رمضان المبارک کی طاق راتوں کی تلاش

تحریر۔۔۔ احمد جمال نظامی
حضرت عبادۃ ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اس لئے باہر تشریف لائے تاکہ ہمیں شب قدر کی اطلاع فرما دیں مگر دو مسلمانوں میں جھگڑا ہو رہا تھا حضرت ؐ نے ارشاد فرمایا کہ میں اسلئے آیا تھا کہ تمہیں شب قدر کی خبر دوں مگر فلاں فلاں شخصوں میں جھگڑا ہو رہا تھا کہ جس کی وجہ سے اس کی تعیین اٹھا لی گئی‘ کیا بعید ہے کہ یہ اٹھا لینا اللہ کے علم میں بہتر ہو لہذا اب اس رات کو نویں اور ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو‘ حدیث کے فضائل میں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا اپنی کتاب فضائل اعمال میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں تین مضمون قابل غور ہیں‘ امر اول جو سب سے اہم ہے وہ جھگڑا ہے جو اس قدر سخت بری چیز ہے کہ اس کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے شب قدر کی تعیین اٹھا لی گئی اور صرف یہی نہیں بلکہ جھگڑا ہمیشہ برکات سے محرومی کا سبب ہو ا کرتا ہے‘ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ تمہیں نماز روزہ صدقہ وغیرہ سب سے افضل چیز بتلاؤں‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا ضرور‘ حضور ؐ نے فرمایا کہ آپس کا سلوک سب سے افضل ہے اور آپس کی لڑائی دین کو مونڈنے والی ہے یعنی جیسے استرے سے سر کے بال ایک دم صاف ہو جاتے ہیں آپس کی لڑائی سے دین بھی اسی طرح صاف ہو جاتا ہے‘ دنیا دار دین سے بے خبر لوگوں کا کیا ذکر جب کہ بہت سی لمبی لمبی تسبیحیں پڑھنے والے دین کے دعویدار بھی ہر وقت آپس کی لڑائی میں مبتلا رہتے ہیں‘ اول حضورؐ کے ارشاد کو غور سے دیکھیں اور پھر اپنے اس دین کی فکر کریں جس کے گھمنڈ میں صلح کے لئے جھکنے کی توفیق نہیں ہو تی‘ فصل اول میں روزہ کے آداب میں گذر چکا ہے‘ کہ نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کی آبرو ریزی کو بد ترین سود اور خبیث ترین سود ارشاد فرمایا ہے لیکن ہم لوگ لڑائی کے زور میں نہ مسلمان کی آبرو کی پرواہ کرتے ہیں‘ نہ اللہ اور اس کے سچے رسول کے ارشادات کا خیال‘خود اللہ جل جلالہ کا ارشاد ہے اور نزاع مت کرو‘ ورنہ کم ہمت ہو جاؤ گے‘ اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی‘ آج وہ لوگ جو ہر وقت دوسروں کا وقار گھٹانے کی فکر میں رہتے ہیں‘ تنہائی میں بیٹھ کر غور کریں کہ خود وہ اپنے وقار کو کتنا صدمہ پہنچا رہے ہیں اور اپنی ان ناپاک اور کمینہ حرکتوں سے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کتنے ذلیل ہو رہے ہیں اور پھر دنیا کی ذلت بد یہی‘ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ چھوٹ چھٹاؤ رکھے اگر اس حالت میں مرگیا تو سید ھا جہنم میں جائے گا‘ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ہر پیر و جمعرات کے دن اللہ کی حضوری میں بندوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں اور اللہ جل شانہ کی رحمت سے (نیک اعمال کی بدولت) مشرکوں کو علاوہ اوروں کی مغفرت ہو تی رہتی ہے مگر جن دو میں جھگڑا ہوتا ہے ان کی مغفرت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ ان کو چھوڑے رکھو جب تک صلح نہ ہو‘ ایک حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ ہر پیر و جمعرات کو اعمال کی پیشی ہو تی ہے‘ اس میں توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول ہو تی ہے اور استغفار کرنے والوں کی استغفار قبول کی جاتی ہے مگر آپس میں لڑنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے‘ ایک جگہ ارشاد ہے کہ شب برات میں اللہ کی رحمت عامہ خلقت کی طرف متوجہ ہو تی ہے (اور ذرا ذرا سے بہانہ سے) مخلوق کی مغفرت فرمائی جاتی ہے مگر دو شخصوں کی مغفرت نہیں ہو تی‘ ایک کا فر دو سرا وہ جو کسی سے کینہ رکھے‘ ایک جگہ ارشاد ہے کہ تین شخص ہیں جن کی نماز قبولیت کے لئے ان کے سر سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی جن میں آپس کے لڑنے والے بھی فرمائے ہیں‘ یہ جگہ ان روایات کے احاطہ کی نہیں مگر چند روایات اس لئے لکھ دی ہیں کہ ہم لوگوں میں‘عوام کا ذکر نہیں خواص میں اور ان لوگوں میں جو شرفا کہلاتے ہیں‘ دیندار سمجھے جاتے ہیں ان کی مجالس‘ ان کے مجامع‘ ان کی تقریبات‘ اس کمینہ حرکت سے لبریز ہیں‘لیکن ان سب کے بعد یہ بھی معلوم ہونا ضروری ہے کہ یہ سب دنیوی دشمنی اور عداوت پر ہے‘ اگر کسی شخص کے فسق کی وجہ سے یا کسی دینی امر کی حمایت کی وجہ سے ترک تعلق کرے تو جائز ہے‘ حضرت ابن عمر ؓ نے ایک مرتبہ حضورؐ کا ارشاد نقل فرمایا تو ان کے بیٹے نے اس پر ایسا لفظ کہہ دیا جو صورتاً حدیث پر اعتراض تھا‘ حضرت ابن عمر ؓ مرنے تک ان سے نہیں بولے اور بھی اس قسم کے واقعات صحابہ کرام ؓ کے ثابت ہیں لیکن اللہ تعالیٰ شانہُ‘ دانا و بینا ہیں‘ قلوب کے حال کو اچھی طرح جاننے والے ہیں‘ اس سے خوب واقف ہیں کہ کون سا ترک تعلق دین کی خاطر ہے اور کون سا اپنی وجاہت اور کسر شان اور بڑائی کی وجہ سے ہے‘ ویسے تو ہر شخص اپنے کینہ اور بغض کو دین کی طرف منسوب کر ہی سکتا ہے‘ دوسرا امر جو حدیث بالا میں معلوم ہوتا ہے وہ حکمت الٰہی کے سامنے رضا اور قبول و تسلیم ہے کہ باوجود اس کے کہ شب قدر کی تعیین کا اُٹھ جانا صورتاً بہت ہی بڑی خیر کا اٹھ جانا تھا لیکن چونکہ اللہ کی طرف سے ہے اس لئے حضورؐ کا ارشاد ہے کہ شاید ہمارے لئے یہی بہتر ہو‘ نہایت عبرت اور غور کا مقام ہے‘ اللہ جل شانہ ُ کی رحیم و کریم ذات بندہ پر ہر وقت مہربان ہے‘ اگر بندہ اپنی بد اعمالی سے کسی مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تب بھی اللہ جل جلالہ‘ کی طرف سے تھوڑی سی توجہ اور اقرار عجز کے بعد اللہ کا کرم شامل حال ہو جاتا ہے اور وہ مصیبت بھی کسی بڑی خیر کا سبب بنا دی جاتی ہے اور اللہ کیلئے کوئی چیز مشکل نہیں‘چنانچہ علماء نے اس کے اخفا میں بھی چند مصالح ارشاد فرمائے ہیں‘ اول یہ کہ اگر تعیین باقی رہتی تو بہت سی کوتاہ طبائع ایسی ہوتیں کہ اور راتوں کا اہتمام بالکل ترک کر دیتیں اور اس صورت موجودہ میں اس احتمال پر کہ آج ہی شاید شب قدر ہو‘ متعددراتوں میں عبادت کی توفیق طلب والوں کو نصیب ہو جاتی ہے‘ دوسری یہ کہ بہت سے لوگ ہیں کہ معاصی کئے بغیر ان سے رہا ہی نہیں جاتا‘ تعیین کی صورت میں اگر باوجود معلوم ہونے کے اس رات میں معصیت کی جرات کی جاتی تو سخت اندیشہ ناک تھا‘ نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ مسجد میں تشریف لائے ایک صحابی ؓ سو رہے تھے‘ آپ ؐ نے حضرت علی ؓ سے ارشاد فرمایا کہ ان کو جگا دو تاکہ وضو کر لیں‘ حضرت علی ؓ نے جگا تو دیا مگر حضورؐ سے پوچھا کہ آپ تو خیر کی طرف بہت تیزی سے چلنے والے ہیں آپ نے خود کیوں نہ جگا دیا‘ حضورؐ نے فرمایا مبادا انکار کر بیٹھتا اور میرے کہنے پر انکار کفر ہو جاتا‘ تیرے کہنے سے انکار پر کفر نہیں ہو گا‘ تو اسی طرح حق سبحانہ و تقدس کی رحمت نے گوارا نہ فرمایا کہ اس عظمت والی رات کے معلوم ہونے کے بعد کوئی گناہ پر جرات کرے‘ تیسری یہ کہ تعیین کی صورت میں اگر کسی شخص سے وہ رات اتفاقاً چھوٹ جاتی تو آئندہ راتوں میں افسردگی وغیرہ کی وجہ سے پھر کسی رات کا بھی جاگنا نصیب نہ ہو تا اور اب رمضان کی ایک دو رات تو کم از کم ہر شخص کو میسر ہو ہی جاتی ہیں‘ چوتھی یہ کہ جتنی راتیں طلب میں خرچ ہو تی ہیں ان سب کا مستقل ثواب علیحدہ ملے گا‘ پانچویں یہ کہ رمضان کی عبادت میں حق تعالیٰ جل شانہ ُ ملائکہ پر تفاخر فرماتے ہیں جیسا کہ پہلی روایات میں معلوم ہو چکا‘ اس صورت میں تفاخر کا زیادہ موقع ہے کہ بندے باوجود معلوم نہ ہونے کے محض احتمال اور خیال پر رات رات بھر جاگتے ہیں اور عبادت میں مشغول رہتے ہیں کہ جب احتمال پر اسقدر کوشش کر رہے ہیں‘ اگر بتلا دیا جاتا کہ یہی رات شب قدر ہے تو پھر ان کی کوششوں کا کیا حال ہو تا‘ ان کے علاوہ اور بھی مصالح ہو سکتی ہیں‘ ایسے ہی امور کی وجہ سے عادۃُ اللہ یہ جاری ہے کہ اس نوع کی اہم چیزوں کو مخفی فرما دیتے ہیں‘ چنانچہ اسم اعظم کو مخفی فرما دیا‘ اسی طرح جمعہ کے دن ایک وقت خاص مقبولیت دعا کا ہے اس کو بھی مخفی فرما دیا‘ ایسے ہی اور بھی بہت سی چیزیں اس میں شامل ہیں‘ یہ بھی ممکن ہے کہ جھگڑے کی وجہ سے اس خاص رمضان المبارک میں تعیین بھلا دی گئی ہو اور اس کے بعد دیگر مصالح مذکورہ کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے تین راتیں ارشاد فرمائی ہیں‘ نویں‘ ساتویں‘ پانچویں‘دوسری روایات کے ملانے سے اتنا تو مُحقق ہے کہ یہ تینوں راتیں اخیر عشرہ کی ہیں لیکن اس کے بعد پھر چند احتمال ہیں کہ اخیر عشرہ میں اگر اول سے شمار کیا جائے تو حدیث کا محل29‘27‘25رات ہوتی ہے اور اگر اخیر سے شمار کیا جائے جیسا کہ بعض الفاظ سے مترشِح ہے تو پھر 29کے چاند کی صورت میں 21‘23‘25اور 30کے چاند کی صورت میں 22‘24‘26ہے‘ اس کے علاوہ بھی تعیین میں روایات بہت مختلف ہیں اور اسی وجہ سے علماء کے درمیان میں اس کے بارے میں بہت کچھ اختلاف ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ پچاس کے قریب علماء کے اقوال ہیں‘روایات کے بکثرت اختلاف کی وجہ مُحققین کے نزدیک یہ ہے کہ یہ رات کسی تاریخ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ مختلف سالوں میں مختلف راتوں میں ہو تی ہے جس کی وجہ سے روایات مختلف ہیں کہ ہر سال نبی کریم ﷺ نے اس سال کے متعلق مختلف راتوں میں تلاش کا حکم فرمایا اور بعض سالوں میں متعین طور سے بھی ارشاد فرمایا‘ چنانچہ ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ آج ہی کی رات میں تلاش کرو‘ حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضورؐ سے عرض کیا کہ شب قدر نبی کے زمانہ کے ساتھ خاص رہتی ہے‘ یا بعد میں بھی ہو تی ہے‘ حضور ؐ نے فرمایا کہ قیامت تک رہے گی‘ میں نے عرض کیا کہ رمضان کے کس حصہ میں ہو تی ہے‘ آپ ؐ نے فرمایا کہ عشرہ اول اور عشرہ آخر میں تلاش کرو‘ پھر حضور ؐ اور باتوں میں مشغول ہو گئے‘ میں نے موقع پا کر عرض کیا‘ اجی یہ تو بتلا ہی دیجئے کہ عشرہ کے کون سے حصہ میں ہو تی ہے‘ حضور ؐ اتنے ناراض ہوئے کہ نہ اس سے قبل مجھ پر اتنے خفا ہوئے تھے نہ بعد میں اور فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ شانہ ُ کا یہ مقصود ہو تا تو بتلا نہ دیتے‘ آخر کی سات رات میں تلاش کرو بس اس کے بعد اور کچھ نہ پوچھو‘ ایک صحابی ؓ کو حضور ؐ نے 23شب متعین طور پر ارشاد فرمائی‘ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں سو رہا تھا مجھے خواب میں کسی نے کہا کہ اُٹھ آج شب قدر ہے میں جلدی سے اُٹھ کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں گیا تو آپ کی نماز کی نیت بندھ رہی تھی اور یہ رات 23شب تھی‘ بعض روایات میں متعین طور سے 24شب کا ہونا بھی معلوم ہوتا ہے‘ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا ارشاد ہے کہ جو شخص تمام سال رات کو جاگے وہ شب قدر کو پا سکتا ہے‘ (یعنی شب قدر تمام سال میں دائر رہتی ہے) کسی نے اُبی بن کعب ؓ سے اس کو نقل کیا تو وہ فرمانے لگے کہ ابن مسعودؓ کی غرض یہ ہے کہ لوگ ایک رات پر قناعت کر کے نہ بیٹھ جائیں پھر قسم کھا کر یہ بتلا یا کہ وہ 27رمضان کو ہو تی ہے‘ اور اسی طرح سے بہت سے صحابہ ؓ اور تابعین کی رائے ہے کہ وہ 27شب میں ہوتی ہے‘ اُبی بن کعب ؓ کی تحقیق یہی ہے ورنہ ابن مسعودؓ کی تحقیق وہی ہے کہ جو شخص تمام سال جاگے وہ اس کو معلوم کر سکتا ہے‘ اور دُر منشور کی ایک روایت سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ سے یہی نقل کرتے ہیں‘ اَئمّہَ میں سے بھی امام ابو حنیفہ ؓ کا مشہور قول یہ ہے کہ یہ تمام سال میں دائر رہتی ہے‘ دوسرا قول امام صاحب ؒ کا یہ ہے کہ تمام رمضان میں دائر رہتی ہے‘ صاحبین ؒ کا قول ہے کہ تمام رمضان کی کسی ایک رات میں ہے جو متعین ہے‘ مگر معلوم نہیں‘ شافعیہ کا راحج قول یہ ہے کہ 21شب میں ہونا اقرب ہے‘ امام مالک ؒ اور امام احمد ابن حنبل ؒ کا قول یہ ہے کہ رمضان کے آخر عشرہ کی طاق راتوں میں دائر رہتی ہے‘ کسی سال کسی رات میں اور کسی سال کسی دوسری رات میں جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ ستائیسویں رات میں زیادہ امید ہے‘ شیخ العارفین محی الدین ابن عربی ؒ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک ان لوگوں کا قول زیادہ صحیح ہے جو کہتے ہیں کہ تمام سال میں دائر رہتی ہے اس لئے کہ میں نے دو مرتبہ اس کو شعبان میں دیکھا ہے ایک مرتبہ15کو اور ایک مرتبہ19کو اور دو مربتہ رمضان کے درمیانی عشرہ میں 13کو اور 18کو اور رمضان کے آخر عشرہ کی ہر طاق رات میں دیکھا ہے اس لئے مجھے اس کا یقین ہے کہ وہ سال کی راتوں میں پھرتی رہتی ہے‘ لیکن رمضان المبارک میں بکثرت پائی جاتی ہے‘ ہمارے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ شب قدر سال میں دو مرتبہ ہو تی ہے ایک وہ رات ہے جس میں احکام خداوندی نازل ہوتے ہیں اور اسی رات میں قرآن شریف لوح محفوظ سے اترا ہے‘ یہ رات رمضان کے ساتھ مخصوص نہیں تمام سال میں دائر رہتی ہے لیکن جس سال قرآن پاک نازل ہوا‘ اس سال رمضان المبارک میں تھی اور اکثر رمضان المبارک ہی میں ہو تی ہے‘ اور دوسری شب قدر وہ ہے جس میں روحانیت کا ایک خاص انتشار ہو تا ہے اور ملائکہ بکثرت زمین پر اترتے ہیں‘ اور شیاطین دور رہتے ہین‘ دعائیں اور عبادتیں قبول ہوتی ہیں‘ یہ ہر رمضان میں ہو تی ہے اور اخیر عشرہ کی وتر راتوں میں ہو تی ہے اور بد لتی رہتی ہے‘ بہر حال شب قدر ایک ہو یادو‘ ہر شخص کو اپنی ہمت و وسعت کے موافق تمام سال اس کی تلاش میں سعی کرنا چاہیے‘ نہ ہو سکے تو رمضان بھر جستجو چاہیے‘ اگر یہ بھی مشکل ہو تو عشرہ اخیر ہ کو غنیمت سمجھنا چاہیے‘ اتنا بھی نہ ہو سکے تو عشرہ اخیرہ کی طاق راتوں کو ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہیے اور اگر خدا نخواستہ یہ بھی نہ ہو سکے‘ تو ستائیسویں شب کو تو بہر حال غنیمت بار وہ سمجھنا ہی چاہیے کہ اگر تائید ایزوی شامل حال ہے اور کسی خوش نصیب کو میسر ہو جائے تو پھر تمام دنیا کی نعمتیں اور راحتیں اس کے مقابلہ میں ہیچ ہیں لیکن اگر میسر نہ بھی ہو تب بھی اجر سے خالی نہیں‘ با لخصوص مغرب عشاء کی نماز جماعت سے مسجد میں ادا کرنے کا اہتمام تو ہر شخص کو تمام سال بہت ہی ضروری ہو نا چاہیے کہ اگر خوش قسمتی سے شب قدر کی رات میں یہ دو نمازیں جماعت سے میسر ہو جائیں تو کس قدر با جماعت نمازوں کا ثواب ملے‘ اللہ کا کس قدر بڑا انعام ہے کہ کسی دینی کام میں اگر کوشش کی جائے تو کامیابی نہ ہونے کی صورت میں بھی اس کوشش کا اجر ضرور ملتا ہے لیکن اس کے باوجود کتنے ہمت والے ہیں جو دین کے درپے ہیں‘ دین کے لئے مرتے ہیں کوششیں کرتے ہیں اور اس کے بالمقابل اغراض دُنیویہ میں کوشش کے بعد اگر نتیجہ مرتب نہ ہو تو وہ کوشش بے کار اور ضائع‘ لیکن اس پر بھی کتنے لوگ ہیں کہ دنیوی اغراض اور بے کار ولغو امور کے حاصل کرنے کیلئے جان و مال دونوں کو برباد کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں