عمران خان کا خطاب اور اسلام فوبیا

تحریر: افتخار بھٹہ
عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پر اعتماد خطاب کر رہے کہ پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دل جیت لئے۔تقریر پاکستان اور کشمیر میں غور سے سنی گئی، جن طاقتوں کو خطاب کیا جا رہا تھا انہوں نے بھی تقریر کے مدرجات کو نوٹ کیا۔ کیا اس تقریر کو امریکہ اور بین الاقوامی میڈیا نے کہیں نمایاں جگہ دی ہوگی؟۔ یہ غیر جانبدار مبصر ہی بتا سکتے ہیں کیا اس تقریر سے اسلام فوبیا میں کچھ کمی آئی ہو گی اسلام فوبیا کی اصطلا ح کے موجد مہذب دنیا کے دانشور، یونیورسٹیوں کے پروفیسر اور تھینک ٹینک شدید مذہبی اضطراب سے دو چار ہیں۔ امریکہ کی اوپن سو سائٹی نے نشاط ثانیا، تحریک احیائے علوم اور ماڈرن اور پوسٹم ماڈرن ازم جدید تحقیق اور ایجادات سے مستفید ہونے کے باوجود یورپ اور امریکہ دونوں ہی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں منفی احساسات میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایسے مذہبی عطیاتی ادارے، ٹرسٹ اور این جی اوز جو مسلم دشمن محسوسات کو پروان چڑھاتے ہیں۔ نفرتیں پھیلاتے ہیں، معاشرے میں بد امنی پیدا کرتے ہیں محسوس مذہبی مسالک کے لوگوں کو جہادی تناظر میں ابھار کر اپنے ہی بھائیوں کے خلاف دہشت گردی اور خود کش دھماکے کرنے کیلئے تیار کرتے ہیں افغانستان، شام، عراق، لیبیا اور یمن کو برباد کرنے کے بعد دنیا میں امن اور سلامتی کے خواہاں ہیں آج پاکستان میں طالبان کی قیادت جس نے پاکستان کی سماجیت امن اور سیاسی کلچر کو تباہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ وہ امن معاہدے کے نام پر پاکستان میں آئی ہوئی ہے اور اس کی پذیرائی پر ہمیں حیرانگی ہوگی ہیں اور یہ بھی خدشہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں مستقبل میں کس حکمت عملی کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔ عمران خان نے ایٹمی جنگ کے بارے میں ذکر کیا ہے اور کہا دنیا بھارت کے ساتھ تعلقات محض ٹریڈ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اخلاقی بنیادوں پر قائم کرے۔ جس میں بھارت کا ریکارڈ خراب ہے جس وقت وہ یہ بات کر رہے تھے۔ اسی دن اس فورم پر پاکستان نے یمن کے مسئلہ پر سعودی عرب کے حق میں ووٹ ڈالا کیا یمن اخلاقی مسئلہ نہیں ہے کیا اس معاملے میں سعودی عرب کا ریکارڈ بہتر ہے، اسی طرح خان صاحب نے فرمایا کشمیریوں کو بھارت نے محبوص بنایا ہوا ہے، میں عمران خاں کی اس بات کی حمایت کرتا ہوں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی دنیا میں ایران، ترکی، ملائشیا کے علاوہ کوئی ملک کھل کر ہمارے حق میں کشمیر کے حوالے سے حمایت نہیں کر رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ ہم چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے ماہر ہیں، جب خان صاحب اور ٹرمپ کی ملاقات ہوئی تھی تو روایتی اورسوشل میڈیا پر ایسا ہی ماحول تھا جیسا اب ہے خان صاحب نے اپنا لوہا منوا لیا ہے خان صاحب چھا گئے ہیں خاں صاحب واہ۔ خان صاحب کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کریں گے وغیرہ غیرہ افغان اور ایران کے مسئلے پر ثالثی کے کا کردار دینا چاہتا ہوں مگر جو نتیجہ چند روز کے بعد آیا جس میں کشمیر کے مسئلے پر امریکہ سے کوئی سفارتی مدد نہ آئی اور نہ ہی فنڈ جن کا وعدہ کیا گیا تھا دیا گیا خان صاحب کے اس تقریر سے کیا نتائج برآمد ہونگے اب چند دنوں میں دیکھ لیں گے۔
اس سے قبل بھی اقوام متحدہ میں کئی لیڈروں نے تحریک ساز تقریر کی پاکستانی سیاستدانوں میں سب سے مشہور تقریر ذوالفقار علی بھٹو کی تھی جس میں جذبات لفاظی اور بھاشن بھی تھا دھمکی بھی تھی، ڈاکو منٹ پھاڑے گئے بھٹو صاحب اجلاس چھوڑ کر چلے گئے مگر نتیجہ کیا نکلا 0/100اسی فورم سے ضیاء الحق نے تقریر کی جسے پاکستانی میڈیا نے تاریخ ساز قرار دے دیا اور کہا گیا کہ جنرل صاحب نے عالم اسلام کی ترجمانی کی اور اقوام متحدہ اور مغرب کو آئینہ دکھا دیا ہے، بے نظیر بھٹو میں دانش بھی تھی، لیاقت بھی، اعلیٰ درجہ کی مدبرانہ الفاظی بھی 1996میں اقوام متحدہ میں کشمیر کے موضوع پر انتہائی خوبصورت تقریر کی مگر کوئی نتیجہ سامنے نہ آیا اگر پاکستان کے باہر تیسری دنیا کی تقریریں پر نظر ڈالیں جن میں احمدی نصاد، رابڑ موگابے، کرنل قذافی، صدر صدام حسین، ہیو گو شاویز اور فیڈرل کاسطرو شامل ہیں ان کی کیا افادیت رہی
ملائشیا کے مہاتیر محمد اور ترکی صدر طیب اردوان جدید عالمی اسلام کے درخشندہ ستارے ہیں دونوں نے اپنے ممالک کی معاشی اور معاشرتی حالت بہتر کی ہے عمران خان نے ان سے ملاقات میں مشترکہ طور پر ٹیلی ویژن نیٹ ورک شروع کرنے کے بارے میں بات کی جس سے اسلام فوبیا بارے میں مغرب کے تحفظات کو دور کرنے کیلئے متبادل بیانیہ تیار کیا جا سکے، یہ ذمہ داری تو او آئی سی کی تھی اس کے چارٹر میں یہ اقدام شامل تھا، ایک اسلامی یونیورسٹی بھی قائم کی گئی تھی اس کے بعد مشترکہ ریڈیو اور ٹی وی کی طرف جانا تھا مگر عرب دنیا اس سے علیحدہ ہو گئی جس نے اسلام سے سب سے زیادہ سیاسی اور مالی مفادات حاصل کیے تھے 9/11کے بعد اسلام فوبیا زیادہ تیز ہوا جس میں عرب ممالک کے نوجوان پیش پیش تھے ان میں کوئی ترک، کوئی افغان، کوئی ملائشیائی یا پاکستانی شامل نہیں تھا لیکن اس کا سب سے زیادہ خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑا آج مغربی میڈیا کا جواب دینے کیلئے ہمارے پاس کوئی بنیادی ذریعہ اور تھینک ٹینک موجود نہیں ہے جو نظریاتی اور مسلکی تحفظ سے بالا تر ہو کر اپنی غیر جانبدارانہ رائے سے اسلام کے سافٹ آوٹ لک کو اجاگر کر سکے، آج اٹھارہ سال کے بعد اس ٹیلی ویژن کی ضرور محسوس ہو رہی ہے سوال یہ ہے کیا اسلام فوبیا کا مقابلہ صرف ٹیلی ویژن سے کیا جا سکتا ہے ہمارے ان تینوں ممالک کی وزارتوں میں موجود افراد اپوزیشن کا موخر جواب نہیں دے سکتی ہیں۔ پاکستان میں ٹیلی ویژن پر جس معیار کے پروگرام پیش کیے جاتے ہیں جن کو دیکھ کر قاری کو ندامت ہونے لگتی ہے ایسے میں ایک متحرک چینل کا انعقاد خاصا کٹھن دیکھائی دیتا ہے یاد رہے ایسے بین الاقوامی چینلز کیلئے خبریں، رپورٹیں، تجزیے اور پیکج تیار کرنے کیلئے تجربہ کار جہاں دیدہ رپورٹر کی ضرورت ہے جن کا امریکہ اور یورپ کے سماجی تاریخی اور بدلتے ہوئے تناظر میں گہرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت ہو اور وہ سنجیدہ تحقیقات کر سکیں پاکستان ملائشیا اور ترکی کی یونیورسٹیوں کے سکالر کے درمیان مطالیاتی رابطے کی ضرورت ہوگی، مسلمان ممالک کے علاوہ یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں جید اسلامی سکالر موجود ہیں اسلام فوبیا پر یورپ اور امریکہ میں تحقیق ہو رہی ہے زیادہ تر اسے ذہنی مرض قرار دے رہے ہیں اس کا باقاعدہ نفسیاتی علاج تجویز کیا جا رہا ہے۔
تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو غیر مسلموں میں اسلام کا خوف اس کی آمد کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا لیکن اسلامی تعلیمات اور اس پر عملدرآمد نے خوف کو دور کیا لوگ اسلام کے دامن میں پناہ لیتے رہے جب مسلمانوں نے قبائلی شعائر اسلامی شعائر دینا شروع کیا اور دہشت گردی پر اتر آئے تو اسلامی فوبیا کی متعدی بیماری شروع ہو گئی، ایک طرف مغربی پروپگینڈہ نے اپنا خوب کام دکھایا اس وقت اس امر کی ضرورت ہے کہ عرب باد شاہتوں میں نوجوان نسل کے درمیان مایوسی اور اضطراب کو دور کیا جائے کشمیری اور فلسطینی نوجوان اپنی شناخت برقرار رکھنے کیلئے جدو جہد کر رہے ہیں۔ اسلامی ممالک اس ضمن میں کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھا رہے بھارت کے اسلام فوبیا کے حوالے سے نفرت انگیز پروپگینڈہ کا جواب دینا ہے عمران خان نے کشمیر پر جو کچھ کہہ دیا کوئی اعقاب تصور نہیں کر سکتا ہے، انہوں نے انسانی حقوق کی خوف ناک خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے ہندو توا کی انتہا پسندی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جس سے بظاہر سیکو لرازم کا نقاب اوڑھ رکھا ہے عمران خان نے کسی گھس بیٹھے کی سرحد پر در اندازی کو کشمیریوں اور پاکستان سے دشمنی کے مترادف قرار دے کر دوہرے معیار والے بیانیے سے اپنے دامن کو بچا لیا ہے جس پر کسی کو اعتماد نہیں تھا عمران خان نے کشمیریوں کی ممکنہ مزاحمت، بھارتی افواج کے ہاتھوں آئندہ کشمیریوں کا قتل عام، پلوامہ طرز کے اشتعال ڈرامے ممکنہ جنگ اور نیو کلیئر تباہی کے خدشات کا اظہار کیا اور عالمی برادری کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف مبذول کروائی ہے ویسے بات چیت کے لئے عمران خان نے شرائط تو عملیت پسندانہ رکھی ہیں کہ کرفیو اور بندشوں کو اٹھایا جائے اور گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے تو پھر بات ہوگی اسی بات کو امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے بھی دوہرایا ہے ہماری دعا ہے بر صغیر میں امن رہے اور کشمیریوں کو سکھ کا سانس لینا نصیب ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں