ریکوڈک سے حاصل ہونے والی معاشی خوشحالی متروک ہوئی


تحریر: افتخار بھٹہ
بات یہاں سے بھی شروع کی جا سکتی ہے کہ ہم شور بہت مچاتے ہیں۔ تجزیوں میں دور کی کوڑیاں ڈھونڈ لاتے ہیں ہر بات پر عالمانہ اور دانشورانہ گفتگو کرنا اپنا استحقاق جانتے ہیں حالانکہ علم سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت، عمرانیات، سماجیت اور عالمی قوانین کے بارے میں کبھی کچھ پڑا نہیں یا جاننے کی کوشش بھی نہیں کی ہے ہر طرف شور مچا ہوا ہے ہر سوچنے سمجھنے والا شخص حالت اضطراب میں غریب اپنی روٹی، تعلیمی اور صحت کے آخراجات کو پورے کرنے کیلئے پریشان ہے اگر کوئی مطمئن ہیں تو ٹی وی کے ٹالکس میں شریک تجزیہ نگار اور اخباروں کے کالموں میں علمیت بگاڑنے والے ہمارے دوست ہیں اپنے سیاسی تعلقات دیکھانے کیلئے حد سے بڑھ جاتے ہیں کہ ان کی غیر جانبداری متنازعہ بن جاتی ہے ہم جبکہ ایک ایک ڈالر کی خاطر دنیا میں پھر رہے ہیں تو ہماری ماں یعنی پاکستان تقریباً چھ ارب ڈالر کا جرمانہ ہو چکا ہے ہم پہلے سے ہی قرضوں اور ان پر سود اتارنے کیلئے مزید قرضے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر اب چھ ارب ڈالر جرمانے کی افتاد سر پر آن پڑی ہے ریکوڈک کا غلغلہ آٹھ سال قبل اٹھا تھا ہمیں بتایا گیا کہ ریکوڈک کے مقام پر تانبے اور سونے کے ذخائر کی قیمت دو کھرب ڈالر سے کم نہیں ہے اس سے پاکستان کا مستقبل سنور جائے گا ایسا افسانہ ہمیں ماضی قریب میں شہباز شریف نے بھی چنیوٹ میں ملنے والے قیمتی دھاتوں کے ذخائر کے بارے میں بتایا گیا تھا جس کے بارے میں اب کچھ سننے کو نہیں ملتا ہے اس کہانی کے پیچھے بھی پاکستانی سائنس دان ثمر مند تھے۔انہیں یقین تھا کہ ریکوڈک سے ملنے والے ذخائر پاکستان کا مستقبل سنوار دے گی مگر غیر ملکی سامراجی کمپنیاں ہمارے ان ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں ہم ان کا ٹھیکہ کسی مغربی ملٹی نیشنل کمپنی کو نہیں دینگے ہم خود سونا نکالیں گے ثمر مبارک مند نے یہ کام خود کرنے کی ٹھان لی اور عدالت عالیہ نے سو موٹو نوٹس لے کر عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کارروائی شروع کر دی اب اس وقت کے اخبارات، ٹی وی ٹالکس اور کسی سائنس دان کی باتیں سنیں تو ہمیں بتایا جاتا تھا کہ غیر ملکی کمپنی کے ساتھ مل کر جعلی معاہدہ کیا گیا ہے جس سے ہمیں معدنی دولت سے محروم کیا جا رہا ہے۔
ہم بچپن سے ہیرے، موتیوں، جوہرات، سونے اور چاندی کے غاروں میں ملنے والے ڈھیروں سے ملنے والی دولت کی کہانیاں سنتے رہے ہیں ماضی میں شمال سے آنے والے حملہ آروں نے ہندوستان سے آکر بعض مذہبی مقامات کو صرف دولت حاصل کرنے کیلئے لوٹا یہی کلچر آج بھی ان علاقوں میں موجود ہے جس نے ہماری ثقافت، سماجیت اور مذہبی کلچر پر کافی اثر ڈالا ہے میں یہ بات کسی اور کالم کیلئے اٹھا رکھنی چاہتا ہوں ہمیں پاکستان کے قدرتی وسائل کی موجودگی میں یہ باوور کروایا جاتا رہا کہ اگر معدنیات کے ذخائر کی نشاندہی کر دی جائے تو صرف انہیں کھودا اور نکالا جاتا ہے۔غیر ملکی کمپنیاں اگر سونا چاندی اور دیگر قیمتی دھاتیں نکال لیتی ہیں تو اس کی مالیت نہیں بتاتیں اور وہ محض چند ٹکوں کی ادائیگی کے عوضیہ دولت اپنے ہیڈ آفس میں لے جاتی ہیں ان خطرات کو بھانپتے ہوئے ہماری قیادت اور عدالتوں نے کمپنیوں کو کام کرنے سے روک دیا ہے۔1991میں BHPکمپنی کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا کہ چاغی کے علاقے میں جو معدنیات دریافت ہونگی تو اس کا پچیس فیصد بلوچستان کی حکومت اور 75%کمپنی کا حصہ ہوگا جب کہ ان کو نکالنے کیلئے کمپنی سرمایہ کاری کرے گی اس لحاظ سے یہ بہترین معاہدہ تھا دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک جہاں پرقدرتی وسائل کے ذخائر موجود ہیں وہاں سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے انہیں نہیں نکالا جا سکتا یہ ایک پاکستان کے ساتھ بہترین معاہدہ تھا کیونکہ دنیا میں کہیں بھی معدنیات میں ریاست کو حصہ نہیں ملتا جبکہ ٹیکسوں اور ریلیٹی کی صورت میں ادائیگی ہوتی ہے۔ بعد میں اس معاہدے میں تبدیلی کر کے بلوچستان ترقیاتی اتھارٹی کی جگہ حکومت بلوچستان نے لے لی جبکہ BHPکی جگہ TCCنے لے لی مگر شراکت کاری کی شرائط وہی رہیں PCCاسٹریلیا کی کمپنی ہے جس میں دو کمپنیوں کے برابر حصے ہیں ایک کمپنی یو کے میں رجسٹرڈ اور دوسری کا دفتر چلی اور کنیڈا میں رجسٹرڈ ہے دنیا کی سب سے بڑی سونا نکالنے والی فرم ہے معاہدے کے مطابق کام شروع کر دیا۔
2009میں حکومت بلوچستان نے چینی کمپنی کو دعوت دی کہ اپنی تجاویز بنا کر دے ہمارے سائنس دان ثمر مبارک نے خود ہی ایک پی سی ون بنا کر دیا اور کہا کہ کام ہم کریں گے جس کو بلوچستان گولڈن پراجیکٹ کا نام دیا گیا جس کی منظوری کے بعد8ارب مختص کیے گئے 15فروری2011کو TCنے حکومت سے کان کنی شروع کرنے کیلئے لیز کی درخواست کی جس کو مسترد کر دیا گیا اور کہا گیا یہ کمپنی رجسٹرڈ نہیں ہے۔ریکوڈک سے تیرا ملین ہاؤس سونے کے ذخائر ملنے کی امید تھی مگر یہ کسی ایک مقام پر دستیاب نہیں تھے اس کیلئے کمپنی کو انفارسٹرکچر تعمیر کرنا تھا اور اس کو ریت کے نیچے تلاش کرنا تھا اور وہاں سے یہ عمل مسلسل پچاس سال تک جاری رہنا تھا جس کے دوران ہر سال سونا اور تانبا نکالا جانا تھا۔ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ تھا فیزبیلٹی رپورٹ کے مطابق ہر قسم کے منافع،ٹیکس اور رئیلٹی کی مد میں وفاقی اور صوبائی حکومت کو تقسیم کیے جانے والے کیس فلو کا پچاس %ملنا تھا ہمیں اس میں سازش کی بو آئی لہذا حکومت نے معاہدے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا کمپنی نے اسٹریلیا، پاکستان سرمایہ کاری معاہدے کے تحت عالمی بنک کے ثالثی ادارے سے رجوع کیا اس ادارے نے چھ ارب ڈالر کا جرمانہ کر دیا۔
یہ بات عجیب ہے بعض حلقے اس جرمانے کے بارے میں اپنے ذہنی افلاس کے تحت تبصرے کر رہے ہیں ان کانوں سے ہمیں کچھ ملنا تھا اس کمپنی نے دس سال کے کام کے بعد ہمیں بتایا یہاں پر سونے اور تانبے کے ذخائر موجود ہیں جس میں اکتالیس بلین سونے کے ذخائر ہیں اس بات کے بارے میں ہم صدیوں سے سن رہے ہیں جہاں پر قیمتی دھاتیں ہوں اور ان کو نکالا جائے تو لوگ امیر ہو سکتے ہیں انہیں مالی وسائل دستیاب ہونے سے بہتر تعلیم، روز گار، اور صحت کے مواقع مل سکتے ہیں ورنہ جہالت، غربت انہیں بغاوت کرنے پر مجبور کر سکتی ہے بلوچستان میں پہلے ہی محرومیاں موجود ہیں ریکوڈک سے دستیاب قیمتی دھاتوں کے ذریعے اس علاقے میں خوشحالی آنی تھی ابتدائی پرمراحل میں بلوچستان کی حکومت نے لیز دینے سے انکار کر دیا ہماری عدالت عظمیٰ نے 7جنوری2013کو ٹی تھیان کمپنی کے ساتھ معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا مگر یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کے کیا نقصانات ہونگے اور ہمیں معاہدے کی خلاف ورزی پر جرمانہ ادا کرنا ہوگا ہم نے کبھی ریکوڈک کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھا ہے کہ اس سے ہمیں خوشحالی کی نوید مل سکتی ہے ہمیں جرمانہ کر دیا تھا مگر اس کا ذکر کسی چینل میں نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اس پر بحث کی گئی بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی جبکہ ٹی تھیان سے تنازعہ شروع ہوا کمپنی کی دعوت پر بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جان یوسف چلی گے یہاں پر انہوں نے دھاتیں نکالنے کا عملی مظاہرہ دیکھا اسلم رئیسانی نے بھی کمپنی کی درخوست پر توجہ نہ دی آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی سے بات کی گئی مگر معاملات آگے نہ بڑھ سکے جس میں شائد کوئی ٹیکنیکل وجوہات یا معاملات تھے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے بھی معاہدے کو سنجیدگی سے نہ لیا اور نہ ہی عدالت سے باہر معاملات کو طے کرنے کی کوشش کی۔ان ریاستی نا اہلیوں اور دائرہ کار سے تجاوز کرنے کی دوڑ کی وجہ سے ہم قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے میں ناکام رہے جس سے ہماری خوشحالی کی منزل دور ہو چکی ہے قرضوں کے شکنجوں میں ہم جکڑ چکے ہیں ہم بین الاقوامی اداروں کو اپنا ما تحت سمجھتے ہیں کہیں طاقت کے بل بوتے پر زیر بار لانے کی کوشش کرتے ہیں کہیں سوویت یونین کو ٹکڑے کرنے کا سہرا اپنے سر باندھتے ہیں خود مختاری کے زعم میں گرفتار عالمی اداروں کے فیصلے ہمارے خلاف آتے ہیں ٹی تھیان کمپنی کو ہم نے 4.05جرمانہ اور1.87ارب ڈالر سود ادا کرنا ہے۔
موجودہ تناظر میں پارلیمنٹ میں تھیان کمپنی کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے بحث کی جانی چاہیے جس میں سو میں سے 48تھیان کمپنی کے اور 52حصے پاکستان کے تھے بلوچستان کیلئے الگ25%تھے اس کمپنی کے چاغی ائیر پورٹ تعمیر کیا کارکنوں کیلئے کالونیاں تعمیر کرنی تھیں کنسوریشم چھ بلین ڈالر کا انتظام کر لیا گیا تھا پروگرام کے تحت روزانہ1لاکھ دس ہزار ٹن کچ دھات نکلنی تھی جس سے 6سو اسی کلو میٹر پائپ لائن گوادر میں بحری جہازوں پر منتقل کیا جانا تھا اور اس کو پروسیسنگ کیلئے متعلقہ فیکٹریوں میں پہنچایا جانا تھا اس سے ہر سال 2لاکھ ٹن تانبا اور سونا نکالا جانا تھا یہ عمل کئی سال تک جاری رہنے والا تھا مگر ہم اس نعمت کو اپنے آپ سے دور کر دیا ہے اور ریاست کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے آج میڈیا میں فضول بحثیں جاری ہیں بے نامی جائیدادیں اور غیر قانونی اکاؤنٹس سامنے لائے جا رہے ہیں اپوزشن کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے کچھ برآمد نہیں ہو رہا افواہیں زور پکڑ رہی ہیں غربت بے روز گاری اور ذہنی فکری افلاس کا کلچر فروغ پذیر ہے ہمارے مقتدرہ طبقات اور چند اداروں کی من مانی پالیسیوں کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں