فرات کے کنارے آخری جنگ

بشکریہ۔۔۔ روز نامہ92نیوز
تحریر۔۔۔اوریا مقبول جان
صدام حسین کا عراق پہلے سوویت یونین کی سیاست کا اکھاڑا تھا اور اس کے پڑوسی ایران پر خطے کا امریکی تھانیدار رضا شاہ پہلوی برسرِاقتدار تھا۔ لیکن آیت اللہ خمینی کے ایرانی انقلاب نے پورے خطے میں وفاداریوں کی بساط الٹ کر رکھ دی۔ فرات کے کنارے آباد صدام حسین کے عراق نے ایران کو کمزور جانا اور اس پر جنگ مسلط کردی۔ اس آٹھ سالہ جنگ میں دس لاکھ لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ جنگ ختم ہو گئی۔ صرف تین سال امن کے گزرے تھے کہ امریکہ نے عراق پر حملہ کر دیا۔ اس سے پہلے صدام حسین کو اچکایا گیا کہ کویت پر قبضہ کرو اور پھر فروری 1991ء میں عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ جنگ میں شکست کے بعد وہاں کی شیعہ اور کرد آبادی کو صدام کے خلاف بغاوت پر اکسایا گیا۔ بدترین لڑائی ہوئی جس میں کیمیائی ہتھیار تک استعمال کیے گئے۔ اقوام متحدہ نے وہاں کے کردوں کے لیے ایک محفوظ علاقہ مخصوص کیا جس پر عراق کے طیاروں کی پرواز منع کر دی گئی۔ اس حد تک پابندیاں لگائی گئی کہ دوائیاں تک روک لی گئیں، ایک اندازے کے مطابق بیس لاکھ بچے صرف دوا نہ ملنے سے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ بدنام زمانہ تیل کے بدلے خوراک پروگرام شروع ہوا اور دنیا بھر کا کرپٹ مافیا عراقیوں کا تیل اونے پونے داموں خرید کر انہیں خوراک بہم پہنچاتارہا۔ اس ساری صورتحال اور معاشی پابندی کے درمیان دسمبر 1998ء میں امریکہ اور برطانیہ کے جنگی جہازوں نے عراق کے ٹھکانوں پر اس لئے حملہ کردیا کہ انہیں شک تھا کہ وہاں کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔ گیارہ ستمبر کے بعد دنیا بدلی تو فرات کا یہ کنارہ ایک دفعہ پھر لہو رنگ ہو گیا۔ مارچ 2003ء میں امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا اور پھر صدام کی سات لاکھ فوج چشم زدن میں غائب ہو گئی۔ بیچ چوراہے میں لگا صدام کا مجسمہ امریکی فوجیوں نے گرایا اور بغداد کے تخت پر حکومت کے لیے ایک گورننگ کونسل بنادی۔ اس دن سے دسمبر 2005ء تک امریکی افواج القاعدہ اور دہشت گردی کے نام پر بغداد میں قتل عام کرتی رہیں۔ کیسی کیسی کہانیاں ہیں جو اس دور میں منظر عام پر آئیں۔ ابوغریب جیل میں انسانوں پر کتے چھوڑ نے سے لے کر جنسی زیادتی تک سب کچھ ہوا۔ فلوجہ، موصل اور کرکوک کے شہروں کو بار بار محاصرے میں لے کر دہشت گردوں کی تلاش کے نام پر عام شہری تشدد اور قتل و غارت کا نشانہ بنائے گئے۔ جون 2006ء میں امریکیوں کے ہاتھوں ابومصعب زرقاوی کی شہادت کے بعد معاملات تھوڑے ٹھنڈے ہوئے لیکن پھر شدید قسم کی شیعہ سنی جنگ کا آغاز ہوگیا۔ سمارا کے علاقے میں خودکش بمبار کے ہاتھوں لاتعداد شیعہ زائرین جاں بحق ہوئے تو معاملہ مزید گھمبیر ہوگیا۔ اگست 2007ء میں کرد اور شیعہ لیڈران وزیراعظم نور المالکی کے حق میں اکٹھے ہو گئے لیکن یہ کسی سنی لیڈر کو ساتھ نہ ملا سکے۔ خلیج بڑھتی گئی۔ یہی وہ دور تھا جب عراق میں بلیک واٹر کی موجودگی کا پتا چلا جس نے ازرائے تفنن عام لوگوں پر فائر کھول کر سترہ لوگوں کو لقمہ اجل بنا دیا تھا۔ نومبر 2008ء میں امریکی افواج نے حکومت سے معاہدہ کیا کہ امریکی فوج 2011ء میں عراق سے نکل جائے گی۔ دسمبر 2011ء میں امریکی افواج وہاں سے نکلیں تو ستمبر 2013ء میں سنی علاقوں میں بغاوت شروع ہوگی۔ اس ایک سال میں 7,157 شہری دھماکوں میں ہلاک ہوئے۔ فلوجہ اور رمادی کے علاقے میدان جنگ بن گئے۔الانبار صوبے اور موصل کے علاقوں سے امارات اسلام کے نام پر داعش کا آغاز ہوا اور اسی دریائے فرات کے کنارے کنارے انہوں نے عراق اور شام کے علاقوں میں اپنی حکومت کا اعلان کر دیا۔داعش کے خطرے کے بعد ستمبر 2014 میں شیعہ رہنما حیدر العباد نے سُنّیوں اور کردوں کو ساتھ ملا کر حکومت قائم کی۔ اگلے تین سال اسلامی امارات یعنی داعش کیخلاف جنگ کے سال تھے۔ لیکن اس کیساتھ ساتھ ایک اور طوفان نے پورے مشرق وسطیٰ کو گھیر لیا جسے عرب بہار کہتے ہیں۔ یہ آزادی، جمہوریت اور حقوق کی جدوجہد کے نام پر عرب ممالک پر قائم کئی دہائیوں کی آمریتوں کیخلاف ایک تحریک تھی جو تقریبا ہر ملک میں اچانک اٹھ کھڑی ہوئی۔ تیونس کے زین العابدین علی کے 24 سالہ اقتدار کے خاتمے سے لے کر مصر میں حسنی مبارک کی رخصتی اور مرسی کی حکومت اور پھر معزولی تک اس تحریک نے بہت رنگ بدلے۔ لیکن اس کا اصل معرکہ شام کی سرزمین اور خصوصا اسی فرات کے کنارے آج بھی برپا ہے۔ گذشتہ آٹھ سالوں سے یہ سرزمین مسلمانوں کے خون سے رنگین ہو رہی۔ دمشق سے حلب، ادلب، رقہ، موصل، بغداد، فلوجہ ہر جگہ بشار الاسد کے مقابل عرب جہادی گروہوں اور ایرانی سرپرستی والے ملیشیاوں کے درمیان ایک جنگ برپا ہے۔ دریائے فرات آٹھ لاکھ مسلمانوں کے خون سے رنگین ہو چکا ہے۔ دس لاکھ یتیم،اردن اور سعودی عرب کے علاوہ شام اور ترکی کے بارڈر پر موجود کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ساٹھ لاکھ لوگ ہجرت کر کے دنیا بھر کے ممالک میں بے یارومددگار پڑے ہیں۔ فرانس کی مشہور سڑک شانزے لیزے پر اگر آپ کو کسی کونے میں کوئی حجاب والی عورت اپنے پیارے پیارے بچوں کے ساتھ بھیک مانگتی ملے تو جان لیں کہ وہ شام سے در بدر ہو کر یہاں پہنچی ہے۔ جرمنی، ناروے، فرانس، سپین اور اٹلی کے شہروں میں سخت سردی کے عالم میں پلوں کے نیچے یہی شامی مسلمان ہیں جو قتل ہونے کے خوف سے یہاں آن نکلے ہیں۔ صرف ترکی میں چالیس لاکھ مہاجرین ہیں۔ ان سب ہجرت زدوں کا علاقہ فرات کا کنارہ ہے۔ دیر الزور ہویا حلب، فلوجہ ہو یا موصل ہر جگہ صرف اور صرف قتل وغارت نظر آتی ہے۔ لبنان کے بیروت سے لیکر ایران کے سرحدی علاقے اردبیل تک کا یہ خطہ آج ایک بہت بڑی جنگ کی آگ میں جھونکا جا چکا ہے جس کا اشارہ رسول اکرم ﷺنے فرمایا تھا۔ قاسم سلیمانی کی امریکیوں کے ہاتھوں شہادت بہت بڑا واقعہ ہے۔ میں نے شہید اس لیے لکھا کہ میں ہر اس فرد کو شہید تصور کرتا ہوں جو اس وقت کفر کی سب سے بڑی قوت امریکہ کے ہاتھوں مارا جائے۔ خواہ وہ اسامہ بن لادن ہو، مصعب زرقاوی یا قاسم سلیمانی۔ یہ واقعہ اس پورے خطے کو اس جنگ طرف لے جا چکا ہے جس کا اشارہ رسول اکرم ﷺنے فرمایا تھا۔ حضرت کعب ؓسے روایت ہے کہ آپ ؐنے فرمایا ”مشرقی سمندر دور ہوجائے گا اور اس میں کوئی کشتی بھی نہ چل سکے گی۔ چنانچہ ایک بستی والے دوسری بستی میں نہ جا پائیں گے” (ابن ماجہ)۔ یہ اشارہ آبنائے ہرمز کی طرف ہے جو تقریبا 21 میل چوڑا ہے لیکن اس میں سے صرف دو میل چوڑائی ایسی ہے جہاں سے جہاز گزر سکتے ہیں۔ اگر ایران ان دو میلوں کو اپنے میزائلوں کے نشانے پر رکھتا ہے تو کیا ہوگا۔ عرب سے جانے والا تیل رُک جائے گا۔ لیکن امریکہ نے یہ چال سوچ سمجھ کر چلی ہے۔ امریکہ اور یورپ اب یہاں سے تیل نہیں خرید رہے ہیں۔ امریکہ تو ایک قطرہ بھی یہاں سے نہیں لیتا۔ یورپ کا تیل روس اور ناروے سے آتا ہے۔ اس بندرگاہ کو بند کرنے سے چین اور جاپان کا تیل رک جائے گا۔ چین اور جاپان ایک دوسرا راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں جو یمن کی بندرگاہ عدن کے ساتھ بحیرہ احمرمیں ہے اور جاپان نے اپنی فوج وہاں اتار دی ہے۔لیکن وہاں بھی حوثی باغیوں کی وجہ سے خطرناک صورتحال ہے۔ ایران اس کے جواب میں لبنان، شام، یمن، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور عراق میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایسا کرنے سے امریکہ کا کچھ نقصان نہ ہوگا لیکن ان تمام ملکوں اور ایران کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ یہ جنگ مسلمانوں کے گروہوں کے درمیان ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم ﷺنے خاص طور پر فرات کے کنارے سونے کے پہاڑ پر جنگ کے سلسلے میں امت کو خبردار کیا تھا اور آپ ؐ نے فرمایا ” جلد ہی وہ وقت آئے گا جب دریائے فرات میں سونے کا پہاڑ نمودار ہوگا پس جو شخص اس وقت موجود ہو اس خزانے میں سے کچھ نہ لے (صحیح مسلم)۔ لیکن شاید ہم مسلمانوں میں سے دونوں گروہ باز نہ آئیں۔ اسی لیے آپ ؐ نے فرمایا ”سب سے پہلے فارس والے ہلاک ہوں گے اور پھر ان کے پیچھے عرب والے” (کتاب الفتن نعیم بن حماد)۔ اس آگ سے دور رہو، اس جنگ سے علیحدہ ہو جاؤ کہ یہ صرف مسلمانوں کا ہی آپس میں خون بہائے گی۔ (ختم شد)
بشکریہ۔۔۔ روز نامہ92نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں