ریاستی استحکام کیلئے ٹیکس نیٹ ورک کو وسیع کرنا ضروری ہے!


تحریر: افتخار بھٹہ
پاکستان تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں کیخلاف ہفتہ 13جولائی کو ہونے والی ہڑتال 1977کے بعد پہلی ملک گیر ہڑتال تھی 1977میں پی این اے کی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کیخلاف بعض اداروں کی پوشیدہ حمایت سے ہڑتال کامیاب ہوئی تھی اس تحریک میں ملک کے تجارتی، مذہبی حلقوں کے ساتھ دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا تھا ذوالفقار علی بھٹو کی مقبولیت سے حائف بعض سیکو لر ترقی پسند اور قوم پرست جماعتوں کے راہنماؤں نے بھی سیاسی حسد کی وجہ سے اس تحریک میں بھرپور حصہ لیایہ تمام طبقات جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد بھی شریک اقتدار رہے یہ تاریخی حقیقت ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد سب سے مقبول راہنما ذوالفقار علی بھٹو تھے آج بھی اس کی سیاسی موثر حمایت موجود ہے پی این اے کی تحریک زیادہ تر شہروں کی مڈل کلاس میں مؤثر تھی سیاسی جماعتوں کے کارکن زبردستی دکانیں بند کراتے تھے تاجر اور صنعت کار طبقات نظریاتی بنیادوں پر بھٹو کے مخالف تھے جنرل ضیاء الحق اور مقتدرہ اداروں نے بھٹو کی حکومت کیخلاف تحریک کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا
جنرل ضیاء الحق کے عہد میں غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے تاجروں اور ذات برادری،فرقہ وارانہ اور نسلی حوالوں کو پرموٹ کر کے عصبیتوں کو مضبوط بنایا گیا یوں سیاسی جماعتوں اور قومی یکجہتی کا عمل ٹوٹ پھوٹ سے دو چار ہوا موجودہ ہڑتال کسی سیاسی جماعت کے ایما ء پر نہیں بلکہ تاجروں نے اپنے مفادات کے حصول کیلئے کی تھی۔
حیرت کی بات ہے کہ تاجروں کی ہڑتال عمران خان اور اس کی ٹیم کے ساتھ مشاورتی عمل کے بعد ہوئی، کراچی میں تاجروں نے مذاکرات میں ناکامی کا اعلان کر دیا، کراچی پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی تاجر کی حب ہے جہاں سے سب سے زیادہ ریونیو ں حاصل ہوتا ہے تحریک انصاف شائد اس بات کا ادراک کرنے میں ناکام رہی ہے کہ سخت گیر رویوں سے حکومتیں کامیاب نہیں ہو سکتی ہیں تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ پکڑ دھکڑ اور خوف و ہراس کا تاثر جوڑا ہوا ہے عمران خان کی پالیسیاں درست ہیں یہ نہیں لیکن بے روز گاری، مہنگائی، غربت اور معیشت کی سست رو کارکردگی نے سب کو متاثر کیا ہے عوام میں سوچ پیدا ہو گئی ہے کہ حکومت کا ملک کی اکثریتی غریب آبادی کی مشکلات اور مسائل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے انہیں سوشل میڈیا اور فلاسفر، ذہین، مشیروں اور وزراء کے ذریعے ہر روز نئے سیکنڈلز اور کہانیاں سننے کو ملتی ہیں تو مسلم لیگ ن بھی حسب سازشی کہانیوں اور ویڈیوز کے ذریعے ریاستی اداروں کی سبکی کرنے میں مصروف رہتی ہے کس طرح عجب طرح کی محاذ آرائی کی کیفیات ابھر رہی ہیں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی سیاسی مہم جوئیوں کے حوالے سے بحث ہو رہی ہیں لیکن یہ بات درست ہے پاکستان قرضوں کے شکنجوں میں جکڑا ہوا ہے، عوام بلاواسطہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں جبکہ امیر طبقات بالخصوص تاجر برادری جو کہ ملک کا 80%بزنس ڈیل کرتے ہیں انہوں نے اپنے کاروبار میں کئی گناہ منافوں کے ذریعے اپنی دولت اور جائیدادوں میں اضافہ کر دیا ہے مگر اپنی اصل آمدن کے حجم کے تناسب سے ٹیکس دینے کو تیار نہیں اورنہ ٹیکس نیٹ ورک میں شامل ہونے کو تیار ہیں۔ وہ ہر سال مذہبی فریضوں، شادیوں پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں مذہبی اور سماجی تنظیموں کو چندے دیتے ہیں مگر اپنی اصل آمدنی ڈکلیئر کرنے کو تیار نہیں ہیں، اور نہ ہی اپنی پوشیدہ جائیدادوں پر ویلتھ یا پراپرٹی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
موجودہ حکومت کی تاجروں کو ٹیکس نیٹ ورک میں لانے کی کوششوں کیخلاف تاجر برادری کی طرف سے بھرپور مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے ہماری اپوزیشن جماعتیں جنہیں کل اقتدار میں آنا ہے محض پوائنٹ سکورننگ کیلئے ان کی حمایت کر رہی ہیں حالانکہ وہ جانتی ہیں کہ موصولات کی وصولی میں اضافہ کیے بغیر ریاست کے آخراجات پورے کرنا نا ممکن ہے ٹیکس نیٹ ورک میں مختلف طبقات کو شامل کرنے کا کام 90کی دہائی میں شروع ہوا 1996ء1997تک سنٹرل ایکسائز کا نظام تھا جس میں مینو فیکچرنگ شعبہ پر بہت کم ٹیکس لگایا جاتا تھا پھر نواز شریف کے دور حکومت میں بجٹ میں ساڑھے بارہ %جنرل سیل ٹیکس کا نظام متعارف کرایا گیا، ایسا نظام تقریبا پوری دنیا میں نافذ ہے پہلے سال ٹیکس کی ادائیگی آفشنل تھی پھر اس کو لازمی بنا دیا گیا اس پر شعور مچایا گیا جیسا کہ آج مچا ہوا ہے بعد میں اس کو17%کر دیا گیا اس کو عوام سے تو وصول کر لیا جاتا ہے مگر مربوط نظام نہ ہونے کی وجہ سے قومی خزانے میں بہت کم پہنچ پاتا ہے 2007میں پھر اس حوالے سے احتجاج ہوا جس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ جو شعبے سپیشل Procdureرولز کے تحت ان پٹ ایڈجسٹمنٹ چھوڑ کرcapacidyبیسٹ فکس ٹیکس میں آنا چاہیں شامل ہو جائیں باقی ان پٹ ایڈجسٹمنٹ لے کر 17%پر چلتے رہیں یہ نظام اب بھی لاگو ہے سیدھی بات ہے بالواسطہ ٹیکس تو عوام نے دینے ہیں کاروباری حضرات کا کام صرف اس کی کولیکشن ہے اس نے ٹیکس جمع کر کے حکومت کو جمع کروانا ہے اس میں ہڑتال کی کونسی بات ہے۔
ان ہڑتالوں کے تناظر میں یہ حوف ہے کہ نئے نظام میں آنے کے بعد تاجروں کے لین دین کا ٹرن اوور سامنے آ جائے گا کیونکہ تجارتی یا صنعتی حلقے ہوں انہوں نے دوہرے کھاتے رکھے ہوئے ہیں ایک محکمہ ایکسائز کو دیکھانے کیلئے اور دوسرا اپنی خفیہ آمدنی کو چھپانے کیلئے اگر وہ اپنے کاروباری لین دین کو ظاہ رکریں تو ان کی اصل آمدنی سامنے آ جائے گی جس سے انہیں زیادہ انکم ٹیکس دینا پڑے گا، اب چونکہ معیشت کو عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایات کے تحت دستاویزی بنانے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور دوسرے بڑی کمپنیوں کی طرف سے کمپیوٹرائز ریکارڈ کی وجہ سے شائد سیلز اور فروخت کو چھپانا ممکن نہیں رہے گا۔تاجر طبقات جو آمدنی ظاہر کرتے ہیں ان سے بمشکل کرایہ، ملازموں کی تنخواہیں گھروں کے آخراجات پورے وہ سکتے ہیں اگر انہیں حقیقی زندگی میں حاصل آسازئشوں اور سہولتوں کو دیکھا جائے تو ملک کی بڑی مارکیٹوں دھڑے یا کھوکھے پر کاروبار کرنے والوں کی پوش علاقوں میں کھوٹیاں محالات، لگثری گاڑیاں اور پر طیش سہولتیں حاصل ہیں وہ اپنے فروخت ہونے والے مال پر کئی گناہ منافع کما رہے ہیں، ہول سیل اور ریٹل مارکیٹوں کی قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے، مختلف تاجروں سے ڈیپازٹ کے حوالے سے ملنے کا موقع ملتا رہا ہے ان کا پہلا سوال ہوتا تھا کہ بینک ان کو کتنا ماہانہ منافع دے گا، وہ کہتے تھے کہ وہ ایک سو روپے کے ذریعے مہینے میں تین سے چار مرتبہ مال منگواتے ہیں اور ہر دفعہ انہیں پانچ سے دس فیصد منافع ملتا ہے اس طرح وہ اوسطاً 30روپے کا منافع 100روپے پر کما لیتے ہیں، عمران خان کی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ٹیکس نہ دینے والوں کو کس طرح فائلر بنایا جائے ماضی میں جنرل ضیاء الحق کے بعد نواز شریف نے کاروباری طبقات کی ہمیشہ سر پرستی کی ہے اور انہیں سیاست میں لانے کے مواقع فراہم کیے ہیں آج بھی ملک کے مختلف کامرس صنعتی چیمبرز کے عہدیداروں کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے ان میں سے کئی ایم پی اے اور ایم این اے بھی رہے ہیں اور اس کا سب سے بڑا سیاسی ووٹ بینک ہے لیکن موجودہ ہڑتال کے درمیان جبکہ مسلم لیگ ن نے کارکنوں کی رابطہ مہم شروع کی اس میں بہت کم تاجر نمائندوں نے شرکت کی جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن ان حلقوں میں اپنی حمایت لوز کر رہی ہے کیونکہ تاجروں کے نزدیک سب سے اہم کام اپنے مفادات کا تحفظ ہے عمران خان کے نزدیک سب سے ایجنڈا ان نان فائلز سے ٹیکس کولیکشن ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے آئی ایم ایف ناراض ہو سکتا ہے جس کے نتائج ملک کے مالی استحکام کیلئے مثبت ثابت نہیں ہو سکتے ہیں۔
معیشت کو دستاویزی بنانے کابعد میں دوسرا مرحلہ آئے گا جس میں کنٹرول کرنے کیلئے کمیٹیاں بنیں گی اور لاگت کی بنیاد پر ہر چیز کے ریٹ کا تعین کیا جائے گا۔ اس وقت ہماری منڈیوں میں اندھیر نگری مچی ہوئی ہے ٹیکس میں اضافہ کے نام پر ہر چیز بالخصوص کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے اگر پیٹرول 10روپے بڑھتا ہے تو کرایہ میں ہر سواری پر 10روپے ڈال دیا جاتا ہے آٹے کی قیمت پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا جبکہ روٹی اور دیگر کھانے پینے کی ایشیاکی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے تجارتی اجارہ داریوں اور کاروباری مافیا جلد ختم ہونے والے ہیں مگر اس کیلئے وقت لگے گا ایمنسٹی سکیم کے دوران ملک کے مختلف بینکوں کے ڈیپازٹ میں ایک ہزار ارب روپے اضافہ ہوا ہے۔پچاس ہزار سے زائد خریداری کرنے والے گاہک کا ڈیٹا فراہم کرنے کا قانون پرانا ہے یہ2007سے موجود ہے مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا اس وقت ہر شہر میں درجنوں شاپنگ مال برانڈز دکانیں اور سینکڑوں بزنس مین موجود ہیں جن پر ہزاروں لوگ روزانہ فی کس پچاس ہزار رے زیادہ خریداری کرتے ہیں اسی طرح جیولری، ہوٹلز اور دیگر لگی ہوئی ایٹمز اور فرنیچر کی دکانوں کے آؤٹ لیٹس ہیں جہاں پر آمیر عورتیں لاکھ پچاس ہزار کا سامان پل بھر میں خرید لیتی ہیں، بز نس سیکٹر اس کے علاوہ ہے یہ ایک علیحدہ کہانی ہے حکومت کا اصل مقصد ٹیکس نہ دینے والے طبقات جو کہ بے پناہ منافع کما رہے ہیں انہیں فائلر بنانا ہے اس کے بر عکس معمولی تنخواہ لینے والا ٹیکس ادا کر رہا ہے اگر کچھ طبقات ہڑتالوں کے دباؤ کی وجہ سے ٹیکس نہیں دینا چاہتے تو بیچارے ملازموں کا کیا قصور ہے انہیں ٹیکس معاف کرو حسب سابق ریاستی اثاثوں کو گروی رکھ کر ملک کا نظام چلاتے رہے ہیں معاشی طور پر اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے ہر ایک کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا، دنیا میں کئی ممالک ہم سے زیادہ مقروض ہیں ان کا قرضہ جی ڈی پی سے زیادہ رہا ہے مگر ان ممالک نے اپنے قرضوں کا صحیح طریقے سے استعمال کرتے ہوئے وہاں پر خوشحالی کیلئے مختلف منصوبہ جات بنائے ہیں جس سے مجموعی قومی آمدنی اور پیدا وار میں اضافہ ہو اہے ہم محض قرضوں سے سڑکیں، نالیاں، گلیاں، سوئی گیس اور صاف پانی کی لائنیں بچھانے سے ترقی نہیں کر سکتے ہیں بلکہ اس کیلئے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے جس میں سب سے اہم صنعت کاری کے عمل کو آگے بڑھانا اور ان ٹیکس طبقات سے ٹیکسوں کی یقینی وصولی شامل ہے۔
۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں