معاشی بد حالی کے تناظر میں آئندہ بجٹ

تحریر: افتخار بھٹہ

کسی ریاست میں مالیاتی گورننس کو مانپنے کا بیرو میٹر بجٹ سازی ہوتا ہے جو کہ دراصل حکومتی کارکردگی کا این انڈکس ہوتا ہے۔ جس میں بتایا جاتا ہے آئندہ سال حکومت کو کتنے محصولات اور آمدنی ہوگی اور اس کے اخراجات کی تفصیل کیا ہوگی، اگر آخراجات آمدنی سے زیادہ ہوں تو حکومتوں کو اپنے اخراجات دیگر مالیاتی اداروں اور وسائل سے قرضے لے کر پورے کرنے پڑتے ہیں یہی صورتحال پاکستان میں پیش کیے جانے والے آج کل کے تمام بجٹوں کے حوالہ سے ہے اس طرح ہر بجٹ روایتی ہوتا ہے جبکہ ہم نے کبھی آج تک تبدیلی لانے والے انقلابی بجٹ کے بارے میں نہیں سنا ہے۔حکومت کی بہتر کارکردگی میں سب سے اہم چیز عوام کو ریلیف دینے کے بارے میں اعلانات ہوتے ہیں موجودہ حکومت جو کہ خود کو درمیانے اور تعلیم یافتہ مڈل کی پارٹی کہلانے پر فخر کرتی ہے لہذا اس سے غریب طبقات کیلئے ریلیف کے بارے میں سوچنا درست نہیں ہے نئے بجٹ میں محوصولات آمدنی میں اضافے، توازن ادائیگی میں بہتری اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کے بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے کئے ہوئے وعدوں کی پاس داری کی جائیگی جس سے معلوم ہوتا ہے چھوٹی آمدنیوں والے غریب طبقات کیلئے صورتحال خاصی مشکل ہوگی صنعت کار اور کاروباری طبقات بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں اگر ٹیکس کا مزید بوجھ ڈالا گیا تو وہ اپنے کاروبار بند کر دینگے۔ بظاہر طور پر یہ دیکھا جائے تو مخصوص ہوتا ہے کہ معاشی پرواز کیلئے اگلے دو برس صورتحال نا موافق رہے گی۔
آئی ایم ایف کے قرضے کی شرائط کے ساتھ آئندہ بجٹ میں برآمدات کے پانچ شعبہ جات، لیدر، کارپیٹ، سپورٹس، ٹیکسٹائل اور سرجیکل گڈز سے زرو ریٹنگ کی مراعات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ملکی برآمدات پر منفی نتائج مرتب ہو سکتے ہیں، پاکستان میں گزشتہ دس سال سے مجمومی برآمدات 25ارب ڈالر سالانہ رہی ہیں۔12ارب ڈالر ٹیکسٹائل سیکٹر کی ہیں۔ٹیکسٹائل مصنوعات بنانے والا شعبہ 38%ملازمتیں فراہم کرتا ہے مجموعی قومی پید ا وار میں اس کا حصہ8%سے9%ہے۔ پاکستان کپاس پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک ہے ہماری ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کئی سالوں سے خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا جس کی بنیادی وجہ اس کو جدید بنانے کیلئے بیلسنگ، ریپلیس منٹ اور ماڈرن نائزیشن کا نہ ہونا ہے اربوں روپے کے ایکسپورٹ ری فنانس قرضے سستی شرح پر فراہم کیے گئے تھے جن سے کمائے جانے والے منافع یا قرضوں کو صنعت کو جدیدیت اور مصنوعات کو ویلیو ایڈیٹ بنانے کے بجائے اس کو غیر پید اواری شعبوں میں کھپا دیا گیا ہے، میری مراد رئیل اسٹیٹ سے ہے جو کہ آج کل بحرانی کیفیات سے دو چار ہے۔ زرداری ٹیکسٹائل شعبہ کے علاوہ دیگر صنعتوں کو زیرو ریٹنگ مراعات دی، ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کیلئے پہلی ٹیکسٹائل پالیسی کا اعلان کیا گیا مگر اس کے تحت ابھی تک ایکسپورٹ ریفنڈ کی ادائیگیاں نہیں ہو سکی ہیں کاٹن کی پیدا وار کم ہو گئی ہے اور ہم ٹیکس میلوں کو چلانے کیلئے بھارت سے کپاس درآمد کر رہے ہیں، یہاں پر پیدا وار 8ملین بیل سے بڑھ کر 36بلین ہو گئی ہے بنگلہ دیش جو کہ کاٹن دوسرے ممالک سے درآمد کرتا ہے اس کی ٹیکسٹائل برآمدات ہم سے تین گنا ہیں ہماری برآمدات کی کمی کی ایک وجہ لاگتی قیمتوں میں اضافہ اور مصنوعات کا عالمی منڈی کے مطابق ویلیو ایڈیٹ نہ ہونا ہے پاکستان میں زیادہ ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کر دی جاتی ہے جبکہ 10 فیصد کی صرف ملکی منڈی میں کھپت ہوتی ہے مقامی طلب زیادہ ہونے کی صورت میں اس کو سمگل شدہ کپڑوں سے پورا کیا جاتا ہے یہی صورتحال مقامی سمال اور میڈیم انڈسٹری کی ہے جس کو غیر ملکی درآمدی اور سمگل شدہ مصنوعات نے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے بڑی صنعتوں کے حوالے سے کارکردگی کبھی اچھی نہیں رہی ہے بجٹ سے پہلے اقتصادی سروے کے مطابق گزشتہ حکومت کے کسی اقتصادی ہدف کو سوائے مویشوں کی افزائش نسل کے شعبہ میں حاصل نہیں کیا جا سکا، موجودہ مالی سال میں قومی پیدا وار کا ہدف 6.3%رکھا گیا تھا جو کہ صرف 3.3%ہے صنعتی شعبہ کا ہدف6.7%تھا وہ 1.4%رہا مینو فیکچرنگ کا شعبہ صرف 2%پرفارمنس دے سکا زرعی شعبہ آبی قلت، خشک سالی اور موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے صرف 1%گراؤتھ کر پایا ہے سروس سیکٹر میں 6.5%کی بجائے صرف2%سے کم ترقی ہوئی ہے اور تعمیراتی شعبے میں اس عرصہ میں 10%کی بجائے صرف7.5%ترقی ہو پائی ہے، قرضوں پر سود کی ادائیگی کے بعد سب سے زیادہ خرچ دفاعی شعبہ پر ہوتا ہے۔ گزشتہ10سالوں میں دفاعی بجٹ میں 73%اضافہ ہوا ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔اور یہ اخراجات دنیا میں 20ویں پوزیشن پر ہیں، بھارت کے جنگی عزائم بڑی فوج، علاقائی صورتحال اور دہشت گردی کے مقابلہ کیلئے یہ آخراجات نا گزیر ہیں حکومت کے اعلان کے مطابق دفاعی بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا اور موجودہ مالی سال کے مقابلہ میں حقیقی طور پر کم ہوگا جب صحت تعلیم پاپو لیشن اور دیگر عوامی مفادہ عامہ پر کیے جانے والے اخراجات کے تناظر میں دیکھا جائے تو دفاعی اخراجات زیادہ ہیں یاد رہے جب تک ہماری معیشت متحرک نہ ہوئی حکومت کو زیادہ مالی مسائل حاصل نہیں ہو سکتے ہیں۔تحریک انصاف کی قیادت سے پوچھا جائے کہ وہ معاشی اہداف کوئی نہیں حاصل پر پائی ہے تو جواب ملتا ہے یہ سب سابقہ حکومتوں کی نا اہلی اور بد عنوانی اور کرپشن کی وجہ سے اب چونکہ یہ حکومت اپنا پہلا سال مکمل کرنے کو ہے اور پہلا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے تو یہ کس طرح تمام الزامات اپوزیشن پر لائے گئی۔
پاکستان میں 2005.2007میں ہمارے ٹیکسوں کی وصولی 500سے600ارب تھی جو کہ ہر سال اضافہ کیساتھ4ہزار ہو گئی ہے۔مگر اس کے باوجود جی ڈی پی کے ساتھ ٹیکسوں کی شرح9%رہی ہے جبکہ عوام بالخصوص آمیر طبقات کے اثاثوں اور دولت میں اضافہ ہونے کے باوجود براہ راست ٹیکسز نہیں بڑھے ہیں ہم بلاواسطہ ٹیکس لگا کر اپنے آمدنی کے وسائل بڑھا رہے ہیں نئے ٹیکس گزار شامل نہیں کیے گئے بلکہ موجودہ ٹیکس ادا کرنے والوں پر بوجھ پڑا ہے و کہ ان کی مقابلاتی سکت کو ختم کر رہا ہے۔
حکومت11جون کو اپنے تخمینوں کی بنیاد پر 5.5کھرپ روپے کا ٹیکس بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے جس میں حکومتی کارکردگی بہتر نہ ہونے کی وجہ سے تبدیلی لانا ممکن نہیں ہے اور آئی ایم ایف کی شرائط پوری نہ کرنے کی وجہ سے آئی ایم ایف معاہدہ ختم کر سکتا ہے، یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ تمام عالمی مالیاتی ادارے امریکہ کے بغل بچے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے مقاصد کار حل کرنے کیلئے پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کر سکتا ہے جس میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا اور افغانستان کے معاملات میں اس کی مرضی کے مطابق تعاون کرنا ہے، وہ بھارت کی طرف سے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ہمیں دباؤ میں رکھنے کی کوشش کرے گا، اس طرح پاکستان جہاں پر معاشی حوالے سے دباؤ میں ہے وہاں پر اس کو خارجہ پالیسی بالخصوص علاقائی ممالک کے ساتھ تجارت اور تعلقات کے حوالے سے تناؤ کا سامنا رہے گا اس ساری صورتحال میں پاکستان کو اندرونی معاشی اور امن عامہ کی صورتحال کو بہتر بنانا ہوگا، ریاستی آمدنیوں میں اضافے سے غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بتدریج کم کرنا ہوگا۔
اگر پاکستان محو صولات کا ہدف نہیں کر پاتا تو اس کو جی ٹی ایس کو 17سے20%بڑھانا ہوگا جس سے مراد 1%اضافہ پر 80ارب روپے اور3%پر 240ارب روپے ہیں اسی طرح امپورٹ ڈیوٹی کو 2%سے5%کرنا ہوگا جس سے حکومت کو ڈیفالٹ کے بارے میں تسلی مل جائے گی، پاکستانی ماہرین معیشت کے ایک تھینک ٹینک کے مطابق عمران خان کی حکومت آنے کے بعد 10لاکھ افراد بے روز گار ہوئے ہیں 500چھوٹے بڑے کاروبار بند ہوئے ہیں، مہنگائی میں 10%اضافہ دیکھنے میں آیا ہے رئیل اسٹیٹ کا کام کم ہوا ہے جس میں پھنسا ہوا کالا دھن غیر متحرک ہونے کی وجہ سے معاشی سر گرمیوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے بجٹ کے بعد ملک کے مزید 45%افراد سطح غربت سے نیچے چلے جائیں گے، ملک کی333ارب ڈالر کی معیشت کم ہو کر 280ارب ڈالر رہ جائے گی بجٹ کے بعد یہ مزید کم ہو کر 260ارب ڈالر رہ جائے گی
حکومت کو چاہیے کہ محصولات بڑھانے کیلئے امیر طبقات کیلئے ہر قسم کی رعاتیں ختم کریں یہ بڑی بد نصیبی کی بات ہے موجودہ حکومت نے غریبوں کو ریلیف دینے کی بجائے شوگر ملوں کو اربوں روپے کی سبسڈی دے دی ہے۔ ایف بی آر کو نئے ٹیکس نیٹ ورک میں لانا ہوگا اور ان کی مجموعی پیدا وار کے ساتھ شرح کو 15%تک بڑھانا ہوگا پاکستان زرعی اور صنعتی سیکٹر کیلئے اصلاحات کرنی ہونگی۔آج ہم مکمل طور پر صارف کی منڈی میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں پر مینو فیکچرنگ نہ ہونے کے برابر ہے ہم محض درآمدات کی خریداری میں اضافہ کر رہے ہیں، پاپو لیزم اور آئیڈیل ازم کے تحت کوئی شخصیات نا گزیر نہیں ہوتیں ہیں اور ان کا متبادل ہر دور میں موجود رہتا ہے پاکستان میں صدر ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو چلے گئے لیکن وہ چلتا رہا ہے، خاندان اور شخصیات کی سیاسی مہارتوں کے ساتھ ضرورت ہوتی ہے جبکہ خاندانی سرمایہ دارانہ جا ہ و جلال کے ساتھ ذاتی مفادات کیلئے چلانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ریاست کا اصل مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہوتا ہے اور صنعتی انقلاب کے ذریعے روز گار کے مواقع میں اضافہ کرنا ہوگا ہے جس کیلئے سوشل ڈیمو کریٹ سوچ رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہے محض اپوزیشن کو جہنم رسید کرنے کے نعروں سے ہم معاشی اہداف حاصل نہیں کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں