مافیا ز کی جبر دستیاں اور گرانی۔۔۔

تحریر—احمد کمال نظامی
یہ امر کسی شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ 2018ء ے قبل دو پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں قائم رہیں‘لیکن ان دنوں پارٹیوں کے عہد حکومت میں صوبائیت کو فروغ حاصل ہوااور ضیاء الحق کے دس سالہ عہد میں کھیت کے کھیت تیار ہوئے جہاں صوبائیت کو فروغ ملا وہاں زبان یعنی لاسانیت نے بھی جنم لیا اس کے ساتھ ہی مہنگائی اور گرانی کی عفریت نے عوام کو اپنی لپیٹ میں ایسا لیا کہ سانپ کی کنڈلی مارے بیٹھ لیا اور عمران خان کی حکومت نے اگلی پچھلی تمام کسر یں نکال دیں حتیٰ کہ صاحب ثروت لوگ بھی مہنگائی کا رونا روتے رہیں‘ اس کا خوفناک اور نا قابل برداشت پہلو جو اجاگر ہوا اس معیشت کی گاڑی کے پہیہ کو جام کر دیا گذشتہ ڈیڑھ سال سے تمام ماہرین اقتصادیت کے فارمولے اور تجزیہ ریت کی دیوار ثابت ہوئے بد قسمتی سے حکمران گرانی اور مہنگائی کے طوفان پر قابو پانے میں ناکام رہے بلکہ گرانی مافیا پر ہاتھ ڈالنے اور اس کو قانون کے دائرہ میں لانے میں ناکام ہی نہیں بلکہ گرانی کو روٹین کا عمل قرار دیتے ہوئے مجرمانہ غفلت کا شکار ہوئے عمران خان کی حکومت کا سب سے بڑا لمیہ یہی ہے‘ عمران خان کی حکومت بیساکھیوں کے سہارے پر کھڑی ہے‘ جو آثار نظر آ رہے ہیں یوں محسوس ہو تا ہے کہ گرانی اور مہنگائی کا سونامی آئندہ سال جو طوفا برپا کرے گا‘بیساکھیوں پر قائم حکومت اس مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے اس کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک معمولی سبزی نے حکومت کی جڑیوں میں سوک بن کر منظر عام پر آئی ہے‘ابھی گندم کی نئی فصل مارکیٹ میں آئی ہے اصولی طور پر ایک زرعی ملک ہونے کے حوالہ سے آٹے کی قیمت میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے تھا جبکہ آٹا ہماری خوراک کا مرکز و محور ہے اور اس کے بغیر کوئی پارہ کار نہیں اور آٹے کی قیمت میں بتدریج اضافہ اس بات کو عیاں کرتا ہے کہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ خواب خرگوش لئے ہوئے ہے‘ صوبائی حکومت اور انتظامیہ گرانی مافیا اور منافع خور مافیا کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں اور عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جو نام نہاد پرائس کنٹرول کمیٹیاں قائم کی جا تی ہیں آٹے کی تواتر کے قیمت میں اضافہ اس امر کی دلیل ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے سائن بورڈ آویزاں کر کے عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا اور کب تک یہ تماشا جاری رہے‘حکومت نے آٹھ سو روپے فی تھیلا آٹے کی پر چون قیمت مقرر کی جبکہ مارکیٹ میں بیس کلو آٹے کا تھیلا 950روپے سے ایک ہزار روپے فروخت ہو رہا ہے اور فائن آٹے کی قیمت گیارہ بارہ سو روپے ہے‘طرفہ تماشا یہ ہے کہ ضلع انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی جانب سے فلور ملز مالکان کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ مارکیٹ اور دکان داروں کی 790روپے فی تھیلا فروخت کریں اور دکان عوام کو آٹھ سو آٹھ روپے فی تھیلا فروخت کریں گے‘لیکن محکمہ خوراک فلور ملز مالکان اور انتظامیہ کی ملی بھگت نے وہ چاند چڑھایا کہ عوام کو لینے کے دینے پڑ گئے آٹا کی قیمت میں اضافہ کا یہ جواز فراہم کیا جاتا ہے کہ محکمہ خوراک فلور ملز کو کوٹہ کے مطابق گندم فراہم نہیں کر تا اور جو گندم فراہم کی جا تی ہے وہ اس قدر کم مقدر میں ہوتی ہے کہ فلور ملز کا پہیہ دو سے تین گھنٹے ہی چل پاتا ہے گویا عوام کو مہنگائی کا انجکشن لگانے کی ابتدا ہی محکمہ خوراک کا کرپٹ مافیا اور فلور ملز مافیا کر تا ہے‘ انتظامیہ صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب جو کہ وزیراعظم عمران خان کے ”وسیم اکرم“ وہ کہاں سوئے ہوئے ہوتے ہیں اس معنی تو یہی ہوئے کہ عمران خان سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور بات کرتے ہیں ریاست مدینہ کی‘ عمران خان پانچ سال بھی حکومت کر لیں وہ ریاست مدینہ اور اس کے نظام کی الف کو بھی نہیں چھو سکتے‘ایک اور اہم بات کہ جنرل ضیاء الحق نے اپنے عہد میں جو بیچ بویا اور ہوس اقتدار سرمایہ داروں اور تاجروں جو فورس تیار کی اس فورس کے مقاصد میں اول و آخر ایک ہی بات تھی کہ عوام جائیں بھاڑ میں‘ انہوں نے اقتدار کو اپنے گھر سے باہر نہیں جانے دیا یوں اسلام کے نام پر کوڑھ کی ایسی کاشت کی گئی جس نے پاکستان کو ستیش ناگوں کا نشیمین بنا دیا‘ان ستیش ناگوں سے پوری قوم آشنا بھی ہے اور ان کے چہروں کو پہنچانی بھی ہے اور یہ قومی بد قسمتی ہے کہ یہ ستیش ناگ ہمیں ڈستے بھی ہیں اور ہم اف تک نہیں کر تے بلکہ اپنا جرم قدرت پر ڈال کر تقدیر کا لکھا قرار دے کر خاموش ہو جا تے ہیں‘ہم گزشتہ 70برسوں سے قوم کی بجائے ایک ہجوم سے زیادہ کوئی درجہ نہیں رکھتے جبکہ ہمارے مقابلہ میں جنہوں نے ہجوم کی بجائے قوم کا درجہ حاصل کیا انہوں نے ترقی کی منازل تیزی سے طے کیں چین ملایشیا‘بنگلہ دیش‘ سنگا پور اور ممالک ہمارے سامنے ہیں اور آخر میں ایک ہی بات کہوں گا مہنگائی ہو یا دیگر مسائل ہم ان کے گرداب اور دلدل سے اس وقت تک نجات نہیں پا سکتے جب تک خود کو نہیں بدلیں گے‘ زمانہ بدل لیا ہم ابھی لکیر پیٹ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں