رمضان المبارک کے فضائل پر آپ ﷺ کی متعدداحادیث مبارکہ‘ ضرور پڑھیں

تحریر۔۔۔ احمد جمال نظامی
ماہ مقدس رمضان المبارک کے فضائل کے حوالے سے نبی کریمﷺ کی متعدد روایات منسوب ہیں۔ رمضان المبارک کے روزے تذکیہ نفس کا بہترین ذریعہ قرار دینے اور آپﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ ہر چیز کی ایک زکواۃ ہوتی ہے اور جسم کی زکواۃ رمضان المبارک کے روزے ہیں۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ رمضان المبارک کے روزے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھنا دل کے کھوٹ اور وساوس کو دور کرتا ہے۔ صحابہ کرامؓ رمضان کے مہینے میں جہاد کے سفر کے باوجود آپﷺ کے بار بار افطار کی اجازت دینے کے باوجود روزے کا اہتمام فرماتے تھے حتیٰ کہ آپﷺ کو حکماً منع فرمانا پڑتا۔ آج امت مسلمہ جن مسائل اور بحرانوں کا شکار ہے اس کی بنیادی اور اہم ترین وجہ دین سے دوری ہے۔ آج کا مسلمان اپنے خالق و مالک اللہ رب العزت کو سنت محمدیﷺ کے طریقوں پر چلتے ہوئے منانے، راضی کرنے اور اس سے تعلق جوڑنے میں سستی، کاہلی اور لاعلمی کا شکار ہے جس کے باعث اس کے مسائل بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اللہ پاک نے قرآن شریف اور آپﷺ نے بار بار اپنی احادیث میں اس دنیا کو سفرگاہ قرار دیتے ہوئے مچھر کے پر سے تشبیح دی ہے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جہاں انسان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یا تو کامیاب ہو کر جنت میں چلا جائے گا جہاں اللہ رب العزت نے اس کی آسائش، آرام اور راحت کے لئے وہ انعامات اور اعزازواکرام رکھے ہیں جس کا نہ کبھی کسی دل و دماغ پر گمان گزرا اور نہ کبھی کسی آنکھ نے اس کا تصور کیا ہے۔ لیکن اگر اس دنیا کو اپنی من چاہی پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کے برخلاف گزار گئے تو پھر خدانخواستہ جہنم کا فیصلہ ہو گا جہاں دہکتی ہوئی آگ ہو گی اور انسان حسرت کرے گا کہ کاش ایک مرتبہ پھر دنیا میں چلا جائے جہاں اللہ کو راضی کر کے جنت میں جانے والا بن جائے۔ گویا رمضان المبارک ہم سے اپنے طرز زندگی اور رہن سہن کو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے تابع کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک تلقید مغرب کی ہے اور ایک مشرق کی۔ ہمارا قبلہ بیت المقدس ہے اور ہماری کامیابی اللہ رب العزت نے آپﷺ کی سنتوں میں رکھی ہے۔ آپﷺ نے بار بار نماز اور قرآن شریف پڑھنے کا حکم دیا مگر ہم میں سے کتنے ہی ایسے لوگ جو ایسے احکامات جو ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی کا حقیقی زینہ ہے اس پر کان دھرنا تک پسند نہیں کرتے۔ عبداللہ بن عمروؓ نے حضوراقدسﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور بہشت کے درجوں پر چڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسا کہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا لیکن تیرا مرتبہ وہی ہے جہاں آخری آیت پر پہنچے۔ حضرت معاذ جہنیؓ نے حضوراکرمﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص قرآن پڑھے اور اس پر عمل کرے اس کے والدین کو قیامت کے دن ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی آفتاب کی روشنی سے بھی زیادہ ہو گی۔ اگر وہ آفتاب تمہارے گلوں میں ہو، پس کیا گمان ہے تمہارا اس شخص کے متعلق جو خود عامل ہو۔ گویا قرآن پاک جو سرورکائنات حضرت محمدﷺ پر اتارا گیا اور جس کی تاقیامت حفاظت کی قسم خود اللہ پاک نے کھائی ہے اس کے کتنے فضائل ہیں لیکن اس کو چھوڑنے کی کچھ وعدیدیں بھی ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے نبی کریمﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جس شخص کے قلب میں قرآن شریف کا کوئی حصہ بھی محفوظ نہیں وہ بمنزلہ ویران گھر کے ہے۔ حضرت عائشہؓ نے حضورﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ نماز میں قرآن شریف کی تلاوت بغیر نماز کے تلاوت سے افضل ہے اور بغیر نماز کی تلاوت تسبیح و تکبیر سے افضل ہے اور تسبیح صدقے سے افضل ہے اور صدقہ روزے سے افضل ہے اور روزہ بچاؤ ہے آگ سے۔ آپﷺ نے بار بار اپنی احادیث میں نماز کو قائم کرنے کا حکم فرماتے ہوئے اس کے فضائل بیان فرمائے۔ رمضان المبارک ہم سے نماز کو پورا سال اور ساری زندگی قائم کرنے کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ نماز کے اتنے فضائل ہیں کہ فرمایا جاتا کہ اگر انسان کو معلوم ہو جائے کہ اس کے سامنے کون سی ہستی کھڑی ہے تو وہ قیامت تک نماز قائم رکھے۔ حضرت ابوذرؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ سردی کے موسم میں باہر تشریف لائے اور پتے درختوں پر سے گر رہے تھے، آپﷺ نے ایک درخت کی ٹہنی ہاتھ میں لی اس کے پتے اور بھی گرنے لگے، آپﷺ نے فرمایا اے ابوذرؓ مسلمان بندہ جب اخلاص سے اللہ کے لئے نماز پڑھتا ہے تو اس سے اس کے گناہ ایسے ہی گرتے ہیں جیسے یہ پتے درخت سے گر رہے ہیں۔ آپﷺ کی حدیث کا مفہوم کہ جو شخص پانچ وقت نماز خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اسے پانچ انعامات سے نوازتے ہیں۔ ایک دنیا میں اس سے رزق کی تنگی دور کر دی جاتی ہے، اس سے قبر کا عذاب ہٹا دیا جاتا ہے، پل صراط سے بجلی کی تیزی سے گزارا جائے گا، نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ حضرت جابرؓ نبی اکرمﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ پانچوں نمازوں کی مثال ایسی ہے،کسی کے دروازے پر ایک نہر جاری ہو جس کا پانی جاری ہو اور بہت گہرا ہو اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے۔ نبی اکرمﷺ کو جب کوئی سخت عمل پیش آتا تو نماز کی طرف فوراً متوجہ ہوتے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جسے تھاموں گے فلاح پاؤ گے۔ تمام صحابہ اکرام کا بھی معمول تھا کہ وہ ہر مشکل اور تقاضے پر نماز پڑھ کر اللہ سے رجوع کیا کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کے جوتوں کا تسمہ تک ٹوٹ جاتا تو اللہ تعالیٰ سے دو رکعت نماز پڑھ کے مانگا کرتے تھے۔ اسی طرح آپﷺ نے ذکر کے بہت سارے فضائل بیان کئے ہیں۔ آپﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ ذکر کرنے والے کی مثال زندہ کی سی ہے اور ذکر نہ کرنے والی کی مثال مردہ کی سی ہے۔ حضوراقدسﷺ کا ارشاد ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ دنیا میں نرم نرم بستروں پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں جس کی وجہ سے حق تعالیٰ شانہ جنت کے اعلیٰ درجوں میں پہنچا دیتا ہے۔ حضوراقدس ﷺ کا ایک اور ارشاد پاک ہے کہ جنت میں جانے کے بعد اہل جنت کو دنیا کی کسی چیز کا بھی قلق و افسوس نہیں ہو گا بجز اس گھڑی کے جو دنیا میں اللہ کے ذکر کے بغیر گزر گئی ہو۔ جنت کا ایک خاص دروازہ ذاکرین کے لئے مختص ہو گا جہاں سے وہ ہنسی خوشی جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ ذاکرین میں شمار ہونے کے لئے علماء کرام روزانہ درودشریف، استغفار اور تیسرے کلمہ کی تین تین تسبیہات بتاتے ہیں۔ دین کااتنا علم حاصل کرنا بھی ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے کہ وہ حال کے امر کو پہچان سکے یعنی کم از کم اسے اتنا علم ہو کہ کیا حلال اور کیا حرام ہے۔ اسی طرح رمضان المبارک ہم سے اکرام مسلم کا تقاضا کرتا ہے۔ آپﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ جو شخص چھوٹوں پر شفقت، بڑوں کی عزت اور علماء کرام کی عزت نہیں کرتا وہ ہم میں نہیں ہے۔ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے یہ ارشاد رب العزت ہے۔ رمضان المبارک ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم جو کام بھی کریں اخلاص سے کریں۔ آپﷺ نے فرمایا یہ اخلاص والے ہدایت کے چراغ ہیں اللہ پاک ان کی بدولت بڑے بڑے فتنوں کو دور کر دیتے ہیں اگر کسی عمل میں ریاکاری اور دکھلاوا آ جائے تو وہ کل قیامت والے دن الٹا پکڑ کا باعث بن جائے گا۔ فوٹوسیشن کے ذریعے صدقہ خیرات کرنے والے ہم سب لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ کیا ہمیں حکم نہیں کہ ایک ہاتھ سے صدقہ کریں تو دوسرے ہاتھ کو علم نہ ہو۔ رمضان المبارک تقاضا کرتا ہے کہ دین کی تمام صفات کلمہ، نماز، علم و ذکر، اکرام مسلم، خلوص نیت اور دعوت و تبلیغ ہم سب میں آ جائے اور قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی زندگیوں میں آ جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم رمضان کی برکتوں، فضیلتوں اور رحمتوں سے آپﷺ کی سنتوں اور احادیث کے مطابق مستفید ہوں وگرنہ یہ رمضان بھی گزشتہ رمضان کی طرح گزر جائے گا اور ہم اصلاح کی بجائے ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، ملاوٹ مافیا، جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح، مہنگائی اور طرح طرح کے مسائل اور بحرانوں کا رونا روتے رہیں گے۔ حکمرانوں کو کوستے رہیں گے حالانکہ اصل مسائل جہاں سے حل ہونے ہوں ہم اس طرف رجوع نہیں کر رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں