شہباز شریف کی واپسی بڑے میاں کی جیت۔۔۔۔۔!

تحریر۔۔۔ احمد کمال نظامی

عید الفطر کے بعد جو طوفان برپا ہونے والا ہے اور اپوزیشن جماعت مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں مہنگائی اور معاشی ابتری کے خلاف میدان احتجاج میں داخل ہونے کیلئے پر تول رہی ہے‘ سوال پیدا ہو تا ہے کہ عوام اپوزیشن کی قیادت کو قبول کرینگے؟ بڑے بڑے دانش وروں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں‘تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بڑے بول آج اس کے سامنے ایک آسیب بنے ہوئے ہیں اور اپنی ہی بوئی ہوئی فصل کاٹتے ہوئے اس کے ہاتھ زخم زخم دکھائی دیتے ہیں‘عمران خان نے ایوان اقتدار میں داخل ہونے سے قبل جو بلند بانگ دعوے کئے تھے دانش ور انہیں بڑا بول قرار دیتے ہیں جن کے سزا وار بائیس کروڑ عوام پائے ہیں‘جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے مہنگائی کب نہّں تھی یوں تو مہنگائی کا سلسلہ ایک طویل عرصہ سے جاری ہے مسلمان قوم کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ تلواروں کے سلسلہ میں مل کر جواں ہوئے ہیں‘ جبکہ پاکستانی قوم مہنگائی میں پل کر جواں ہی نہیں ہوئے بلکہ سانس اور مہنگائی میں ایسا مضبوط رشتہ ہے جو اٹوٹ انگ ہے‘ عید آئی اور گزر گئی لیکن عید عمران میں عید کے حوالہ سے ایک عالمی ریکارڈ بھی قائم کر گئی اور ہمارا دعوی ہے کہ اس ریکارڈ کو یوم حشر تک کوئی نہیں توڑ سکے تھا کیونکہ تاریخ اسلام میں پہلی بار 28روزوں کا رمضان آیا ہے گویا رمضان نہ ہوا عیدی کیلنڈر کا ضروری ہو گیا اس کا کفارہ کون ادا کرے گا‘حکمرا ن یا جبہ و دستار کے تاجران‘ویسے تو ان جبہ و دستار کے تاجروں کی مہربانیوں سے قوم کو فرقہ پرستی کا وہ تحفہ ملا ہے جس کی دین اسلام میں کوئی گنجائش ہے‘ خیر یہ قصہ تو ماضی کے اور ان کی زینت بن چکا ہے بات کرتے ہیں اس ہنگامہ کی جو عید کے بعد مولانا فضل الرحمن کی اے پی سی کے فیصلہ کے شروع ہونے والا ہے حالانکہ اے پی سی سے قبل ہی فیلہ ہو چکا ہے کہ اپوزیشن کی جماعتیں مہنگائی اور معاشی ابتری کو جواز بنا کر عمران خان حکومت کے خلاف عوامی تحریک چلائے گی‘شائد ہماری اس رائے سے آپ اتفاق نہ کریں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس وقت بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ہی حکمرانی کے تخت کے مزے لوت رہی ہے اور اپنی جماعتوں کے اقتدار پرستوں نے تحریک انصاف کا چنہ پہن رکھا ہے‘ جس طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) تین تین بار بر سر اقتدار رہنے کے باوجود وہ ڈبلیو نہ کر سکیں عمران خان ڈبلیو کرنے میں ناکام رکھائی دیتے ہیں جبکہ میاں محمد نواز شریف نے جیل میں ہو تے ہوئے حکومت کے خلاف نہ صرف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے بلکہ اس کی قیادت بھی کرینگے‘سوال پیدا ہو تا ہے کہ ماضی میں ایوب خاں کے عہدسے لیکر ذوالفقار بھٹو کے دور تک جو تحریکیں چلیں اپوزیشن جماعتیں اپنی تحریک کو ویسا رنگ دے سکے گی‘ جبکہ عوام کی اکثریت معاشی بد حالی اور مہنگائی کے ہاتھوں جن مسائل اور مصائب کی چکی میں پس رہی ہے اور ماضی کے مقابلہ میں بلا امتیاز سابق حکمرانوں کا کرپشن کے حوالہ سے جو چہر عوام کے سامنے آ چکا ہے وہ عوام کے اعتماد کی بدولت سے محروم ہو چکے ہیں اور عوام ان کے دعویٰ تو عوام کے حقوق کی جنگ کی بجائے ذاتی مفادات کی جنگ قرار دیتے ہیں اور اپوزیشن کے تمام تر دعووں کے باوجود لا تعلقی کا اظہار جا رہے ہیں‘ کرپشن کا وہ کون سا الزام ہے جو سیاست دانوں کے دامن پر نظر نہیں آ تا‘ بقول انساجی جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا‘یہی وجہ ہے کہ بعض دانشور انقلاب فرانس کی بات کرے‘ میاں محمد نواز شریف نہ صرف جیل میں بلہ نا اہل بھی ہیں آصف علی زرداری بھی سرکاری مہمان کا اعزاز حاصل کرتے نظر آ تے ہیں‘حکمران عمران خان کے خلاف عوامی تحریک اپنی جگہ رہی لیکن ایک بات یقینی سی دکھائی دیتی ہیں کہ افواج پاکستان نے تین افراد کو سزائیں سنا کر سول اداروں کو جو پیغا دیا ہے اس کے نتیجہ میں نیب بھی اپنا وجود ثابت کرنے کی کوشش ہی نہیں اس کا عملی ثبوت بھی فراہم کرے گا اور نیب کے دائر کردہ ریفرنس کے نتیجہ میں چند افراد بھی سزا کے حق دار قرار پائے تو بازی ہی پلٹ جائے گی اور عوامی ذہن بھی باوجود آسمان سے با تیں کر تی ہوئی مہنگائی اور جس سنگین ترین معاشی بحران سے حکومت اور عوام دوچار ہیں اس کے باوجود حقیقت کی تہہ عوام جاننے کی ضرور کوشش کریں گے یہ عوامی سوچ اور فکر سیاست دانوں کے فادات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہو گی میاں شہباز شریف جنہوں جو خود ساختہ جلا وطنی کو ترک کرنے کے باوجود واپس بھی آ تے ہیں چونکہ وہ اپنی انگیز کھیل چکے ہیں لہذا اگر واپس بھی آ تے ہیں تو لہذا ان واپسی صف برابر صف ہو گی اور میاں محمد نواز شریف کی موجودگی میں جس طرح بوڑھ کے درخت کے کوئی پورا اور درخت پروان نہیں چڑھ سکتا ایسے ہی میاں محمد شہباز شریف ہیں‘ ویسے مریم نواز‘بلاول بھٹو اور حمزہ ان کے درمیان مقبولیت کی دوڑ تو لگے گی لیکن ان کا مستقبل کوئی زیادہ روشن نہیں ہے جبکہ اگر کوئی عوامی لیگ چلتی ہے تو مریم نواز اور بلاول بھٹو بڑا ہی عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کیلئے جارحانہ رویہ اپنائیں گے اور ہو سکتا ہے امین داوڑ اور وزیر علی جیسے افراد کے وکیل بن کر سامنے آئیں اور ان کی یہ سوچ ان کی سیاسی موت بھی ہو سکتی ہے‘ حیرت ان غنچوں پہ ہے جو جن کیلئے مرجھا گئے والی صورت حال سے دو چار نہ ہوں اور آخری میں ایک بات کہنی چاہتا ہوں کہ اپوزیشن کی بھر پور کوشش ہو گی کہ عمران خان کی حکومت کا بستر گول کر دیں لیکن ہوا الٹے رخ بھی چل سکتی ہے‘لہذا جب اپوزیشن میدان احتجاج میں اترتی ہے تو کس رنگ اور کس نعرہ کی بنیاد پر اترتی ہے اور پبلک ساتھ دیتی ہے یا محض تماشائی جس کا زیادہ امکان ہے‘ این آر او کا بڑا شور ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ این آر او کون سے رنگ میں سامنے آ تا ہے جیسا کہ سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی سر گرمیاں اس امر کی غمازی کر تی ہیں کہ رانا ثناء اللہ نہیں بو لتا بلکہ این آر او بولتا ہے بالکل اسی طرح میں نہیں بولتی میرے اندر رانجھا بولتا ہے‘ عوام کو ہم دعوت دیتے ہیں کہ عوام آخر کب کھوٹے سکوں کو اپنے اوپر مسلط رکھیں گے اب اس پہلو پر غور کرنے کا وقت آ گیا ہے جبکہ قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف کی ڈرامائی آمد نے حکمران تحریک انصاف کے تمام بلند بانگ دعووں کو نقش آب بنا دیا ہے ایک محاورہ ہے الٹی ہوگئیں سب تعبیریں کچھ نہ دعا نے کام کیا‘میاں شہباز شریف نہ صرف واپس آئے ہیں اور ان کی واپسی سے حکمران تحریک انصاف متاثر ہو نہ ہو لیکن مولانا فضل الرحمن کے تمام خواب چکنا چور ہو گئے ہیں وہ خود کو مرحوم نواب زادہ نصراللہ خاں کا متبادل قرار دے رہے تھے لیکن میاں نواز سریف کی ہدایت پر نہ چاہتے ہوئے وطن واپسی کا فیصلہ کیا کیونکہ جیل میں ہو تے ہوئے عدلیہ بچاؤ اور مہنگائی کے خلاف حکومت مخالف تحریک چلانے کا فیصلہ مولانا فضل الرحمن کے اے پی سی اجلاس سے قبل کر کے مولانا فضل الرحمن کو ایسا دھوبی پٹکا مارا ہے جیسے پنجاب کے عوام کی تائید بھی حاصل ہے‘ میاں شہباز شریف نہ صرف واپس آ ئے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی واپسی سے قبل بطور صدر مسلم لیگ (ن) پارلیمانی ایڈوائزی گروپ کا اجلاس بھی بلا لیا‘ کوئی مانے یا نہ مانے میاں شہباز شریف کی واپسی نہیں ہوئی بلکہ میاں نواز شریف کی جیت ہوئی ہے اور مسلم لیگ (ن) کے ورکروں کو خون تازہ کے مترادف ہے لہذا پجاب میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے مابین خوب معرکہ آرائی ہو گی اور ایک بات اور بھی کہتا چلوں کہ میاں شہباز شریف کی صدارت میں جو مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی ایڈوائزی اجلاس ہو گا‘اس کے فیصلہ کی روشنی میں حکومت مخالف تحریک چلانے کا فیصلہ ہو گا جس کا عندیہ میاں نواز شریف دے چکے ہیں لہذا تحریک تو چلے گی اس کا بیانیہ ووٹ اور عدلیہ کو عزت دو ہو گا یہ بیانیہ عوامی نعرہ قرار پا تا ہے اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں