار نوائے وقت جناب مجید نظامی مرحوم کی پانچویں برسی بھی گزر گئی‘ جناب مجید نظامی27رمضان المبارک شب قدر کے روز2014ء اپنے خالق حقیقی سے جا ملے

مجید نظامی 3اپریل 1928ء کو سانگلہ ہل میں میاں محمد دین نظامی کے گھر پیدا ہوئے وہ اپنے بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھے میاں محمد دین نظامی کو اللہ تعالیٰ نے چار بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا تھا‘ جن میں ان کی سب سے بڑی بیٹی سردار بیگم تھی‘جس کے بعد جناب حمید نظامی‘بشیر نظامی‘مسز طلعت اکبر‘مجید نظامی اور بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے خلیل نظامی تھے‘ میاں محمد دین نظامی کا تعلق تجارت سے تھا

وہ انتہائی نیک سیرت با کردار اور علاقے کے معزز شرفاء میں شمار ہو تے تھے‘ دینی لگاؤ کی جہ سے وہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کی بیعت تھے اور انہیں نظامی کا لقب بھی عطاء کیا گیا تھا‘ جس کی وجہ سے میاں محمد دین جو کہ راجپوت قبیلے میں تھیم گوت سے تھے

ہر سال قیام پاکستان سے قبل ہندوستان میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے عرس مبارک میں شرکت کیا کر تے تھے‘ چنانچہ سلسلہ نظامی کی وجہ سے انہوں نے اپنے نام کے ساتھ نظامی لکھنا شروع کر دیا اور یہ سلسلہ ان کے خاندان کی اگلی نسل نے جاری رکھا اور یہی وجہ ہے کہ اب ان کی تیسری نسل میں بھی نام کیساتھ نظامی لکھنے کا سلسلہ جاری ہے‘میاں محمد دین نظامی کی اہلیہ محترمہ حسین بی بی کا تعلق گجرات کے علاقہ سے تھا‘ وہ بھی مذہبی گھرانہ سے تعلق رکھتی تھیں‘

انتہائی نیک سیرت خاتون تھیں‘عبادت گزار ہونے کا یہ عالم تھا کہ پوری پوری رات عبادت میں گزار دیتیں‘ پانچوں نمازوں کے علاوہ نماز تہجد اور نماز شراق بھی باقاعدگی سے پڑھتیں‘میاں محمد دین نظامی کے خالہ زاد بھائی لائل پور کے قریب حکمت کا کاروبار کر تے تھے اور میاں محمد دین نظامی کی اہلیہ کی چھوٹی ہمشیرہ کے خاوند بھی تھے‘


ان کا بھی مذہب سے اس قدر لگاؤ تھا کہ وہ دینی تبلیغ کے لئے جموں کشمیر سمیت دور دور علاقوں میں کئی کئی ماہ تک گشت پر رہتے تھے‘ مجید نظامی کے ایک ماموں چھ سات سالوں سے مل نہیں رہے تھے‘ نہ کوئی ان کا پتہ لگ رہا تھا کہ اچانک بقول بشیر نظامی کے ہمیں کسی نے بتایا کہ آپ کے ماموں شاہکوٹ کی مسجد میں نماز جمعہ پڑھا رہے ہیں تو ہم وہاں گئے تو وہ ہمارے ساتھ گھر آنے کی بجائے اچانک غائب ہو گئے اور پھر ان کی کبھی خبر نہ ہوئی‘یہاں سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ میاں محمد دین نظامی جو کہ خود بھی دینی لگا ؤ رکھتے تھے اور ان کا سسرالی خاندان بھی کس قدر مذہب اور دین سے لگاؤ رکھتا تھا‘ مجید نظامی کی والدہ کی ایک سہیلی یہ واقعہ میرے بچپن میں اکثر سنایا کر تی تھیں کہ آپ کی دادی کی تیسری بہن منڈی بہاؤ الدین کے پاس رہتی تھیں اور جب کبھی مجید نظامی صاحب کی والدہ گجرات اپنے والدین اور بہن کو ملنے جاتیں تو گجرات سٹیشن سے سانگلہ ہل کے لئے ٹرین میں سوار ہو تیں تو سادگی کا یہ عالم تھا کہ ٹرین کے انتظار میں دونوں بہنیں بار بار پکارتیں اور پھر کہتیں کہ اللہ میاں ٹرین دو تین گھنٹے لیٹ ہو جائے اور ہم آپس میں مل لیں‘مگر جب ٹرین وقت پر یا کچھ تاخیر سے ہارن بجاتی آ تی تو بے ساختہ دونوں بہنیں آپس میں گلے مل کر رونا شروع کر دیتی تھیں اور کہتیں کہ تو مر جانیں ضرور ٹائم تے آنا سی‘میاں محمد دین نظامی کی دلی خواہش تھی کہ ان کا بڑا بیٹا حمید نظامی ڈپٹی کمشنر بنے مگر ان کی یہ خواہش ان کی زندگی میں پوری نہ ہو سکی‘حمید نظامی مرحوم نے گورنمنٹ ہائی سکول سانگلہ ہل سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور قیام پاکستان سے پہلے ہندوستان کے مشرقی اور مغربی پنجاب میں او ل پوزیشن حاصل کرکے گولڈ میڈل حاصل کیا‘ مجید نظامی کی سب سے بڑی ہمشیرہ سردار بیگم کی شادی سیالکوٹ میں میاں سراج دین صاحب سے ہوئی تھی‘ اللہ تعالیٰ نے انہیں دو بیٹوں اور چار بیٹیوں سے نوازا تھا جن میں طارق محمود نظامی اور مصباح خورشید حیات ہیں‘جبکہ یاسمین‘محمود ہ سلیم‘باجی زبیدہ اور خالد محمود اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو چکے ہیں‘حمید نظامی مرحوم کے تین بیٹے جن میں بڑے شعیب نظامی‘عارف نظامی‘ طاہر نظامی اور بیٹی سائر ہ نظامی شامل ہیں‘ بشیر نظامی کا اکلوتا بیٹا احمد کمال نظامی (راقم) ہے‘ مسز طلعت اکبر کی بیٹی آمنہ اعظم ہے‘ خلیل نظامی کی چار بیٹیاں ہیں جن میں فائزہ‘عارفہ‘عائشہ حیات ہیں اور سنبل کا انتقال ہو چکا ہے‘ مجید نظامی مرحوم کی کوئی اولاد نہیں تھی‘جس کی وجہ سے مجید نظامی کی اہلیہ ریحانہ مجید کی بھانجی اور میاں عارف کی اہلیہ غزالہ عارف نے جو کہ 43مین روڈ لاہور میں رہائش پذیر تھے نے اپنی حقیقی بیٹی رمیزہ عارف کو یہ دیکھتے ہوئے کہ نظامی صاحب کی کوئی اولاد نہیں ہے‘لے پالک بیٹی بنایا کیونکہ نظامی صاحب مین روڈ پر اپنے سسرالیوں کے دائیں بائیں گھروں کے ساتھ رہائش پذیر تھے ان کی دلی خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اولاد نرینہ عطاء کرے اور اس کے حصول کیلئے انہوں نے اپنا دینی فریضہ سر انجام دیتے ہوئے ایک درجن کے قریب حج اور ڈیڑھ درجن کے قریب عمروں کی سعادت حاصل کی‘میاں محمد دین نظامی کے انتقال کے بعد گھر میں کفالت کی ذمہ داری بشیر نظامی نے سر انجام دی‘بشیر نظامی مرحوم تحریک پاکستان کے کارکن مسلم لیگ کے صوبائی جنرل سیکرٹری مجلس شوریٰ کے رکن تحریک پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ اور تحریک ختم نبوت کے مجاہد تھے‘قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں‘ قیام پاکستان سے قبل روز نامہ میلاپ پرتاب اور روز نامہ زمیندار سمیت مختلف اخبارات کے نیوز ایجنٹ اور نامہ نگار اور بک سیلر تھے‘ جس پر حمید نظامی مرحوم کو تحریک ملی اور بقول مجید نظامی انہوں نے کہا تھا‘ بھائی جان آپ اخبار فروخت کرتے ہیں اور میں اخبار شائع کروں گا کیونکہ گھر میں کتب اور اخبارات کی باتیں ہو تی تھیں جو کہ حمید نظامی کے ذہن میں نقش کر گئی اور یہی بات نوائے وقت نکالنے کی وجہ بنی‘سانگلہ ہل میں بشیر نظامی کا گھر نظامی برادران کے نام سے جانا جاتا تھا‘ حمید نظامی میٹرک کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے اسلامیہ کالج لاہور چلے گئے‘ مجید نظامی اپنے بھائی بشیر نظامی اور اپنی والدہ کے زیر سایہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تربیت کے عمل سے بھی گزرتے رہے‘جس روز ایوب خان نے مارشل لاء لگایا‘ 1954ء میں اسی روز نظامی برادران کی والدہ محترمہ حسین بی بی کا انتقال ہوا‘ بشیر نظامی اکثر کہا کرتے تھے کہ مجید کو میں اپنے ساتھ دکان پر بھی لے جاتا اور پھر وہ سکول سے آتا تو میں اسے سکول کا سبق بھی یاد کرواتا اور کبھی کبھار دوپہر کو جو اخبار بچ جاتے انہیں فروخت کرنے کیلئے ریلوے سٹیشن بھیجتا‘ اس بات کو خود محترم مجید نظامی اپنی زندگی میں اپنی تقریروں میں کہتے رہے ہیں کہ ہم سونے کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوئے ہم نے بہت محنت کی ہے‘ مجید نظامی بھی میٹرک کے بعد لاہور اعلیٰ تعلیم کیلئے چلے گئے‘ اس دوران وہ ہر ہفتے ٹرین کے ذریعے ہفتہ وار چھٹی کے روز سانگلہ ہل آتے اور یہ سلسلہ ان کا لندن تعلیم کے حصول کیلئے جانے سے قبل جاری رہا‘مجید نظامی جب لندن میں بارایٹ لاء کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے گئے تو اس دوران ان کی شادی سابق وفاقی وزیر سرتاج عزیز کی ہمشیرہ اور معروف صحافی ریڈیو پاکستان لاہور کے سٹیشن ڈائریکٹر اصغر بٹ کی اہلیہ نے گجرات کی ایک کشمیری فیملی میں کروائی اور مجید نظامی صاحب کا نکاح ٹیلی فون پر ہوا‘اور اس طرح ریحانہ مجید ان کی اہلیہ ہوائی جہاز پر جب لندن پہنچی تو انہوں نے اپنی اہلیہ کو ائر پورٹ پر بھیجی گئی تصویر سے پہچانا‘مجید نظامی کے سب سے چھوٹے بھائی خلیل نظامی بھی انتہائی شفیق ملن ساز‘رحم دل دھیمے اور ٹھنڈے مزاج کے آدمی تھے‘ دوست کے دوست اور انسان دوست شخصیت کے مالک تھے‘ اس قدر نرم مزاج اور خاطر تواضع کرتے کہ انہیں ملنے والا بار بار ملنے کی خواہش کا اظہار کرتا اور یہی وجہ تھی کہ مرنے تک ان کی دوستی اور تعلق قائم رہے‘یہ الگ بات ہے کہ وہ کس طرح نوائے وقت میں ڈائریکٹر اور سرکولیشن اینڈ پریس کے شعبوں کے انچارج ہوتے ہوئے شازشوں کا شکار رہے 1962ء میں حمید نظامی بانی نوائے وقت کے انتقال کے بعد مجید نظامی نے نوائے وقت کی ادارت سنبھالی‘حمید نظامی کے بیٹے اور بیٹی چھوٹے تھے‘1970ء کے عشرے کے دوران خاندانی اختلافات نے سر اٹھایا‘حمید نظامی مرحوم کی اہلیہ محترمہ محمود حمید نظامی جو کہ جموں کشمیر کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی بیٹی تھیں اور پنجاب یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا ہوا تھاانہوں نے نوائے وقت کے دفتر کے انتظامات سنبھال لئے جس کے بعد مجید نظامی نے روزنامہ ندائے ملت کے نام سے اخبار نکالا چنانچہ پورے ملک میں پاکستان سے محبت رکھنے والے سراپا احتجاج بن گئے اور انہوں نے ایک مرتبہ پھر نوائے وقت اور ندائے ملت کو ایک کردیا اور اس طرح نوائے وقت میں ندائے ملت ضم ہوگیا اور بہت دیر تک یہ شائع ہوتا رہا کہ نوائے وقت بشمول ندائے ملت اس دوران دوبارہ نوائے وقت کی ادارت اور انتظامات مجید نظامی نے سنبھال لئے‘عارف نظامی کو ایگزیکٹو ایڈیٹر مقرر کیا گیا‘چنانچہ عارف نظامی کی ساتھ ساتھ تربیت ہوتی رہی‘مجید نظامی مرحوم کے بڑے بھائی بشیرنظامی1978ء کے دوران فالج کی وجہ سے علیل ہوگئے کیونکہ وہ لائل پور میں چوک جی ٹی ایس میں رہائش پذیر تھے‘ہنڈا موٹر سائیکل وغیرہ کا شو روم تھا اور نوائے وقت ندائے ملت کے شیئر ہولڈر ہونے کی وجہ سے صحافتی ذمہ داریاں اور نگرانی بھی کرتے تھے یہ وہی وقت تھا جب میری بھی تربیت ہورہی تھی‘چنانچہ میں شوروم کے اور دیگر کاروباری معاملات چلارہا تھا مجید نظامی اور ان کی اہلیہ ریحانہ مجید اپنے بھائی کے تین چار سال علالت کے دوران ہر ماہ اور زیادہ تر ہر پندرہ دن بعد وہ جی ٹی ایس چوک میں ان کی رہائش گاہ مزاج پوشی کیلئے آتے اور اپنے بھائی سے بات چیت کرتے اس دوران وہ لاہور سے ان کیلئے مختلف اشیاء لاتے اور اپنے سب
سے چھوٹے بھائی خلیل نظامی کو کہتے کہ لاہور دفتر کو چھوڑو اپنے بھائی کا خیال کرو تاکہ پریشانی میں کمال گھبرائے نہ‘بیماری کے دوران میرے والد بشیر نظامی نے مجید صاحب کو ایک مرتبہ کہا کہ میری صحت دن بدن خراب ہورہی ہے‘چلنے پھرنے سے معذور ہوں لہذا تم ریحانہ کو کہو کہ اس کی شادی کردے چنانچہ مجید صاحب کی اہلیہ اور میری چچی ریحانہ مجید نے میری شادی کی اور ماہ اگست 1981ء کو میرے چچا خلیل نظامی لائل پور سے بارات لے کر مجید نظامی صاحب کے گھر 43میسن روڈ لاہور پہنچے وہاں ہماری خاطر نواضع کی گئی اور پھر مجید نظامی‘ جسٹس آفتاب فرخ‘عارف نظامی‘شعیب نظامی کے ہمراہ صفاں والا چوک پہنچے‘میرا رشتہ نظامی صاحب اور ان کی اہلیہ مرحوم نے کروایا تھا اور اس میں نمایاں کردار نظامی صاحب کی لے پالک بیٹی کی والدہ غزالہ عارف صاحب کا تھا‘میری اہلیہ غزالہ عارف کے شوہر میاں محمد عارف کی تایا زاد بہن ہیں‘مجید نظامی صاحب کو ان دنوں دل کی تکلیف ہوچکی تھی اور وہ چاہتے تھے کہ میں امریکہ میں اپنے بائی پاس اپریشن سے پہلے کمال کی شادی کروا دوں چنانچہ ایک ماہ میں آنن فانن شادی کی گئی‘4ستمبر1981ء کو شادی کے ایک ماہ بعد میرے والد بشیر نظامی اللہ کو پیارے ہوگئے جب میں بارات لے کر جارہا تھا تو میرے لئے خوشی کا تو مقام تھا مگر میری آنکھوں میں آنسوں تھے کیونکہ میرے والد علالت کے باعث بارات میں اور میرے ولیمے میں بھی شریک نہیں ہوسکے تھے اس طرح مجید نظامی بارات تو لے کر گئے مگر ولیمے میں سفر نہ کرنے کے باعث لائل پور نہ آسکے البتہ ان کی اہلیہ اور باقی تمام عزیز رشتہ دار شامل تھے‘مجید نظامی اپنے بھائی اور میرے والد بشیر نظامی کے جنازے میں اسی وجہ سے شرکت نہ کرسکے اسی دوران انہو ں نے امریکہ سے خط لکھا جس کے الفاظ کچھ یوں تھے کہ کمال آپ کے والد کے انتقال پر مجھے جو دکھ او ر صدمہ ہوا ہے‘وہ ناقابل بیان ہے وہ میرے بھی بڑے بھائی تھے آپ ابھی چھوٹے ہیں آپ کو ان کی قربانیوں کا ابھی علم نہیں آپ پر اب بہت ذمہ داریاں آن پڑی ہیں آپ نے ان کا اپنے خاندان اور اپنی عزت کا خیال رکھنا ہے‘انہیں لائل پور میں کیوں سپرد خاک کیا گیا ہے وہ والدہ کے بغیر اور والدہ ان کے بغیر نہیں رہتے تھے انہیں والدہ کے پہلو میں سانگلہ ہل کیوں سپرد خاک نہیں کیا گیا اب بھی اگر امانتا دفن کیا ہے تو کسی عالم دین یا مفتی صاحب سے بات کرکے انہیں سانگلہ ہل والدہ کے پہلو میں دفن کیا جائے اس قسم کی باتیں انہوں نے ٹیلی فون اور خط کے ذریعے اپنے چھوٹے بھائی خلیل نظامی سے کہیں‘مجید نظامی رشتے میں میرے چچا تھے اور میرے والد کی قربانیوں کی وجہ سے وہ مجھے پیار بھی کرتے تھے ان کے ساتھ میرے خونی وابستگی کا تعلق یہاں تک تھا کہ جب میرے پہلے بیٹے کی پیدائش فاطمہ میموریل ہسپتال لاہور میں بارہ ستمبر1983کو ہوئی تو وہ خود اطلاع ملنے پر ہسپتال پہنچے انہوں نے خود احمد جمال نظامی کا نام رکھا‘شہد کے ساتھ گٹھی اور کا ن میں اذان دی اس کے بعد جب اللہ تعالی نے مجھے بیٹی کی نعمت سے نوازا تو انکی اہلیہ اور میری چچی ریحانہ مجید نظامی نے اس کا نام حفظہ کمال رکھا پھر جب مجھے اللہ نے دوسری بیٹی عطا کی تو انہوں نے اس کا نا م لینہ کمال رکھا اور انہوں نے مجھے کہا کہ کمال میں نے سوچاہوا تھا کہ اگر اللہ نے مجھے بیٹی دی تو اس کا نام حفظہ حافظ کی جمع یا لینہ رکھوں گا مدینے میں لینہ کھجور کا درخت ہے اور اس درخت کو حضور پاک ﷺ نے لگایا تھا اسی عقیدت میں چاہتی تھی مگر اللہ تعالی نے نہ ہمیں بیٹا دیا نہ بیٹی دی اس لئے تم یہ نام رکھو جب میرا سب سے چھوٹا بیٹا پیدا ہوا تو پھر میں نے نام کیلئے اپنے چچا مجید نظامی سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس کا نام احمد بلال نظامی رکھ لیں اس طرح میرے بچوں کے نام بھی انہوں نے رکھے ظاہر ہے کہ مجید نظامی صاحب بھی اولاد کی کمی محسوس کرتے تھے جس کا ذکر اوپر کر چکا ہوں یہی وجہ تھی کہ ڈاکٹر فضل دین مرحوم جو کہ ان کیساتھ والی کوٹھی میں رہائش پذیر تھے اور اس کے ساتھ ڈاکٹر فضل دین مرحوم کی بیٹی راحیلہ صاحبہ اور اس سے اگلی کوٹھی میں بڑی بیٹی غزالہ عارف اور اس سے اگلی کوٹھی میں برادر ان لاء اور ان کی اہلیہ رہائش پذیر تھے اور اس طرح جناب مجید نظامی اپنے سسرالی رشتہ داروں کے جھرمت میں تھے چنانچہ میاں محمد عارف کی اہلیہ محترمہ غزالہ عارف جن کے دو بیٹے رحمان عارف‘عثمان عارف‘آمنہ عارف ایک اور بیٹی تھی اللہ تعالی نے انہیں دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے بعد رمیزہ کی صورت میں بیٹی عطا کی جسے مجید نظامی کی لے پالک بیٹی بنادیا گیا تھا اس پر میاں محمد عارف جو کہ میاں فیروز دین کے بیٹے تھے ان کی والدہ مرحومہ نے بھی شدید احتجاج کیا اور وہ مرتے دم تک کہتی رہیں کہ بہو تونے اپنی بیٹی ریحانہ مجید کو کیوں دی‘ اس کے بعد آہستہ آہستہ نظامی خاندان میں دراڑیں پڑنی شروع ہوئی سب سے پہلے عارف نظامی کو نوائے وقت سے چلتا کیا گیا‘مجید نظامی کی پالیسی حمید نظامی کی پالیسی تھی‘نظریہ پاکستان کا ترجمان، قائد اعظم، علامہ اقبال کے اصولوں کا دفاع،ختم نبوت کے عقیدے پر پختہ ایمان، اسلامی اقتدار کا فروغ،مظلوموں کا ساتھ ظم و زیادتی کیخلاف قلم کا استعمال، دو قومی نظریے کا فروغ،بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے، نوجوان نسل کو آگاہ کرنا،جنگ کیلئے ہر وقت گھوڑے تیار رکھنا،ٹینک پر بیٹھ کر ہندوستان جا کر لال قلعے پر پاکستانی پرچم لہرانا،اپوزیشن اور حکومت کو آئینہ دکھانا‘خیراتی اداروں کی امداد کرنا کرپشن، لا قانونیت، گنڈا گردی،جاگیردرانہ نظام اور ظالمانہ نظام کے خلاف قلم کا استعمال،سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنا مگر آج میں دیکھتا ہوں تو میری روح ترپتی ہے،میرا دل خون کے آنسوں روتا ہے،میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور میں پریشان ہو کر سوچنے کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ حمید نظامی، مجید نظامی کے اخبار نوائے وقت، جس کی رگوں اور عمارتوں میں میرے والد بشیر نظامی مرحوم کی تحریک اور خون شامل تھا، اس کو کسی پاکستان کے دشمن کی نظر لگ گئی ہے،اس نوائے وقت کو نوائے وقت نہیں رہنے دیا گیا،اس نوائے وقت کو کون بچائے گا؟یہ نوائے وقت حمید نظامی کا نوائے وقت ہے،یہ نوائے وقت مجید نظامی کا نوائے وقت ہے، یہ نوائے وقت بشیر نظامی کا نوائے وقت ہے اور سب سے بڑھ کر قائد اعظم، علامہ اقبال کا نوائے وقت ہے، یہ تحریک پاکستان کے دوران شہید ہونیوالے دس لاکھ مرد و خواتین شہدا کا نوائے وقت ہے‘ یہ دس لاکھ افراد کے خون سے بہنے والے ندی نالے سوال کررہے ہیں کہ یہ نوائے وقت تو قائد اعظم کے حکم پر نکلا تھا،ہم نے قائد کا پیغام سننے کے بعد اس میں پڑھا تھا اور اسی پر ہم ایمان لائے کیونکہ قائد اعظم کا نعرہ تھا لا الہ الا اللہ۔یقینا مجید نظامی کے بعد نوائے وقت کی پالیسی کا ماتم جہاں میں اور آپ اور ہزاروں قارئین کررہے ہیں، وہاں یہ ماتم دس لاکھ شہدا کا خون بھی کررہا ہے اور آج یہ نعرہ گونج رہا ہے کہ پاکستان کی آن اور شان نوائے وقت کو بچانا ہے، نظامی خاندان کیلئے جہاں مجید نظامی کی لے پالک بیٹی رمیزہ نے دروازے بند کردئیے ہیں وہاں سینکڑوں کارکنوں کو بے روزگار کردیا گیا ہے اور کہا جارہا ہے اس مجید نظامی کے اخبار میں جہاں مجید نظامی کی زندگی میں ہر سال سالانہ تنخواہوں کے علاوہ چھ بونس دئیے جاتے تھے،ہر سال تین چار افراد کو حج یا عمرہ پر بھیجا جاتا تھا‘سالانہ تنخواہ میں اضافہ ہوتا تھا،آج لوگ ہم سے سوال کررہے ہیں کہ نظامی صاحب کے بعد یہ کیا ہورہا ہے؟چھ چھ ماہ سے لوگوں کو تنخواہیں نہیں مل رہی،بغیر نوٹس کے رپورٹروں اور ملازمین کو برطرف کیا جارہا ہے‘نکالا جارہا ہے اور اس وقت نوائے وقت پر نظامی خاندان کے دروازے بند کردئیے گئے ہیں، نوائے وقت کے قارئین سخت پریشان ہیں،پاکستان کے سب سے بڑا اخبار کا جو حشر نشر کیا جارہا ہے، کیا نوائے وقت ایسا تھا جو بنا دیا گیا ہے اور بنایا جارہا ہے؟ یقینا اس کا جواب نہ میں ہوگا،مجید نظامی کی پانچویں برسی پر مجید نظامی کی روح ترپ رہی ہے، کیا میں مجید نظامی کی برسی مناؤں یا ماتم کروں‘میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے‘ میں یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ محب وطن پاکستانیوں اٹھو،پاکستان کی تحریک کے ہر اول دستے کے صفحہ اول کے اخبار اور قومی ورثے کو بچاؤ‘کہیں یہ کوئی سازش تو نہیں ہورہی کہ آہستہ آہستہ پاکستان کے نشانات کو مٹاتے چلو!!! جیسے چمن کوئٹہ میں قائد اعظم جس جگہ ٹھہرے تھے، اسے آگ لگا کر جلایا گیا، ہم بے بس ہو چکے ہیں، ہم اپنے نظریے، راستے سے بھٹک چکے ہیں،جو قومیں اپنے نظریے اور نصب العین سے روح گردانی کرتی ہیں،تباہی اور بربادی انکا مقدر ہوتی ہے‘بھارتی ہمارا ازلی دشمن ہے،اس نے مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کیا‘بھارت نے پاکستان کے وجود کو آج تک تسلیم نہیں کیا،میں ان جوانوں کو سلام کرتا ہوں جو تپتی ہوئی دھوپ گرم ریت،ٹھنڈی برف اور گھروں سے سینکڑوں میل دور وطن کی سلامتی اور دفاع کیلئے شہادتیں دے رہے ہیں، میں ان کی قربانیوں کو بھی سلام کرتاہوں اور میں مجید نظامی کے اس نعرے پر قائم ہوں کہ مسلمان ہر وقت اپنے گھوڑے تیار رکھتا ہے اور یہ خواہش رکھتا ہوں کہ ہم ایک نہ ایک دن دہلی کے لال قلع پر پاکستان کا پرچم لہرائیں گے، انہی مجید نظامی کی روح کو ان کی برسی پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہنے پر مجبور ہوں‘جہاں ہم نے پاکستان کو اپنے اندر چھپے ہو آستنیوں کے سانپوں سے بچانا ہے وہاں ہم نے نوائے وقت کو بھی بچانا ہے‘نوائے وقت ہمارا قومی ورثہ ہے‘مجھے جب مولانا ظفر علی خان کے روزنامہ زمیندار کی بلڈنگ میں ان کے اخبار کی جگہ زمیندار ہوٹل، نسیم حجازی کے روزنامہ کوہستان کی جگہ شاپنگ سنٹر نظر آتا ہے اور قائد جمہوریت مجاہد ختم نبوت آغا شورش کشمیری کا چٹان نظر نہیں آتا تو پھر میرا دل زور زور سے ڈھڑکتا ہے اور میں پریشانی کے عالم میں یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہو ں کہ خدا نہ کرے!!! اور پھر میں یہ کہوں گاکہ خدا نہ کرے کہ ایسا وقت نوائے وقت پر آئے، آؤ میں بھی آرہا ہوں، ہم سب مل کر نوائے وقت کو بچائیں اور جو سازش ہورہی ہیں، اس سے پردہ اٹھائیں، یہ ہم سب کا قومی فریضہ ہے،بہت کچھ اس دل اور دماغ میں چھپا ہوا ہے، وقت آنے پر بہت سے گوشوں سے پردہ اٹھانے پر حق محفوظ رکھتا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں