روس اور ترکی میں قربت

بشکریہ۔۔۔ روز نامہ دنیا
تحریر۔۔۔نذیر ناجی
قدرتی گیس پائپ لائن کے افتتاح کے موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی آٹھ جنوری کو استنبول میں 2020 ء کی پہلی ملاقات ہوئی۔دونوں رہنما نے شرق ِاوسط میں یعنی بغداد میں ڈرون حملے میں ایران کے اعلیٰ کمانڈر قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد حالیہ پیشرفتوں پر تبادلہ خیال کیا۔ شام کے حالات اور تازہ صورت ِ حال کا جائزہ لیا گیا‘ جس کے تحت شام کی حکومت کی طرف سے ادلب میں ہونے والے شدید حملوں کے دوران ترکی کی سرحد کی طرف ایک نیاپیدا ہونے والاانسانی المیہ اور مہاجرین کی آمد پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔
اردوان اور پیوٹن کے درمیان لیبیا کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بات ہوئی ۔لیبیا میںدونوں ممالک اپنے اپنے حریف کیمپوں کی حمایت کرتے ہیں۔ وزیر اعظم مصطفی فیض السراج کی سربراہی میں طرابلس میں قائم امریکی حمایت یافتہ حکومت کے تحفظ کیلئے ترک فوجیوں کی تعیناتی آہستہ آہستہ شروع ہوگئی ہے۔ دوسری طرف روس‘ جنرل خلیفہ ہفتار کی حمایت کرتا ہے‘ جو لیبیا کے علاقوں کا ایک بڑا حصہ کنٹرول کرتا ہے‘ لیکن وہ طرابلس پر قبضہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔اہم سوال یہ ہے کہ پیوٹن اور اردوان شام کی طرح لیبیا میں مل کر کام کرنے پر راضی ہوئے یا نہیں؟ در حقیقت‘ کئی وجوہ ہیں‘ جو لیبیا میں بھی تعاون کرنے کے اشارے دے رہی ہیں۔
موجودہ حالات کا جائزہ لیں‘ تو تصویر واضح ہوتی دکھائی دے گی۔ایک جامع پریس کانفرنس ‘ جس میں 2019ء میں ترکی کی خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کوسراہا گیا۔ وزیر خارجہ میلوت ایشووالو نے خصوصی عنوان کے تحت روس کے ساتھ تعلقات سے متعلق پیشرفت کا ذکر کیا۔ 2019ء میں روسی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ‘ ترک سٹریم پائپ لائن کی تکمیل اور ترکی کے پہلے جوہری پلانٹ کی تعمیر کیلئے جاری کوششوں پر زور دینا بہت کچھ واضح کر تا ہے۔ ترکی نے 2019ء میں امریکی پابندیوں کے باوجود روس سےS-400 ہوائی دفاعی نظام خریدا اور دفاعی صنعت کے عہدیدار مستقبل کی فراہمی کیلئے بھی بات چیت جاری ہے۔ حالات واقعات نشاندہی کرتے ہیں کہ سٹریٹجک میدان میں دو طرفہ تعلقات کو کس طرح بڑھایا گیا۔ایسا نہیں کہ سب اچھا ہے ‘بعض جگہوں پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بھی ہیں۔ کریمیا‘ جارجیا اور شام کی علاقائی سا لمیت سے متعلق امور پر دونوں ممالک کے مابین اختلافات ڈھکے چھپے نہیں‘ لیکن اس حقیقت سے منہ نہیں موڑا جاسکتا ‘دونوں دارالحکومتوں کے مابین بات چیت میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی ۔
تاہم لیبیا کی بات کریں ‘تو دونوں ملک ایک پیج پر دکھائی دینے لگے ہیں۔اس حوالے سے اہم بیان بھی سامنے آچکا۔ ترکش وزیر خارجہ نے کہا کہ ”ہم لیبیا میں دو طرفہ سطح پر جنگ بندی کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں‘‘۔دوسری اہم وجہ شام کے بارے میں ترکی اور روس کے مابین جاری تعاون سے مشابہ ہے۔ آستانہ عمل کی بدولت‘ ایران‘ ترکی‘ اور روس کی شراکت سے تشدد کو بے قابو کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور شام کیلئے آئین کو دوبارہ لکھنے کیلئے کمیٹی کے قیام کیلئے حالات پیدا کیے جا سکتے ہیں؛ حالانکہ ایک انتہائی مشکل عمل ہے۔شام سے جمع کردہ اسباق اور تجربات یقینا ترکی اور روس کیلئے رہنمائی کریں گے۔ لیبیا تنازع سابقہ حالات و واقعات سے بہت مختلف ہے ۔ اس میں مصر‘ متحدہ عرب امارات اور دیگر متعدد غیر ملکی طاقتوں کی موجودگی شامل ہے‘پھر بھی ترکی اور روس لیبیا میں تعاون کے خواہاں ہیں۔دسمبر کے آغاز سے ہی لیبیا کے معاملات پر گفتگو روسی اورترکش میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہورہی ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ روسی وزیر دفاع سیرگئی شوگو نے شرق ِاوسط اور شمالی افریقا میں بڑھتی کشیدگی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ طریقے تلاش کرنے کی کوشش میں ترکی کے انٹیلی جنس چیف ہاکان فیڈان سے کئی بار ٹیلی فونک گفتگو بھی ہوچکی ہے۔
ترکی اور روس سفارتی طور پرقریب ہونے کی تیسری اہم وجہ‘ دونوں ممالک جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل سے لیبیا کیلئے برلن میں ایک سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی کوششوں پر قریبی رابطے میں ہیں۔ مرکل آج11 جنوری کو ماسکو اور 24 جنوری کو انقرہ میں ہوں گی اور دونوں رہنماؤں کی حمایت حاصل کریں گی‘ جیسا کہ دونوں فریقوں نے بتایا ہے کہ مرکل کے اقدام کااہم پہلو جنگ بندی پر عمل درآمدکرانا اور لیبیا میں سیاسی عمل شروع کرنے کے ان کے بنیادی مقصد سے مماثلت رکھتا ہے۔شرق ِاوسط میں انقرہ اور ماسکو کی طرف سے جاری کردہ امریکی بیانات کے ذریعہ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد کھیل میں بدلاؤ بھی آیا‘ جس میں کشیدگی بڑھنے کی وجہ سے مشترکہ تشویش کی نشاندہی کی گئی‘ کیونکہ ایران اور امریکہ دست و گریباںہیںاورایک دوسرے کو انتقامی کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔
شام اور عراقی سینما گھروں پر پڑنے والے اثرات ترکی اور روس دونوں کیلئے اہم ہیں‘ لہٰذا یہ فطری طور پر ہی ہوگا‘ جب ترکی اور روس ان پیشرفت کی روشنی میں مزید قریب ہوں گے اور مل کرکام کرنے کا فیصلہ کریں گے۔اس کیلئے لیبیا میں بھی ایک دوسرے کے مقام کی بہتر تفہیم درکار ہوگی۔حالات بہتر منظر کشی کر رہے ہیں‘ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے ‘دونوں ممالک ایک دوسرے کی بہت قریب آتے جا رہے ہیں۔
بشکریہ۔۔۔ روز نامہ دنیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں