ماہ صیام کے دوران بھی جرائم، ارشادات نبویؐ ضرور پڑھیں

تحریر۔۔۔ احمد جمال نظامی
ماہ مقدس رمضان المبارک کے دوران قتل و غارت گری اور زیادتی جیسے قبیح واقعات کا ارتکاب جاری ہے۔ اس طرح کے واقعات حالات کے ایسی تلخ عکاسی کر رہے ہیں جس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا آج ہم رمضان المبارک کے ماہ مقدس میں بھی اللہ کی رحمت کو حاصل کرنے سے نالاں ہیں اور کیا آج کا مسلمان اس قدر پستی اور اخلاقی زوال کا شکار ہو چکا ہے کہ اسے اس حقیقت کا ادراک بھی نہیں کہ ماہ مقدس رمضان المبارک کی کیا اہمیت اور افادیت ہے۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ رمضان المبارک کی ہر شب و روز میں اللہ کے یہاں سے (جہنم کے) قیدی چھوڑے جاتے ہیں اور ہر مسلمان کے لئے ہر شب و روز میں ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ حضورﷺ کا ایک اور پاک ارشاد ہے کہ تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی۔ ایک روزے دار کی افطار کے وقت، دوسرے عادل بادشاہ کی دعا، تیسرے مظلوم کی جسے حق تعالیٰ شانہ بادلوں سے اوپر اٹھا لیتے ہیں اور آسمان کے دروازے اس کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں اور ارشاد ہوتا ہے کہ میں تیری ضرور مدد کروں گا۔ گو (کسی مصلحت سے) کچھ دیر ہو جائے۔ درمنشور میں حضرت عائشہؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ جب رمضان آتا تھا تو نبی کریمﷺ کا رنگ بدل جاتا تھا اور نماز میں اضافہ ہو جاتا تھا اور دعا میں بہت عاجزی فرماتے تھے اور خوف غالب ہو جاتا تھا۔ دوسری روایت میں فرماتی ہیں کہ رمضان کے ختم ہونے تک بستر پر تشریف نہیں لاتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ حق تعالیٰ شانہ رمضان میں عرش کے اٹھانے والے فرشوں کو حکم فرما دیتے ہیں کہ اپنی اپنی عبادت چھوڑ دو اور روزے داروں کی دعا پر آمین کہا کرو۔ بہت سی روایات سے رمضان کی دعا کا خصوصیت سے قبول ہونا معمول ہوتا ہے اور یہ بے تردد بات ہے کہ جب اللہ کا وعدہ ہے اور سچے رسولﷺ کا نقل کیا ہوا ہے تو اس کے پورا ہونے میں کچھ تردد نہیں۔ رمضان المبارک میں ایک رات لیلۃ القدر کی بھی ہے جس کی اتنی فضیلت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا وہ شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لئے) کھڑا ہو، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک کا مہینہ آیا تو حضورﷺ نے فرمایا کہ تمہارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزاروں مہینوں سے افضل ہے۔ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا ساری ہی خیر سے محروم رہ گیا اور اس کی بھلائی سے محروم نہیں رہتا مگر وہ شخص جو حقیقتاً محروم ہی ہے۔ نبی کریمﷺ کا ایک اور ارشاد ہے کہ شب قدر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام، ملائیکہ کی ایک جماعت کے ساتھ آتے ہیں اور اس شخص کے لئے جو کھڑے اور بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہا ہے(اور عبادت میں مشغول ہے) دعائے رحمت کرتے ہیں اور جب عیدالفطر کا دن ہوتا ہے تو حق تعالیٰ شانہ اپنے فرشتوں کے سامنے بندوں کی عبادت پر فخر فرماتے ہیں (اس لئے کہ انہوں نے آدمیوں پر طعن کیا تھا) اور ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ اے فرشتو اس مزدور کا جو اپنی خدمت پوری پوری ادا کر دے کیا بدلہ ہے، وہ عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی اجرت پوری دے دی جائے تو ارشاد ہوتا ہے کہ فرشتو میرے غلاموں نے اور باندھیوں نے میرے فریضہ کو پورا کر دیا، پھر دعا کے ساتھ چلاتے ہوئے (عیدگاہ کی طرف) نکلے ہیں۔ میری عزت کی قسم، میرے جلال کی قسم، میری بخشش کی قسم، میرے علوشان کی قسم، میری بلندی مرتبہ کی قسم میں ان لوگوں کی دعا ضرور قبول کروں گا اور پھر ان لوگوں کو خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جاؤ تمہارے گناہ معاف کر دیئے ہیں اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا ہے پس یہ لوگ عیدگاہ سے ایسے حال میں لوٹتے ہیں ان کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ فضائل اعمال میں اس حدیث کے فائدے میں لکھتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ملائیک کے ساتھ آنا خود قرآن پاک میں بھی مذکور ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی اس کی تصریح ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام تمام فرشتوں کو تقاضا فرماتے ہیں کہ ہر ذاکر و شاغل کے گھر جائیں اور ان سے مصافحہ کریں۔ غالیۃ المواعظ میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی غنیہ سے نقل کیا ہے کہ ابن عباسؓ کی حدیث میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے کہنے سے فرشتے متفرق ہو جاتے ہیں اور کوئی گھر چھوٹا بڑا جنگل یا کشتی ایسی نہیں ہوتی جس میں کوئی مومن ہو اور وہ فرشتے مصافحہ کرنے کے لئے وہاں نہ جاتے ہوں لیکن اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس گھر میں کتا یا سور ہو، یا حرام کاری کی وجہ سے جنبی یا تصویر ہو، تاہم حضرت عائشہ ؓ نبی کریمﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ لیلۃ القدر کو رمضان کے آخیر عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو۔ رمضان المبارک کتنا مقدس مہینہ ہے کہ اس ماہ صیام میں ہم اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق سنت نبویﷺ پر چلتے ہوئے ایک مخصوص اور مختصر مدت میں قائم کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے جو تعلق قائم ہوا تو پھر کوئی مسائل ہمارے آڑے نہیں آ سکتے۔ اللہ پاک اور اللہ کے محبوب حضرت محمدﷺ نے اس دنیا فانی اور عارضی دنیا قرار دیتے ہوئے بار بار سفرگاہ قرار دیا ہے۔ اللہ کے نزدیک اس دنیا کی وقعت ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں اور اللہ پاک اور اللہ کے نبی حضرت محمدﷺ بار بار اس دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی زندگی کو ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی قرار دیتے ہوئے اس کی تیاری کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ عقل مند انسان وہ ہے جو مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کر لے لیکن آج کے ہم مسلمان شاید اپنے ایمان میں وہ حلاوت اور مضبوطی نہیں رکھتے جس کی وجہ سے ہمارے قدم ڈگمگا رہے ہیں اور ہم طرح طرح کے گناہوں میں مبتلا ہو کر اپنی دنیاوی، دینی اور آخرت کی زندگی خراب کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ اسی لئے قتل و غارت گری، ذخیرہ اندوزی، جنسی زیادتی، اپنوں کے ہاتھوں اپنوں کا قتل، غیرت کے نام پر ضد اور انا کو مقدم رکھتے ہوئے غیرشرعی فعل کے لئے قرآن پاک پر حلف اٹھا رہے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ فرقہ واریت سے پاک ہو کر آپﷺ کے احکامات پر عملدرآمد کے لئے ہم اپنی زندگیوں کو اسلام کے سانچوں میں ڈھالیں۔ آپﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ کوئی شخص اگر ساری زندگی ساری رات اللہ کی عبادت میں گزار دے اور ساری زندگی روزے رکھے تو اس سے بھی بلند مرتبے والا شخص وہ ہے جو اپنی زبان پر قابو رکھے اور کسی کے برا بھلا کہہ دینے پر بھی اپنی زبان کو قابو رکھے۔ لہٰذا آج ہمارے کتنے مسائل اس وجہ سے ہمیں ماہ مقدس میں اس بابت سوچتے ہوئے کم از کم ان تیس ایام میں تزکیہ نفس اور تعلق رب العزت و محمد مصطفیﷺ کے لئے خوداحتسابی کا عمل جاری کرنا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں