معاشی گراوٹ اور ہڑتالوں کا موسم

تحریر: افتخار بھٹہ

معلوم ہوتا ہے کہ ہڑتالوں کا موسم آ گیا ہے اس قسم کی تاجروں کی ہڑتالیں ماضی میں پیپلز پارٹی کی حکومت کیخلاف ہوتی تھیں مگر ٹیکسوں کا اس قدر بوجھ ڈال دیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے حامی تاجر بھی ہڑتال کا ساتھ دینے پر مجبور ہیں حکومت اس الجھن میں دو چار ہے اگر تاجروں کے مطالبات مانتی ہے تو آئی ایم ایف ناراض ہو جاتی ہے تو اگر نہیں مانتی تو عوامی رد عمل اور نفرت میں مسلسل اضافہ، جھوٹے وعدے چند دنوں اور ہفتوں کیلئے ہی کسی عمل کو ٹال سکتے ہیں مگر مستقل نہیں حکومت اس ہڑتال کو زائل کرنے کیلئے مختلف طریقے استعمال کر رہی ہے تاجروں سے جھوٹے وعدے کیے جا رہے ہیں دس جولائی کو کراچی میں وزیر اعظم نے تاجروں کے ایک وفد سے ملاقات میں انہیں یقین دلایا کہ ان کے مطالبات پر عمل کیا جائے گا تاجروں کے وفد نے وزیر اعظم کے سامنے ٹیکس نظام میں اصلاحات، آمدنی بڑھانے، افراط زر اور سمگلنگ کی روک تھام، کاروبار کے مواقع پیدا کرنے سرمایہ کاری کے فروغ اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے سے متعلق تجاویز بھی پیش کی تاجروں نے شناختی کارڈ کے حوالے سے کافی تحفظات کا اظہار کیا ہے شائد وہ ٹیکس نیٹ ورک میں نہیں آنا چاہتے، سی بی آر کے چیئر مین شبر زیدی نے کہا ہے شناختی کارڈ کی ضرورت صرف سیل ٹیکس کیلئے ہے اس کے حوالے سے خامخواہ افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔
یاد رہے جب سے پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آئی ہے اسے چین نہیں ملا ہے نا ہی اس نے کسی کو سکون میں رہنے دیا ہے اس حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کب کیا کرنا ہے کس کے خلاف کب کیا بیان دینا ہے عمران خان ایماندار انسان ہیں لیکن وہ پوری کوشش کے باوجود کسی ایک سرکاری ادارے شعبے میں مثبت تبدیلی لانے میں ناکام رہے ہیں حتیٰ کہ ایسے اداروں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکے جنہوں نے ملک میں معاشی عدم استحکام پیدا کیا ہے پی ٹی آئی حکومت نے اپنے وعدوں کے بر عکس آئی ایم ایف کی طرف رجوع کیا ہے روپے کی قیمت کم کی ہے اور اداروں میں بہتر کارکردگی رکھنے والے افسران کو تعینات کرنے میں ناکام رہی ہے۔اسٹیٹ بینک کیلئے پاکستان سے کوئی مقامی بندہ دستیاب نہیں ہو سکا ہے اسی لیے مصر کی اقتصادی کی بد خالی کے ذمہ دار شبر زیدی کو لا کر اسٹیٹ بینک میں بیٹھا دیا گیا ہے جو کہ ابھی تک ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے میں ناکام اور زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ نہیں کر سکا ہے عمران خان کے بقول پاکستان کا ایف بی آر کا شعبہ مکمل طور پر فرسودہ ہے جس کے چیئر مین شبیر زیدی ماضی میں اس محکمے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے اور لوگوں کو ٹیکس ورک میں نہ آنے کا کہتے رہے ہیں انہیں کیا پتہ ہمارے لوگوں اداروں غریب اور چھوٹے لوگوں کے مسائل کیا ہیں وہ بینکوں سے کس قدر تنگ ہیں یہی حال مشیر خزانہ شیخ عبدالحفیظ کا ہے جو کئی سالوں سے عالمی مالیاتی اداروں کی ملازمت کرتے رہے ہیں اور اب کافی عرصے بعد پاکستان تشریف لائے ہیں ماضی میں بھی ان کی نگرانی نجکاری کے شعبے میں پی ٹی سی ایل کے دبئی کی ٹیلی کام کمپنی کی طرف سے 8سو ملین ڈالر واجب الا دا ہیں اگر بیرون ملک سے لا کر کوئی دوسری حکومت اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں کرتی تو اسے ملک دشمن قرار دیا جا سکتا تھا اور کہا جا سکتا تھا کہ یہ لوگ عالمی ایجنڈے پر ہیں۔
اس وقت ڈالر کی قیمت ایک جگہ ٹھہر نہیں رہی ہے شرح سود 12%سے اوپر چلی گئی ہے مہنگائی کی شرح ڈبل ڈیجٹ میں ہے اور مہنگائی کی زد میں ہر شعبہ ہے اس وقت ٹیکسٹائل شعبہ، سیمنٹ سیکٹر کار اور پراپرٹی ڈیلر سب ہڑتالوں پر ہیں ٹیکسٹائل شعبے کا مطالبہ ہے فوری طور پر 0ریٹڈ سہولت واپس دی جائے بجلی اور گیس کے نرح کم کیے جائیں تمام فیکٹریاں بجٹ کے خلاف احتجاج کی وجہ سے بند ہیں یہ ایسی خطر ناک صورتحال ہے جس نے فیکٹری مالکات کو اتنا نقصان نہ ہو جتنا دھاڑی دار مزدوروں اور کم آمدنی والے لوگوں کو ہو رہا ہے اور سوچ رہے ہیں کہ ہم نے حکومت کو کیوں ووٹ دیا وہ کس کی جان کو روئیں سیمنٹ سیکٹر اور سیمنٹ ڈیلر کی سازش سے بوری کی قیمت 667روپے پر چلی گئی ہے اگر قیمت میں اضافے کے بارے سوال کیا جاتا ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ ٹیکسوں کی وجہ سے قیمت ایک دم بڑھ گئی ہے ایک طرف حکومت غیر سنجیدہ ہے ٹیکس لگا دیئے اور ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی ہے آج ڈیلر نہ سیمنٹ خرید رہے ہیں نہ بیچ رہے ہیں اس شارٹج کا فائدہ بلیک مارکیٹ والے اٹھا رہے ہیں اگر اجارہ داریوں کی اس عوام مخالف منافع خوری کی کارروائیوں کیخلاف قدم نہ اٹھایا گیا تو یہ قیمت 700روپے سے بڑھ جائے گی جس کی وجہ سے غریب آدمی اور تعمیراتی کمپنیوں پر خاصہ بوجھ بڑھ جائے گا اب ہم چینی کے شعبے کی طر ف آتے ہیں جس میں بھی چند خاندانوں کی اجارہ داری موجود ہے اور پاکستان میں سب سے زیادہ شوگر ملوں کا مالک اقتدار میں شریک ہے اس کے بقول چینی کی قیمتوں میں اضافہ حکومتی ٹیکسوں کی وجہ سے ہوا ہے جس کا ملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ شبر زیدی کہتے ہیں کہ ہم نے چینی پر صرف 3.5%ٹیکس بڑھا ہے مہنگائی کے ذمہ دارچینی کے کارخانوں کے مالک ہیں، عوام کس سے شکوہ کا مطالبہ کرے وہ اس وقت سخت پریشانی کے عالم میں ہے میں نواز شریف کی پالیسیوں کا کبھی حامی نہیں رہا کیونکہ اس نے زیادہ حکومتی سرمایہ کاری یعنی ترقیاتی کاموں کیلئے قرضے حاصل کر کے یہاں پر ترقیاتی کام کروائے ہیں جس سے ملک میں معیشت صنعت اور تجارت کا پہہ چلتا رہا ہے میاں نواز شریف کی اچھی پالیسیوں کو سراہانا چاہے اور دوسرا کھانے پینے کی ایشیا کی قیمتوں کو نہ بڑھنے دیا عمران خان کی کرپشن کی تھیوری کے حوالے سے اپنی اخلاقیات ہیں لیکن منڈی کا اپنا دائرہ کار ہوتا ہے جس میں وہ آگے بڑھتی ہے پاکستان کے عوام دیکھیں تو نواز شریف کے دور میں حالات بہتر تھے معاشی رفتار تیز تھی ترقیاتی کام ہو رہے تھے شرح سود کم تھی ڈالر کنٹرول میں تھا نئی سرمایہ کاری کے مواقع تھے اسٹاک مارکیٹ پھل پھول رہی تھی تعلیم و صحت میں بہتری تھی اب تو حالات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ مڈل کلاس تعلق رکھنے والے بھی اپنے بچوں کی بہتر تعلیم اور صحت اور علاج معالجے کے بارے میں سوچیں گئے۔
عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے نئی معاشی ٹیم بنائی ہے جس کا بنیادی مقصد ملک کے مراعایات یافتہ طبقوں کیلئے مزید مالی مسائل کی فراہمی میں آسانیاں پیدا کرنا ہے لہذا عام آدمی کیلئے شور شرابا فضول ہے اس لیے انتظار کریں کہ کب حالات بدلتے ہیں دوسری طرف کارڈ ڈیلر بھی احتجاج کر رہے ہیں کہ امپورٹ پالیسی کی وجہ سے گاڑیاں آنا بند ہو گئی ہیں اس کے ساتھ ہی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ٹوکن ٹیکس لگا دیا گیا ہے ڈالر کی قیمت بڑھتے بڑھتے 160روپے کے قریب ہے جن لوگوں نے نئی گاڑیوں کاآرڈر دیا تھا اب انہیں مزید پانچ لاکھ جمع کروانے ہونگے جس سے گاڑیوں کی قیمت25لاکھ سے40لاکھ پہنچ گئی ہے اس کساد بزاری کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روز گار ہو سکتے ہیں، ٹیکسٹائل سیمنٹ اور کار انڈسری سے حکومت کو اربوں روپے سالانہ ٹیکس ملتا ہے جب صنعتیں بند ہونگی تو عوام کا روز گار ختم ہو جائے گا حکومت کو چاہیے کہ وہ سابق حکومت کی مثبت پالیسیوں مخالفت میں ایسے اقدامات نہ اٹھائے جس سے ملک کا معاشی ڈھانچہ ہل کر رہ جائے ایف بی آر نے ٹیکس لگانے ہیں تو پانچ سال میں آہستہ آہستہ لگائے یک دم فوری اقدامات سے بہتری نہیں لائی جا سکتی بلکہ ان تمام اقدامات کو بتدریج ضرورت ہے دوسری طرف چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے روٹی نان، بیکری مٹھائیوں اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں ہو شربا اضافہ ہوا ہے اب شائد لوگ مٹھایاں اور بیکری کا سامان عید پر یا کسی دعوت پر ہی کھا سکے گئیں یہی حال گھی آئل، دالوں اور باقی کھانے پینے کی ایشیا کا ہے گوشت، دودھ، دہی دیکھ لیں 10سے20روپے اضافہ ہو چکا ہے ایک غریب آدمی جو کہ 20سے30ہزار ماہانہ کماتا ہے اس کی جان کو لالے پڑے ہوئے ہیں بے روز گاری بڑھ رہی ہے یہ خطر ناک ہے حکومت کو سیاسی بیان بازی چھوڑ کر معاشی سدھار کی طرف آنا ہوگا اور منڈی کے اسٹیک ہولڈر کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا ہمیں صرف گلیمر پوش علاقوں میں دیکھائی دیتا ہے کبھی ہم غریبوں کے علاقوں میں جائیں تو وہاں پر صحت صفائی اور روز گار کے نام کی کوئی چیز نہیں ہے حکومت بیرون ملک سے دو سو ارب ڈالر لانے مہنگائی روکنے افراد سے پیسہ نکلوانے تیل نکلنے تک ایسے غلط اعلانات وعدے کرنے میں ناکام رہی ہے اگر کوئی اس پر اعتبار نہیں کرتا حتیٰ کہ لوگ اب ریاستی اداروں کے خوف کی وجہ سے ٹیکس نیٹ ورک میں شامل ہونے کو تیار نہیں ہیں، عوام سے لیکر تاجروں صنعت کاروں نے بجٹ کو مایوس کن قرار دیا ہے تاجر راہنما کہتے ہیں انڈسٹری چلنے دیں ہولڈنگ ایجنٹ نکال دیں ہر کسی کو چور سمجھنا بند کیا جائے ایف بی آر میں اصلاحات کی جائیں عوام کو اعتماد میں لیا جائے پراپرٹی کے کام کو آسان بنایا جائے چھوٹے گھروں کیلئے آسان شرائط پر قرضے دیئے جائیں بینکوں میں رقم رکھنے پر بلا وجہ پوچھ گچھ ختم کی جائے ٹیکس ریفرنڈ ادا کیا جائے اگر سیاست دان ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہے تو نہ ملک ٹھیک ہو گا نہ سیاست اور نہ معیشت ہم سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں سب نے ملکر حالات کو درست کرنا ہے نواز شریف اور زرداری مقدمات سے معیشت میں بہتری نہیں لا ئی جا سکتی ہے معاملات تب ہی سدرینگے جب ملک میں سرمایہ کاری ہوگی اور صنعتیں چلیں گی حکومت کو این آر او کو کے بیانیہ کو تبدیل کر کے معاملات کی بہتری کیلئے ڈیل کے تحت اپنا رویہ نرم کرنا چاہیے اور تمام سیاسی مقدمات کے معاملات کو عدالتوں اور نیب پر چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ محاذ آرائی ملک و ملت کے مفاد میں نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں