ناکام آل پارٹیز کانفرنس اور بجٹ پاس

تحریر: افتخار بھٹہ

اپوزیشن کی بلائی ہوئی آل پارٹیز کانفرنس بلآخر منعقد ہوئی لیکن یہ ممکنہ اہداف کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ کسی جماعت کے پاس کوئی سنجیدہ لائحہ عمل نہیں تھا اور تمام جماعتیں گہرے فکری و سیاسی تضادات سے دو چار دیکھائی دیں اس کانفرنس کے انعقاد میں مولانا فضل الرحمان نے گہری دلچسپی لی چونکہ ان کے پاس اقتدار میں نہ ہونے کی وجہ سے کھونے کیلئے کچھ نہیں تھا پیپلز پارٹی اکثریت کے ساتھ ملک کے سب سے بڑے صوبے سندھ میں بر سر اقتدار ہے سینٹ میں اس کا ڈپٹی چیئر مین اور قومی اسمبلی میں 60 نشستیں ہیں اس لیے پیپلز پارٹی کو حکومت گرانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے حالانکہ اس کی قیادت کیخلاف مقدمات درج کرنے کے ساتھ گرفتاریاں ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے وفاقی حکومت کے ایک وزیر نے کہا ہے اگر عمران خان چاہیں تو سندھ حکومت کو دنوں میں گرایا جا سکتا ہے مگر ان حکومتی اعلانات کے باوجود کوئی اشتعال انگیز بیان پیپلز پارٹی کی طرف سے نہیں آیا ہے مولانا فضل الرحمان کا اپنا فلسفہ اخلاقیات ہے جس کا عملی سیاست کے مندرجات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔وہ 25جولائی کو یوم احتجاج منانے کا اعلان کر چکے ہیں، نواز شریف خاندان اپنی سیاسی زندگی کے مشکل ترین دنوں سے گزر رہا ہے اس وقت حصول اقتدار کی نہیں بلکہ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے شہباز شریف محاذ آرائی میں شدت نہیں چاہتے ہیں جبکہ مریم بی بی دباؤ بڑھا کر معاملات کو اپنی مرضی سے طے کرنے کیلئے کہیں آگے جائیں گیں،عمران خان کے حالیہ بیان کے مطابق این آر او نہیں بلکہ پری گیم ڈیل ہو سکتی ہے اگر زرداری اور شریف خاندان کسی پری گیم ڈیل پر آمادہ ہو بھی جائیں تو اس سے 3سے5ارب ڈالر تک مل سکتے ہیں جن سے 90ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی نہیں ہو سکتی ہے مگر ایسی رعایت حاصل کرنے کیلئے شریف خاندان فی الحال رضا مند دیکھائی نہیں دیتا ہے کیونکہ وہ سمجھوتہ کر کے اپنے سیاسی کردار کو داغ دار کرنے کی کوشش نہیں کرے گا دوسری طرف نادیدہ قوتوں کی طرف سے مسلم لیگ ن کے اراکین پارلیمنٹ پر تحریک انصاف کی حمایت حاصل کرنے کیلئے دباؤ میں اضافہ کیا جا رہا ہے جس کا مقصد فارور ڈ بلاک بنانا ہے تا کہ مرکز اور پنجاب میں اپنے حمایتوں کی تعداد میں اضافہ کر کے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق کی بلیک میلنگ سے نجات حاصل کی جائے اس عمل میں پیٹریاٹ پیپلزپارٹی یا نئی ق لیگ کی طرح کوئی نئی لیگ برآمد ہو سکتی ہے یہ صورتحال مسلم لیگ ن کے لئے زندہ رہنے یا ختم ہو جانے کا متبادل رکھتی ہے اس صورتحال میں شائد مسلم لیگ ن فیصلہ کن معرکہ کی طرف جانے کی منصوبہ بندی کرے گی جبکہ جے یو آئی پیپلز پارٹی اور قوم پرست جماعتوں کے ساتھ وبستہ رہنے کے باوجود اپنے پلان پر عمل کرے گی کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان نے دو آپشن پیش کیے تھے عمران خان کی حکومت گرانے کیلئے اس کے تضاداتی بیانات کے حوالے سے مذہبی تحریک اٹھائی جائے کیونکہ ہماری سیاست میں ماضی میں سیاسی محرکات پر پردہ ڈالنے کیلئے مذہب کا استعمال عام ہے دوسرا یہ کہ صوبائی، قومی اسمبلیوں اور سینٹ سے استعفیٰ دیا جائے مگر ان تمام تجاویز کوپاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے رد کر دیا بلکہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ سیاست میں مذہبی بیانیہ کو کسی کیخلاف استعمال کرنے کے مخالف ہیں کیونکہ ماضی میں پیپلز پارٹی، پی این اے کی تحریک کا نشانہ بن چکی ہے ویسے بھی ہمارے بدلتے ہوئے سیاسی اور عالمی ماحول میں لبرل طریقوں کے دائرے وسیع ہو رہے ہیں، اس لیے ملک کی اپوزیشن جماعتیں مذہبی قیادت کے بیانیے کو استعمال کر کے سیاست میں اپنی راہیں مسدود نہیں کرنا چاہتی ہیں جبکہ ان جماعتوں کی خواہش ہے مولانا فضل الرحمان دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اپنے سیاسی بیانیہ کے ذریعے حکومت کو دباؤ میں رکھے
یہ بات بہر صورت واضح ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے اپوزیشن کے مختلف بیانیوں کی وجہ سے حکومت اپوزیشن کے دعوؤں کے بر عکس اپنا بجٹ پاس کروانے میں کامیاب ہو گئی ہے جس کی بنیادی وجہ ہے کہ اپوزیشن متبادل یا شیڈو بجٹ دینے میں ناکام رہی ہے اور سارا وزن الزام تراشی اور سلیکٹ کی گردن پر رکھا جس پر عمران خان نے سب کو آمریت کی پیدا وار قرار دیا حالانکہ اس کے بیشتر حامیوں کا تعلق ضیاء الحق، مشرف اور دیگر جماعتوں سے ہے جو کہ ہمیشہ اقتدار کے ایوانوں میں شامل رہے ہیں اور اب اپنی ہی سابق حکومتوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں بجٹ کے نتیجہ میں کھانے پینے کی ایشیا، بجلی گیس اور تیل کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا ہے، سینیٹرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ سے ملک میں ٹیکسٹائل ملیں اور اس سے تعلق رکھنے والے ذیلی چھوٹے صنعتی یونٹ اور کاروبار بند ہونے کو ہیں۔ نئے روز گار کہاں سے ملنا ہے اب تو پہلے سے ہی روز گار پر موجود مزدور فارغ ہو رہے ہیں روپیہ قدر کھو رہا ہے قرضے بڑھ رہے ہیں یہ مہنگائی بے روز گاری غربت 90%عوام اور لوئر مڈل کلاس کے روٹی پیٹ کا معاملہ ہے جبکہ امیر کبیر ارب پتیوں اور امیر اپوزیشن لیڈروں کا اس سے کیا لینا دینا ہے یوں بھی پاکستان میں عوام کے بنیادی حقوق روٹی کپڑا اور مکان کے حوالہ سے بات کرنے والی کوئی سیاسی جماعت موجود نہیں ہے مہنگائی اور بے روز گاری کیخلاف بائیں بازو کے بکھرے ہوئے گروپ سڑکوں پر بینر ز اٹھائے اور نعرے لگاتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں جبکہ سڑکوں پر گزرنے والے لوگ ان سے تعلق رکھتے ہیں دوسرے یہ کہ میڈیا پر عوام کے مسائل اور اس کے حوالے سے یکطرفہ نقطہ نظر پیش کیا جا رہا ہے کہا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف قرضہ ملنے سے معاشی استحکام آئے گا، تیل کی موخر ادائیگی پر فراہمی کا تذکرہ ہے دوست ملکوں سے ملنے والی امداد نے ملک کو دیوالیہ پن سے بچا لیا ہے یاد رہے کہ معیشت میں بہتری اور خود کفالت قرضوں سے نہیں بلکہ لانگ ٹرم منصوبہ بندی سے حاصل کی جا سکتی ہے یہ تمام یک وقتی فائدے ہیں اور ریاست نے ان قرضوں کو دیر یا بدیر واپس کرنا ہے ایسی صورتحال میں ہم معاشی اہداف حاصل نہیں کر سکتے ہیں جس کیلئے ضروری ہے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی سے سرمایہ کار صنعت کاری کیلئے سرمایہ کاری کریں پیدا واری عمل میں اضافہ ہو رئیل اسٹیک میں پھنسا ہوا کالا دھن ورکنگ کیپٹل کی شکل اختیار کرے بالخصوص امیر طبقات اپنے انکم ٹیکس ایماندار سے ادا کریں احتساب کا عمل مصافیانہ طور پر سر انجام پائے اور ملکی وسائل لوٹنے والوں کیخلاف بلحاظ کا رروائی کی جائے، ان تمام کاموں کیلئے ریاست اور اس کے متعلقہ اداروں کو تمام اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔محض روزانہ دھمکی خیز تقریروں بیانات اور طاقت سے نہ تو لوگوں سے ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے اور صنعت کا پہیہ کو چالو کیا جا سکتا ہے۔
یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ نے ملک معاشی بحران سے نکالنے کیلئے دو اہم نقاط کی نشاندہی کی ہے۔ہم متحد ہوں اور ایک قوم بن کر سوچیں اور دوسرا یہ کہ علاقائی رابطوں کو فروغ دیا جائے کیونکہ ملک نہیں علاقے ترقی کرتے ہیں ان نقاط پر قومی بیانیہ کی ضرورت ہے۔71سال بعد بھی ہم ایک قوم نہیں بن سکے ہیں اور نہ ہی علاقائی ممالک سے بہتر تعلقات استوار ہو سکے ہیں اس وقت سیاسی حقائق یہ ہیں تحریک انصاف کی حکومت اور ددیگر ادارے ایک پیج پر ہیں مگر تحریک انصاف کے قائدین کے انفرادی بیانیہ سے سیاسی تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے دوسروں کو چور اور کرپٹ کہنے سے سیاسی اتحاد کس طرف جا سکتا ہے اپوزیشن جماعتیں چیئر مین سینٹ کو ہٹانے کا اعلان کر چکی ہیں اس کے حوالے سے بلوچستان کی نیشنل پارٹی نے کہا ہے کہ اس کی جماعت کو نمائندگی دی جائے اس ضمن میں رہبر گروپ کی طرف سے اعلان آنا باقی ہے یہ بات زیر غور رکھنی چاہیے بلوچستان کے حوالے سے ہو سکتا ہے ہماری بد قسمتی ہے حکومت میں کوئی ویثرنری لیڈر موجود نہیں ہے جو علاقائی اور قومی سیاست کے حوالے سے نظریہ سوچ رکھتا ہوں عمران خان ایماندار ضرور ہیں عالمی شہرت یافتہ ہیں مگر وہ سیاست، معیشت، اندرونی اور بین الاقوامی مسائل سے با خونی واقف نہیں ہے ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف نے علاقائی رابطوں کے حوالے سے بہت کام کیا تھا پاکستان کو سیٹوں سینٹوں کے اتحاد سے نکالنے اور علاقائی ممالک کو جوڑنے کی کوشش کی تھی۔سی پیک کے ذریعے اربوں کا سرمایہ پاکستان میں لے کر آئے اب غیر ملکی سرمایہ کار کہاں سے آئے گا کیونکہ ہمارا مقامی صنعت کار کاروبار کو سمیٹ رہا ہے موجودہ حکومت کے سخت فیصلوں کے بہتر نتائج کب آئیں گے اس سے پہلے ملک میں سیاسی انتشار ختم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ سیاسی صورتحال بہتر ہونے سے معاشی استحکام کی طرف قدم بڑیا ھا سکے، ڈالر کی قیمت کو کم کیا جائے کیونکہ اس سے برآمدات کی قیمتوں اور درآمدی خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے ہمارے ایکسپورٹرز اپنے آرڈر منسوخ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ملک میں درآمدات پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے۔ مہنگائی کی آفریت سے لوگوں کو بچایا جائے، سیاستدانوں کا احتساب ضروری ہے مگر بلا امتیاز سیاسی تصادم والی صورتحال والی صورتحال پیدا نہ کی جائے، لوگوں کو خوف سے نکالا جائے، مشکل فیصلوں سے نا صرف مشکلات بڑھ رہی ہیں بلکہ ابھی تک درست سمت کا تعین نہیں ہو رہا، اگر یوں ہی سیاسی محاذ آرائی بڑھایا گیا تو ملک کا مستقبل ماضی کی طرح ملک کا جمہوری مستقبل مخدوش ہو رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں