موت سے کس کو رستگاری ہے

بشکریہ۔۔۔ روز نامہ92نیوز
تحریر۔۔۔اوریا مقبول جان
وہ مالکِ حقیقی، مختارِکل جس نے موت و حیات کو تخلیق کیا اورپھر ان دونوں کے درمیان ایک مختصر سی زندگی رکھ دی،تاکہ وہ جان سکے کہ کون اس مہلت کے دوران اچھے اعمال کرتا ہے۔اسی فرماں روا کا فرمان ہے، ” تم جہاں بھی ہو گے تمہیں موت پالے گی چاہے تم پختہ قلعوں میں ہی کیوں نہ ہو (النسائ:78)۔ انسان کی زندگی بھر کی تگ و دو اور دوڑ دھوپ صرف اور صرف اس ایک المیہ پر قابوپانے کے گرد گھومتی ہے جسے ”موت” کہتے ہیں۔ کوئی بھی اس رنگا رنگ دنیا کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ لاکھوں طالبانِ علم و تحقیق اپنی تمام تر توانائیاں اس منصوبے پر مسلسل صرف کررہے ہیں کہ کیسے انسان مکمل صحت و توانائی کے ساتھ لمبی سے لمبی زندگی گزار سکتا ہے۔ لیکن آج اکیسویں صدی کے انسان کو موت کا خوف صرف اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ بڑھاپے، بیماری، ایکسیڈنٹ یا کسی وبا کے ہاتھوں ہلاک ہوجائے گا،بلکہ اس کے خوف میں اب ایک بہت ہی ہیبت ناک بلا اور عفریت شامل ہو چکی ہے۔ یہ کوئی قدرتی آفت، آسمانی بلا یا مافوق الفطرت مخلوق نہیں ہے۔یہ انسان کے اپنے ہاتھوں سے تخلیق کیا گیا موت کا سامان۔۔۔ایٹمی ہتھیار ہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی میں ان کی تباہی سے لیکر اب تک اس ظالم انسان نے انکی تعداد میں اتنا اضافہ کرلیا ہے کہ اب حکومتوں کے پاس اس کرہ ارض کو کئی بار تباہ کرنے کا سامان میسر ہو چکا ہے۔ انسان اپنی جنگجو، منتقم مزاج اور ظالم فطرت سے خوفزدہ بھی بہت ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کھوپڑیوں کے مینار بنانے والا اور لاشوں کے انبار پر تخت سجانے والا یہ انسان اس قدر ظالم ہے کہ کسی بھی وقت صرف ایک ایٹمی بٹن دبا کر پوری دنیا کو خس و خاشاک کا ڈھیر بنا سکتا ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر 6 اور 9 اگست 1945ء کو ایٹم بم برسانے کے صرف 19 سال بعد 28 جنوری 1964ء کو نیویارک ٹائمز میں ایک خبر شائع ہوئی کہ امریکہ کے لوگ ایٹمی جنگ سے بچنے کے لیے نیوزی لینڈ منتقل ہو رہے ہیں۔ان میں زیادہ تر پڑھے لکھے لوگ شامل تھے۔ ان افراد کے مطابق سائنسی تحقیق انہیں بتاتی تھی کہ نیوزی لینڈ وہ واحد خطہ ہے جس کا محلِ وقوع ایسا ہے کہ اگر دنیا میں ایٹمی جنگ چھڑ بھی جائے تو اوّل تو یہاں اس کے اثرات نہیں پہنچیں گے اور اگر پہنچ بھی جایئں تو بہت کم ہوں گے۔ اخبار نے لاتعداد نقل مکانی کرنے والوں کے انٹرویو بھی شائع کیے تھے جو آدھی سے بھی کم تنخواہ پر یہاں آکر کام کر رہے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ اب اس ایٹمی بخار میں مبتلا دنیا سے بہت دور آ چکے ہیں۔ بہت سے ایسے تھے جو قریبی آسٹریلیا میں بھی منتقل ہوچکے تھے۔ امریکیوں کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر نیوزی لینڈ منتقلی کی یہ خبر جو آج سے 66 سال پہلے شائع ہوئی تھی آج وہی موضوع ایک بار پھر زیر ِ بحث ہے۔ اس وقت لوگوں کے دماغ میں صدرکینیڈی والا کیوبا کا میزائل بحران تازہ تھا اور امریکی سمجھتے تھے کہ ہم ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سے ہجرت شروع ہو گئی۔آج بھی بالکل ویسی ہی کیفیت ہے اور دنیا میں اب یہ سنجیدہ بحث چل نکلی ہے کہ دنیا میں اقتدار اور وسائل پر قابو پانے کی ہوس بڑھنے کی وجہ سے ایٹمی جنگ شروع ہونیوالی ہے ایسے میں زندگی بچانے کے لئے سب سے محفوظ خطہ کونسا ہے۔ اس کا جواب دنیا بھر کے سائنسدان وہی دے رہے ہیں کہ یہ خطہ نیوزی لینڈ ہے اور اس کے بعد آسٹریلیا۔ نیوزی لینڈ کو ایٹمی جنگ کے دوران انتہائی محفوظ علاقے سے تعبیر کیا جا رہا ہے جسے ”Bolt hole” کہا جاتا ہے۔ اس خطے کو دنیا کے مختلف ایٹمی جنگوں کے متنازعہ علاقوں میں چھڑنے والی ممکنہ جنگوں کے اثرات کے تناظر میں پرکھا گیا ہے۔ ان جنگوں میں بھارت پاکستان ایٹمی جنگ، جس میں کم از کم دونوں جانب سے پچاس ایٹمی ہتھیاروں کے چلنے کا خطرہ ہے۔ روس اور یورپ کی جنگ، جاپان اور شمالی کوریا کی جنگ وغیرہ۔ ان میں سے کسی بھی ایک جنگ کی صورت زمین کی فضا 100 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہوجائے گی اور” اوزون پردے” کا بیشتر حصہ تباہ ہو جائے گا۔اس پردے کے دوبارہ تخلیق پانے میں کم از کم دس سال لگ سکتے ہیں۔ یوں الٹرا وائلٹ شعاوں کے زمین پر براہ راست آنے سے فصلیں اور آبی حیات ختم ہو جائیں گی۔ لیکن سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ فضا میں کاربن کی ایک وسیع مقدار جمع ہوجائے گی جو سورج کی شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روک دے گی۔ یوں دنیا پر ایک مسلسل اور مستقل سرد موسم چھا جائے گا۔ فصلیں نہیں پک سکیں گی اور درخت سردی سے جل جائیں گے۔ ایسا سرد موسم کم از کم دس اور زیادہ سے زیادہ چالیس سال تک طویل ہو سکتا ہے۔ یوں اگر دنیا پر کہیں لوگ بچ بھی جائیں گے تو وہ بھوک سے مر جائیں گے۔ جس وقت زمین پر ایٹمی جنگ کی تباہ کاریاں اپنے عروج پر ہوں گی، اس وقت نیوزی لینڈ ہی وہ واحد خطہ ہوگا جس کا محلِ وقوع ایسا ہے کہ وہاں اس جنگ کے تابکاری اثرات نہیں پہنچ سکیں گے۔ سب سے خطرناک اور مضبوط ”آئسوٹوپ” (Isotope) بھی نیوزی لینڈ کے ساحلوں پر پہنچنے سے پہلے ہی تباہ ہو چکا ہو گا۔ اس کے علاوہ اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ اگر پوری دنیا بیک وقت ایٹمی جنگ کا شکار ہوگئی اور ہر کسی نے اپنا ایٹمی خزانہ استعمال کر دیا تو پھر کیا ہوگا۔ اس ضمن میں لاتعداد سائنسدانوں نے دنیا کی بے شمار یونیورسٹیوں میں تحقیق کرنے کے بعد بتایا ہے کہ پھر بھی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے سمندروں میں آبی حیات زندہ رہ سکے گی اور یہ سمندری حیات پہلے چھ ماہ سے ایک سال تک انسانوں کووافر خوراک فراہم کرے گی۔ اس کے بعد فضا میں جو تھوڑا بہت سرد موسم چھایا ہوگا اور فصلیں نہیں پک رہی ہوں گی، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں وہ بھی ختم ہوجائے گا اور یہ دونوں ملک اپنے رہنے والوں کے لئے مناسب خوراک پیدا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ ایسے حالات کے حوالے سے ایک اور خطرے کے بارے میں بھی بہت زیادہ سوچا اور لکھا جا رہا ہے اور وہ ہے دنیا سے بھاگ کر آنے والے امیروں کے غول، جنہیں وقت سے پہلے ہی اندازہ ہوجائے گا کہ جنگ چھڑنے والی ہے اور وہ اپنا تمام مال و متاع آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منتقل کر کے یہاں کے وسائل پر پہلے سے قابض ہو جائیں گے۔ ایک اور کیفیت بھی ہے کہ اگر ایٹمی جنگ مرحلہ وار ہوئی تو پھر ایک خطے سے بچ نکلنے والے انسان ٹڈی دل کی طرح آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ ایسے میں بھوکے انسانوں کے غول جو تباہی اور قتل و غارت مچائیں گے وہ بھی کسی ایٹمی جنگ سے کم نہ ہوگی۔ انسان موت سے بچنے کی لا تعداد تدبیریں کرتا ہے اور ان دنوں ایٹمی جنگ کے خوف سے ان تدبیروں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور آس پاس کے جزائر کو محفوظ جنت کے طور پر تصور کیا جاتا ہے اور انسان آہستہ آہستہ وہاں منتقل بھی ہو رہا ہے۔ لیکن میرا اللہ جو پوری کائنات پر محیط ہے، جس کا دعوی ہے کہ یہ دنیا ایک دن لپیٹ دی جائے گی اور پھر تمام انسان دوبارہ زندہ ہو کر اس کے روبرو پیش ہوں گے، وہ انسانوں کو انکی اوقات یاد دلانے کے لیے وارننگ کے طور پر اپنی نشانیاں ظاہر کرتا ہے۔ آج جب نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے بارے میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ محفوظ پناہ گاہیں ہیں، میرے اللہ نے اس خطے کو ایک تاریخی آگ کی لپیٹ میں دے دیا ہے۔دسمبر 2019 ء میں میں لگنے والی آگ سے چار کروڑ ساٹھ لاکھ ایکڑاراضی اور ایک لاکھ چھیاسی ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ جل کر خاکستر ہو گیا۔ 80 کروڑ جانور صرف نیو ساؤتھ ویلز کے علاقے میں مارے گئے جبکہ پورے آسٹریلیا میں ایک ارب جانور جل کر کباب ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں 32 کروڑ ٹن کاربن فضا میں پھیلی جسے فضا سے ختم ہونے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ انسان خود ساختہ موت سے بچ کر اپنے لیے محفوظ پناہ گاہوں پہنچ تو جاتا ہے لیکن وہ اللہ جو ہر چیز پر قادر ہے، اس انسان کے دروازے پر موت کے فرشتے کو لاکھڑا کرتا ہے۔
بشکریہ۔۔۔ روز نامہ92نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں