ملک کیلئے گھاٹے کا سودا

بشکریہ۔۔۔روز نامہ 92نیوز
تحریر۔۔۔عارف نظامی
اپوزیشن کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی حکومت ہٹاؤ تحریک زورو شور سے شروع ہو گئی ہے۔ گوجرانوالہ مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے جہاں سے اس کے پاس قومی اسمبلی کی 6 اور صوبائی اسمبلی کی 12 نشستیں ہیں، اسی بنا پر تحریک کے آغاز کے لیے شہ زوروں کے اس شہر کا انتخاب کیا گیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے جلسے سے دو دن پہلے ہی یہ بیان دے دیا تھا کہ اپوزیشن کی تحریک سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وزیراعظم نے حسب توقع یہ بھی کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا وقت آنے پر سب چور اکٹھے ہو جائیں گے۔ اگرچہ ایسا ہونا فطری عمل تھا کہ حکومت کے خلاف تمام اپوزیشن اکٹھی ہو جائے گی، ان معروضی حالات میں ایسی پیشگوئی کرنے کیلئے جوتشی ہونا ضروری نہیں ۔ یہ بات ماننا پڑے گی کہ خان صاحب سیاست میں بھی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ وہ اپوزیشن کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت پر قطعاً تیار نہیں۔ وہ اپنے حریفوں کو کلین بولڈ کرنے پر بضد ہیں لیکن سیاست کا کھیل، کرکٹ کے کھیل سے قطعاً مختلف ہوتا ہے، اس میں سسٹم کو چلانے کے لیے کچھ لو کچھ دو کے تحت کام کرنا ہوتا ہے۔ اگر خان صاحب کا خیال ہے کہ اپوزیشن کا صفایا کر کے وہ بلاشرکت غیرے تاحیات حکمران بن جائیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے کیونکہ وہ اگر ایسا چاہیں بھی تو پاکستان میں تحریک انصاف کے علاوہ بھی کئی پاور سنٹرز ہیں جو ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان سیاسی طور پرایسا ملک بن چکا ہے جہاں کوئی بھی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر پائی اور اگر کرے بھی تو گھسیٹ گھسیٹ کر پانچ سال گزارتی ہے۔ 2008ء میں منتخب ہونے والی پیپلز پارٹی کی حکومت نے نامساعد حالات میں پانچ سال پورے کئے تھے، اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ اس دور میں وزرائے اعظم کے بجائے سویلین طاقت کا منبع آصف علی زرداری تھے جنہوں نے پارلیمانی نظام میں وزیراعظم بننے کے بجائے صدر مملکت بننے کو ترجیح دی تھی لیکن یہ سب کو معلوم تھا کہ پس پردہ وہی حکومت چلا رہے ہیں نہ کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کے بعد آنے والے راجہ پرویز اشرف۔ اسی طرح آصف زرداری پانچ سال کی مدت پوری کر سکے۔ وزیراعظم عمران خان نے نسبتاً نیا ماڈل اپنایا ہے جس کے تحت مقتدر ادارے اور سیاسی حکومت دونوں ایک ہی صفحے پر ہیں۔ اداروں اور موجودہ حکومت کے درمیان مثالی تعاون اور تال میل ہے۔ خان صاحب کا سیاسی فلسفہ صرف اس نکتے پر مبنی ہے کہ اداروں کو ساتھ لے کر چلو۔ یعنی اس ماڈل میں اختلاف رائے پید اہونے کی کوئی گنجائش ہی نہیں اور اگر ایسا ہو تو سجدہ سہو کر لو۔ کوئی غلط فہمی پیدا ہونے کی صورت میں فوری حل کر لو، اس طرح یہ سسٹم صدارتی ہے اور نہ ہی مکمل طور پر پارلیمانی بلکہ مبصرین اسے ہائبرڈ سسٹم کہتے ہیں۔ جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے اب تمام جماعتیں ایک ہی صفحے پر لگتی ہیں، نہ جانے پی ٹی آئی کے سربراہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ انہیں اپوزیشن کی تحریک سے کوئی پر یشانی نہیں۔ بطور وزیراعظم ان کو تھوڑی بہت پریشانی ہونی چاہیے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جانا ان کے لیے کوئی نیک شگون نہیں ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ حکومت کے اپنے مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ اپو زیشن کی تحریک کو کچلنے کی صلاحیت کمزور ہے۔ اگر حکومت بزور بازو اپوزیشن کو دبائے گی تو یہ اس نازک صورتحال کا حل نہیں ہے۔ اس قسم کی حکومتی پالیسیوں سے منفی اثرات کے سوا کیا حا صل ہو گا؟ نہ جانے خان صاحب کی حکومت زبانی جمع خرچ کے سوا ملک میں ناقص گورننس اور آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی پرقابو پانے کی طرف کیوں توجہ نہیں دے رہی۔ سنگین اقتصادی مسا ئل سے نبرد آزما ہونے کے لیے محض کاسمیٹک اقدامات کئے جا رہے ہیں اور حکومتی ترجمان ’’چور چور بھاگنے نہ پائے‘‘ کے نعرے لگانے کے سوا ٹھوس اقدامات کرنے سے قاصر ہیں۔ یا تو حکومت کو سمجھ نہیں آرہی کہ مہنگائی اور اشیا کی قلت کے شتر بے مہار کو کیسے قابو کیا جائے یا یہ اس کے بس کا روگ ہی نہیں۔ حکومت کو اس بات کا کیوں ادراک نہیں کہ تمام تر پاپڑ بیلنے کے باوجود وہ روبہ زوال معیشت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سسٹم کو گھن کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ اس صورتحال میں عوام کی دگرگوں حالت جو دن بدن مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے اپوزیشن کو زیادہ زور لگانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ پچھلے چھ ماہ کے دوران چینی 64 روپے سے بڑھ کر 110، دال چنا 95 سے 120، سرخ مرچ 350 سے 480، آٹا 42 سے80 روپے کلو، انڈے74 سے 180 روپے درجن، چاول110 سے150 روپے کلو ہو گئے ہیں۔ اسی طرح بجلی اور پٹرول کی قیمتیں بھی کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ’’چوروں کو نہیں چھوڑوںگا‘‘ کی نعرے بازی کے بجائے یا الزام تراشیو ں کی بھرمار کرنے کے بجائے تمام پارٹیوں کو کم از کم اقتصادیات اور گورننس کے ایجنڈے پر اکٹھا کرنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنے کے لیے عمومی طور پر اپوزیشن اور حکومت کو کم سے کم پوائنٹس پر اکٹھا بیٹھنا پڑے گا جس کے لیے خان صاحب کو اپنے اصل ایجنڈے میں کچھ نہ کچھ ترمیم کرنا پڑے گی جو ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ پی ٹی آئی اپنی مونچھ نیچی کرنے پر تیار نہیں ہو گی۔ اس صورتحال میں اپوزیشن کی تحریک کامیاب ہوتی ہے یا ناکام ملک کے لیے یہ گھاٹے کا سودا ہو گا۔
بشکریہ۔۔۔روز نامہ 92نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں