نئی نسل کا اصل دشمن ملاوٹ مافیا ہے۔۔۔

تحریر۔۔۔ احمد کمال نظامی

غذائی اجناس اور اشیاء ضروریہ میں ملاوٹ ایک جرم ضرور ہے اور اس جرم کا سبھی اعتراف کرتے ہیں ان میں اشیاء ضروریہ جو اشیاء زندگی کا درجہ رکھتی ہیں اور انسان تو ایک طرف جانور تک جو خوراک استعمال کرتے ہیں ان کی تجارت کرنے والے تاجر بھی اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان میں غذائی اجناس اور اشیاء میں ملاوٹ ہوتی ہے لیکن اس کے انسداد کی کوئی صورت تاحال نظر نہیں آتی اور اسے بدترین سماجی، اخلاقی اور انسان دشمن برائی قرار دینے کے باوجود یہ جرم پوری دیدہ دلیری اور بے خوفی سے قانون کی نگاہوں کے سامنے کہا جاتا ہے۔

انصاف کے اعلیٰ ایوانوں میں جو میزان سلوگن کے طور پر لگی ہوتی ہے اور آنکھوں پر پٹی باندھے نظر آتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے، قانون اندھا نہ ہوتا اور اس کی آنکھیں ہوتی تو ملاوٹ جیسا بدترین اور انسانی قتل سے برا جرم اس قدر دیدہ دلیری سے کرنے کی کسی کو جرات نہ ہوتی اور نہ ہی ہوس زر کی تسکین کے لئے اپنی تجوریوں کو بھرنے کا ملاوٹ نسخہ کیمیا قرار پاتی۔ مغرب پر ہم بہت تنقید کرتے ہیں اور اس کی اخلاقی برائیوں کی ایک طویل فہرست عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے عوام کو خوف زدہ کرتے ہیں لیکن اس طویل فہرست میں اشیاء خوراک میں ملاوٹ کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ہوتا۔ اگر اشیاء خوراک میں ملاوٹ کے حوالہ سے بین الاقوامی سروے کرایا جائے تو اشیاء خوراک میں ملاوٹ کرنے والے ممالک میں پاکستان وکٹری سٹینڈ پر نظر آئے گا۔

A Pakistani woman fills jerry cans with water in Lahore on March 27, 2014. More than 2.5 billion people are in need of decent sanitation and nearly one in 10 has yet to gain access to “improved” drinking water, as defined under the UN’s 2015 development goals. AFP PHOTO/ARIF ALI (Photo credit should read Arif Ali/AFP/Getty Images)

حتیٰ کہ جو پسماندہ ممالک ہیں جن افریقی ممالک کی تعداد زیادہ ہے جہاں غربت اور افلاس نے انسانوں کو سانس لینا بھی دشوار کیا ہوا ہے، وہاں بھی اشیاء خوراک میں ملاوٹ کو انسانی قتل سے بڑا سنگین جرم قرار دیا جاتا ہے کیونکہ قتل کی واردات میں ایک انسان کی زندگی کا چراغ گل ہوتا ہے لیکن ملاوٹ شدہ اشیا ء خوراک پورے خاندان کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے اور انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا جاتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں دہشت گردی کی لہر نے جنم لیا ہوا ہے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف پوری انسانیت بیک زبان دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے آواز بلند کر رہی ہے۔ پاکستان میں آپریشن ضرب عضب بڑی کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور اس کے جو مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ پوری دنیا اس کا اعتراف کر رہی ہے اور دہشت گردوں کو جائے پناہ تلاش کرنے کے باوجود نہیں مل رہی لیکن دہشت گردی سے بڑا جرم جو انسانیت کے خلاف ہو رہا ہے اور انسان گھٹ گھٹ کر اس جرم کے ہاتھوں مر رہا ہے وہ ملاوٹ گردی ہے اور اس کے خلاف پوری قوت جرات اور جذبہ ایمانی کے ساتھ آپریشن ضرب عضب کی ضرورت آج نہیں بلکہ ممالک خداداد پاکستان کے وجود میں آتے ہی ضرورت تھی۔

بدقسمتی سے ایک اسلامی مملکت ہونے اور دعویٰ کرنے کے باوجود اس طرف نہ ہمارے حکمرانوں نہ ہمارے اکابرین اور نہ سماج کے ٹھیکیداروں نے کوئی توجہ دی جس کے بارے میں یہ مثل مشہور ہوئی کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس میں زہر بھی اصل نہیں ملتا۔ دین مبین نے اشیاء زندگی ہی نہیں بلکہ تمام اشیاء ضروریہ میں ملاوٹ کرنے والوں کو جن الفاظ میں یاد کیا ہے اور ان کے ابلیسی چہروں کی خوفناک تصویر پیش کی ہے اس سے قطع نظر اخلاقی زاویہ نگاہ سے دیکھیں تو اشیاء زندگی اور اشیاء خوراک میں ملاوٹ ہی انسانیت کی اصل دشمن ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل میں بڑی تیزی سے سرایت کرتی ہے اور انسانی جسم میں ایسی بیماریوں کی پرورش کرتی ہے جو سرطان کی شکل اختیار کرتے ہوئے انسانی زندگی کا چراغ تک گل کر دیتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے گزشتہ دنوں ملاوٹ کے خلاف بڑے جوش اور جذبہ سے انسداد ملاوٹ کے خلاف مہم کا آغاز کیا اور ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آیا لیکن چند من دودھ سڑکوں پر بہانے کا نام انسداد ملاوٹ نہیں ہے اور نہ چند ہوٹلوں کے خلاف کارروائی کرنے سے یہ جرم اپنے منطقی انجام کو پہنچ سکتا ہے کیونکہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ اشیاء زندگی اور اشیاء خوراک میں ملاوٹ کوئی آسمانی مخلوق نہیں کرتی، تاجر ہی اپنی قارونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملاوٹ جیسے انسان دشمن فعل کا ارتکاب کرتے ہیں اور حیران کن بات ہے کہ انتظامیہ جب کوئی ملاوٹ کے خلاف انسدادی کمیٹی تشکیل دیتی ہے تو اس کمیٹی میں وہی تاجر چوہدریوں کے روپ میں شامل ہوتے ہیں جو عوام میں بلیکے اور ملاوٹیے کے خطاب سے معروف ہوتے ہیں۔ گویا چور بھی کہے چور اوئے چور والا معاملہ ہوتا ہے۔ کسی مغربی ممالک کے بارے میں کوئی ایسی خبر کبھی منظرعام پر نہیں آئی کہ وہاں اشیاء خوراک میں ملاوٹ کے جرم میں کوئی پکڑا گیا ہو۔ جبکہ پاکستان میں دالوں میں ملاوٹ چائے کی پتی میں ملاوٹ، گوشت میں پانی کی ملاوٹ، ادویات میں ملاوٹ، گھی اور تیل میں ملاوٹ حتیٰ کہ گزشتہ دنوں ایک خوفناک خبر منظرعام پر آئی کہ املی کی چٹنی جو بچوں کے لئے تیار ہوتی ہے اور بچے بڑے شوق اور رغبت سے املی کی چٹنی کھاتے ہیں اس کی تیاری میں تیزاب جیسا کیمیکل استعمال ہوتا ہے اور املی بھی وہ استعمال کی جاتی ہے جو خراب ہو چکی ہوتی ہے اور تیزاب جیسے کیمیکل کے استعمال سے یہ چٹنی تیار کی جاتی ہے۔ تیزاب کو اگر زمین پر گرا دیا جائے تو جس حصہ زمین پر تیزاب گرتا ہے وہ حصہ جل کر اپنی شکل تک تبدیل کر لیتا ہے لیکن ہمارے تاجر ہوس زر میں اندھے ہو کر محض ذائقہ اور زبان کے چسکے کے نام پر بچوں کے پیٹ میں تیزاب داخل کر رہے ہیں۔ کیا یہ جرم کسی کو قتل کرنے کے جرم سے کم سنگین جرم ہے۔پنجاب حکومت کی انسداد ملاوٹ مہم کے دوران حکومت یہ تو بتائے کہ کتنے افراد کو اس جرم کی پاداش میں ان کو منطقی انجام سے دوچار کیا گیا‘ جب جنرل ایوب خاں نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء نافذ کیا تو اشیاء خوراک اور اشیاء زندگی میں ملاوٹ کرنے والوں پر اس قدر خوف طاری ہوا کہ انہوں نے اپنے گوداموں سے تمام ملاوٹ شدہ اشیاء جن میں مرچیں تک شامل تھیں نہر میں بہا دیں اور لوگ کہتے ہیں کہ فیصل آباد میں بہنے والا راجباہ سرخ ہو گیا۔ ہمارا آئین استحصال کے خاتمے اور بنیادی حقوق کے منافی تمام قوانین کالعدم قرار دینے کی بات کرتا ہے لیکن ملک میں اس قسم کی کوئی چیز موجود نہیں ہے قدم قدم پر عوام کا مختلف طریقوں سے استحصال اور تذلیل ہو رہی ہے۔ اشیاء خوراک میں ملاوٹ بھی بنیادی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ انسانی تذلیل کے ساتھ اس کی موت کے اسباب پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ حکومت کے خلاف تحریکیں جمہوریت کی بحالی کے لئے تحریکیں آمریت کے خلاف تحریکیں اور اب کرپشن کے خلاف تحریک یہ تمام تحریک وقت کا تقاضا تھیں۔ ان کے کیا نتائج برآمد ہوئے اور عوام کو مسائل سے نجات نہیں۔ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ اس کا درست جواب کسی کے پاس نہیں لیکن ایک تحریک جس کو چلانے کی ضرورت تھی کسی سیاسی، کسی مذہبی جماعت نے نہیں چلائی وہ تحریک ملاوٹ کے ناسور کے خلاف چلانے کی ضرورت تھی جو کل بھی تھی اور آج بھی ہے اور کل بھی رہے گی اس طرف کوئی قدم نہیں اٹھتا ہے کیونکہ ایسی تحریک چلانے کے یہ معنی ہیں کہ ہم اپنے فنانسر سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ اگر ہم نے انسانیت کو جو ملاوٹ کی وجہ سے تیزی کے ساتھ موت کی غاروں کی طرف سفر کر رہی ہے اسے ملاوٹ کی عفریت سے نجات دلانا ہے تو ہمیں انسداد ملاوٹ کے قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے ایسے سخت قوانین نافذ کرنا ہوں گے۔ اگر عوامی جمہوریہ چین میں ملاواٹ کرنے والوں کو تختہ دار پر لٹکایا جا سکتا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں ملاوٹ گردی کے خاتمہ کے لئے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر پاکستان میں ملاوٹ گردی کے خلاف ایسی تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا معاشرہ بھی ویسی ہی تصویر پیش کرتا ہے جو مغربی معاشرہ پیش کرتا ہے جہاں ملاوٹ کا تصور بھی گناہ کبیرہ قرار دیا جاتا ہے اور اشیاء خوراک میں ملاوٹ کو لاکھ برائیوں کے مقابلہ ایک بڑی برائی قرار دیا جاتا ہے اور ایک ہم ہیں جن کا تعارف ان الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے کہ یہ اس ملک کے باسی ہیں جہاں زہر بھی اصل نہیں ملتا، کیا حکمران اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے انسداد ملاوٹ قوانین میں ایسی ترامیم کریں گے کہ ملاوٹ کرنے والوں کی لاشیں درختوں پر چمگادڑوں کی طرح لٹکتی دکھائی دیں۔ نئی نسل اور آئندہ نسل کی زندگی محفوظ ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں