قائد اعظم کا پاکستان

بشکریہ روزنامہ 92
تحریر۔۔۔ہارون الرشید
امن نہیں، امن کی آرزو بھی نہیں۔ تعلیم نہیں، تعلیم کی تمنا بھی نہیں۔ ایک بھی ایسا لیڈر نہیں، قومی مستقبل کے لیے اپنی انا کو جو چھوڑ سکتا ہو۔اس پر ٹیکنالوجی سپر پاور بننے کا خواب؟ فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان ضرور بن جائے گا۔ چند گزارشات اور ایک واقعہ۔ سالِ گزشتہ پاکستان کا ایک سرکاری وفد ملائیشیا پہنچا۔ سب جانتے ہیں، ملائیشیا ان ممالک میں سے ایک ہے، ٹیکنالوجی کے میدان میں جو نچلی سطح سے ابھر کر درمیانے درجے میں داخل ہو چکا۔ سنگاپور، ہانگ کانگ اور تائیوان کی طرح۔اس کا ہدف اب عالمی معیار کو چھونا ہے۔ اس سے آگے بھی تو ایک منزل ہے۔ امریکہ، جاپان، جرمنی اور چین۔ پاکستانی وفد ٹیکنالوجی پارک لے جایا گیا۔ صنعت و حرفت کی جدید دنیا، جس کے بل پر ملائیشیا کی فی کس آمدنی چین سے کم از کم تیس فیصد زیادہ ہے۔ چین اور ملائیشیا ایک ساتھ جاگے تھے۔ ملائیشیا میں چینی نسل کے باشندے ہی کاروبار میں پیش پیش تھے، جس طرح 1947 ء سے پہلے ہماری سرزمین میں ہندو اور سکھ۔ مسلمان کاروبار سے گریزاں رہتے۔ اللہ کے آخری رسولؐ کا یہ فرمان صدیوں پہلے فراموش کر چکے تھے کہ رزق کے دس میں سے نو حصے کاروبار میں رکھے گئے۔اس شعور سے محروم کہ بہترین کاروبار اب صنعت ہے، ٹیکنالوجی ہے۔ مسلمان سرکاری ملازمت یا کاشتکاری سے وابستہ تھے۔ ان کے سب سے بڑے شاعر نے کہا تھا : ہفت پشت سے ہے پیشہ ٔ آباسپہ گری شاعری کچھ ذریعہ ٔ عزت نہیں مجھے سپاہ گری پیشہ نہیں،اگرمحض پیشہ ہو تو حیوانیت۔بستیوں کی حفاظت کے لیے جان ہتھیلی پہ رکھنے والے۔اسے پیشہ نہیں بناتے وہ کچھ سے کچھ ہو جاتے ہیں۔ عامی نہیں رہتے خاص ہو جاتے ہیں۔ استاد احسان دانش کے بقول : ہم چٹانیں ہیں، کوئی ریت کے ساحل تو نہیں شوق سے شہر پناہوں میں لگا دو ہم کو فقط پیشہ ہی ہو تو انجامِ امریکیوں ایسا ۔ ویت نام میں خاک چاٹی، عراق میں رسوا ہوئے اور افغانستان سے پسپا ہیں۔ ہر مہم کے کم از کم مطالبے اور تقاضے ہوتے ہیں۔ عسکری قیادت کی بار بار پہاڑ ایسی غلطیوں کے باوجود پاکستانی فوج کو اس لیے قوم اب بھی عزیز رکھتی ہے کہ ان تقاضوں کا فوج کو ادراک ہے۔ قائداعظم کے پاکستان میں فوج واحد جدید ادارہ ہے۔ ایک عشرہ پہلے جس نے کاغذ کا استعمال ترک کردیا تھا۔پھر یہ کہ وہ جان دے سکتے ہیں، آبرو پہ حرف آنے نہیں دیتے۔ شہید کی میت دہلیز پر پہنچتی ہے تو سینہ کوبی کی بجائے مائیں، بہنیں اور بیٹیاں فخر سے خیر مقدم کرتی ہیں۔ دل غم سے بھرے مگر ایمان کی مشعلیں فروزاں۔ اس ایقان کہ شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اگر وہ اللہ کی راہ میں مارے جائیں۔ مٹی کی محبت میں نہیں۔ مٹی ساری دنیا کی ایک جیسی ہے۔ تمہید تمام، فواد چوہدری ٹیکنالوجی میں پاکستان کو سپر پاور بنانا چاہتے ہیں تو کہانی کے دوسرے حصے پر غور فرمائیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ اور وفد کے دوسرے ارکان کو بتایا گیا کہ پاکستان کے حالات سے ملائیشیا واقف ہے۔ عصری تقاضوں سے اگر ہم آہنگ ہونا ہے تو سب سے پہلے حقائق کا ادراک کرنا ہوگا۔ تسلیم کرنا چاہیے کہ پاکستان ابھی سب سے نچلی سیڑھی پہ کھڑا ہے۔ درمیانے درجے میں داخل ہونے کے لیے اسے جدید ٹیلی ویژن، کمپیوٹر اور اس طرح کی دوسری چیزیں بنانا ہوں گی۔ اس کے لیے مردانِ کار تیار کرنا ہوں گے۔ آغاز پرزے جوڑنے سے ہوگا، یعنی assembling۔ دوسرے ممالک سے پرزے منگوا کر معیاری مصنوعات۔ جیسا کہ مشرق بعیدکے مکینوں کا شعار ہے، شائستگی سے انہوں نے سمجھایا کہ ترقی کا سفر مرحلہ وار ہوتاہے۔ فواد صاحب سے اب ایک چھوٹا سا سوال : کیا پاکستان میں ایک بھی ٹیکنالوجی پارک موجود ہے؟ با صلاحیت انجینئر جہاں کارفرما ہوں۔ عمارتیں خواہ عالیشان نہ ہوں لیکن بجلی کی فراہمی 365دن جاری رہے۔ اس میں مدّ و جزر نہ آئے۔ پانی کی فراوانی ہو اور قیادت ان ہاتھوں میں، جو ایک جنون کے ساتھ ہدف کو نگاہ میں رکھیں۔ کوہ پیما کہتے ہیں کہ کوہ ہمالیہ کو سر کرنا ہو تو وہ نگاہ صرف اگلے قدم پہ رکھتے ہیں۔ دل میں خواب مگر رفعت کا۔ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا قدم اٹھالیا اور اٹھاتے چلے گئے تو ایک دن چوٹی پہ علم گاڑ دیا جائے گا۔ فواد چوہدری کی کوشش سے وینٹی لیٹر بنا۔ اس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس وینٹی لیٹر کا معیار کیا ہے؟ جرمنی اور امریکہ تو الگ، کیا یہ چین کے برابر بھی ہے؟ طنزاً نہیں، یہ سوال سنجیدگی سے ہے۔ اس لیے کہ لکھنے والے کی معلومات محدود ہیں۔ اب ذرا بنیادی سوال کی طرف، فواد چوہدری جس کا ادراک کر سکتے ہیں۔ کیاکسی معاشرے نے امن اور تعلیم کے بغیر بھی اس کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں؟ امریکہ ہو، جرمنی، جاپان یا صنعتی انقلاب کی ماں برطانیہ، کم از کم 80، 90فیصد شرح خواندگی کے بغیر ٹیکنالوجی کے میدان میں سفر کا آغاز بھی کیسے ممکن ہے؟تعلیم ہو تو : جس سمت کو چاہے صفتِ سیلِ رواں چل وادی یہ تمہاری ہے تو صحرا بھی تمہارا صدیاں نہیں، چند عشرے درکار ہوتے ہیں۔ چین،تائیوان، سنگا پور، کوریا،جاپان اور ملائیشیا کی مانند۔ کیا ضروری اقدامات کا آغاز ہم نے کر دیا ہے؟ بالخصوص پنجاب میں؟ جہاں عثمان بزدار ایسے جینئس کے ہاتھ میں زمام کار ہے جولی کوان یو، ڈنگ سیاؤ پنگ اور مہاتیر محمدکے ہم پلہ ہے۔ بیس کروڑ روپے بھتے کے لیے بلدیہ فیکٹری میں 259انسانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کا صفایا کرنے والے 220پولیس افسر قتل کر دیے گئے۔ یا للعجب اس وقت جب پاکستانی فوج کا ذہین اور طاقتور سربراہ جنرل مشرف اقتدار میں تھایا قائدِ اعظم ثانی میاں محمد نواز شریف۔ عزیر بلوچ اور اس کے ساتھی منشیات بیچتے، غیر ملکیوں کے لیے جاسوسی کرتے، اسلحہ کی سمگلنگ کرتے اور کٹے ہوئے سروں سے فٹ بال کھیلا کرتے۔جھوٹوں، احمقوں اور جاہلوں کے سوا سب جانتے ہیں کہ سرپرستی کس نے فرمائی۔کس کے ایما پر مخالفین کی شہ رگیں وہ کاٹا کرتے۔ ہفتے بھر سے میڈیا میں بحث ہے کہ دو تحقیقاتی رپورٹوں میں سے اصل کون سی ہے۔ ارے بھائی دونوں اصلی ہیں۔ ایک پر پولیس افسروں کے اگر دستخط نہیں تو اس لیے کہ ِ سندھ حکومت کے وہ ملازم تھے۔ دستخط نہ کرنے کا انہیں حکم دیا گیا۔ دفعہ 164کے تحت عزیر بلوچ کا ریکارڈ شدہ بیان علی زیدی والی رپورٹ کی تصدیق کرتاہے۔ اس کے پاس ایرانی پاسپورٹ تھا۔ صوبائی ہی نہیں، وفاقی خفیہ ایجنسیوں کو بھی علم تھا۔ سب جانتے تھے کہ کوکین کے نشے میں دھت اس کے ساتھی حسن بن صباح کے حشیشین کی طرح وحشی جانوروں سے بدتر ہو جاتے۔یہی وہ لوگ تھے جن کی کہانی ہیرلڈیم نے لکھی ہے جنہوں نے اس عہد کے سب سے بڑے ماہر فلکیات عمر خیام کو اغوا کرلیا تھا۔ ہزاروں اہم شخصیات کوقتل۔اسی قماش کے لوگوں کو قرآنِ کریم اسفل السافلین کہتاہے، پست ترین میں سے بھی پست ترین۔ امن نہیں، امن کی آرزو بھی نہیں۔ تعلیم نہیں، تعلیم کی تمنا بھی نہیں۔ ایک بھی ایسا لیڈر نہیں، قومی مستقبل کے لیے اپنی انا سے جو دستبردار ہو سکتا ہو۔اس پر ٹیکنالوجی سپر پاور بننے کا خواب؟
بشکریہ روزنامہ 92

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں