دھرنا۔۔۔ حالات تصادم کی خبر دے رہے ہیں۔۔؟

ساون اور بھادوں کلینڈر کے دو ماہ ایسے ہیں کہ ایک دن دو تین بار رنگ بدلتے ہیں ایسے ہی پاکستان کی سیاست اور سیاسی ماحول کے بارے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کچھ عرصہ سے ساون اور بھادوں کے آسیب کا ایہ بڑا گہرا دکھائی دیتا ہے اور کوئی عامل دور دور تک دکھائی نہیں دیتا جو اس آسیب سے نجات دے سکے‘اس وقت سیاسی میدان میں مولانا فضل الرحمن ایک ایسے سیاستدان کا روپ دھار چکے ہیں جس کی زد میں حکمران پارٹی کے سر براہ عمران خان ہی نہیں ماضی کی دونوں بڑی پارٹیاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) لیگ بھی بھیگی بلی بنی ہوئی ہے اور مولانا فضل الرحمن کے بیانات ساون بھادوں کی بارش جیسا ہے‘ اب تو لاشوں کی سیاست کی باتیں اس شدت اور تندو تیز لہجہ میں کی جا رہی ہیں کہ جمعیت علماء اسلام کے رہنما حافظ حسین احمد کہہ رہے ہیں کہ لوگ سانحہ ماڈل ٹاؤن سانحہ کراچی بھول جائیں گے اور مولانا فضل الرحمان کہہ رہے ہیں کہ اب ہمیں اس طرف دھکیل دیا گیا کہ مرے گے بھی اور مارے گے بھی کے نعرے بلند ہو رہے ہیں‘اسلام آباد دھرنا سیاست کا مرکز و محور ہے مولانا فضل الرحمان اپنے آزادی مارچ کا آغاز وزیراعظم عمران خان سے استعفے لینے اور نئے انتخابات کے انعقاد کے نعرہ کے ساتھ میدان میں اترے وہ بد ستور اپنے موقف میں کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں ہیں اور نہ حکمراں پارٹی تحریک انصاف کے موقف میں کوئی لچک دکھائی حالات تلخ سے تلخ تر ہو رہے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمان نے اب اپنے پلان کے دوسرے حصہ یعنی پورے ملک میں ٹریفک کا پہیہ جام کرنے کا اعلان کر دیا ہے‘ اس پر عمل درآمد عید میلاد النبی ؐ کے بعد شروع کیا جائے گا گویا اب اسلام آباد کا دھرنا احتجاجی مظاہروں اور احتجاجی ریلیوں کی شکل میں پورے ملک خصوصی طور پر پنجاب میں تبدیل ہو جائیگا اور مولانا فضل الرحمن پنجاب کو فتح کرنے کیلئے پنجاب پر یلغار کریں اپوزیشن اور حکمران پارٹی تحریک انصاف کی طرف جو کمیٹیاں تشکیل دی گئیں وہ ناکام ہو چکی ہے یعنی رہبر کمیٹی اور مذاکراتی کمیٹی کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے میں ناکام ہے سوال پیدا ہو تا ہے کہ جو تنازعہ پیدا ہو چکا ہے اس کا حل کیا ہے؟ کیا اس تنازعہ کے نتیجہ میں پورے ملک میں انتشار و خلفشار کی کیفیت تو پیدا نہیں ہو جائے گی جس کے قوی امکانات ہیں جب تک اسلام آباد کا دھرنا پر امن رہے گا یہ دھرنا نہیں ایک دریا ہے اور اس دریا میں طغیانی اور سیلابی کیفیت اس وقت پیدا ہو گی جب مولانا فضل الرحمن اپنے پلان کے دوسرے حصہ پر عمل کرتے ہوئے دھرنا کو مارچ کرنے کا حکم نہیں دیتے اور دھرنا جب مارچ کرے گا تو حکومت اپنی رٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاست طاقت کا مظاہرہ ضرور کرے گی اور حالات بد سے بد تر ہو تے جائیں اور پورے ملک میں وہی نقشہ دکھائی دے گا جس کے نتیجہ میں مارشل نافذ ہو رہے ہیں‘مولانا فضل الرحمان نے عمران خان سے استعفے حاصل کرنے کیلئے آزادی مارچ کے نام پر اپنی راہوں پر چل پڑے ہیں جس کا منطقی نتیجہ ہی ہے خواجہ آصف جیسا سیاست قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں مارشل لاء کی آمد آد کا اشارہ دے چکے اور جہاں تک کہہ چکے ہیں کہ حکمران بے خبر ہیں یہ اس بنیدار ہوں گے جب پوری چھت ان کے سر پر گرے گی‘گو پاکستان میں جب بھی مارشل لا ء نافذ ہوا وہ سیاست دانوں کی نا اہلی اور عوام کے مفادات کی بات کرنے کی بجائے اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کی جنگ کے نتیجہ میں جمہوریت کا بستر گول کر دیا اس وقت گویا دھرنا اسلام آباد تک محدود ہے اور صاف دکھائی دیتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے درمیان جو جنگ ہو رہی ہے اور وقت کے ساتھ اس میں شدت آ رہی ہے مولانا فضل الرحمن کس قسم کی آزادی چاہتے ہیں گزشتہ ایک ہفتہ سے ان کے دھمکی آمیز اور منشورانہ بیانات اس امر کی غمازی کر رہے ہیں کہ اگر انہیں اپنا ہدف حاصل کر نے کیلئے تشدد کا راستہ بھی اختیار کرنا پڑا تو وہ باز نہیں آئیں گے ان کے لاٹھی بردار دستے اب بھی اسلام آباد میں موجود ہیں اور ریہرسل کرتے دکھائی دیتے ہیں‘ صورت حال یوں دکھائی دیتی ہے کہ حکمران تحریک انصاف جو 126دنوں کا طویل ترین دھرنا دیا تھا اور مولانا فضل الرحمان کے دھرنا کو 12روز سے زیادہ ہو چکے ہیں‘ وہ تمام قاعدے ضابطے اصول اور قانون جو انہیں ردی کی ٹوکری دکھائی دیتے تھے‘ اب ان کیلئے کسی صفحے کی طرح مقدس اور محترم ہیں اور انہوں نے جمہوریت کی دیوی کے حسن کو نکھار ا تھا‘ وہ دھرنا جمہوریت کیلئے تھا‘ اب جو دھرنا مولانا فضل الرحمان دے رہے ہیں یہ دھرنا جمہوریت کی دیوی کے لئے انتہائی خطرناک ہے اس وقت بھی عوام الناس عذاب میں مبتلا تھے اور اب بھی ہیں اس وقت بھی نفرت کی اونچی دیوار یں تعمیر ہو رہی تھیں اور اب بھی تعمیر ہو رہی ہیں‘بد قسمتی سے عوام آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ کون سا دھرنا اور احتجاج جمہوری آئینی اور قانونی ہے اور کون سا غیر آئینی اس وقت کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے مولانا فضل الرحمان جو یومیہ خطاب کرتے اور ہر خطاب میں عوام کو اضطراب میں مبتلا کر تے ہیں‘مولانا کا آزادی مارچ جو کراچی سے شروع ہوا تھا اب اسلام آباد میں پڑاؤ کئے ہوئے اور مولانا فضل الرحمان نے کہہ دیا ہے کہ ہمیں بند گلی میں داخل کر دیا گیا‘ عید میلاد النبی ؐ کے بعد اس بند گلی سے کیسے نکلتے ہیں ان کے عزائم تو اس امر کی غمازی کرتے ہیں اور رہبر کمیٹی کے سر برا ہ اکرم درانی نے کہہ دیا ہے کہ وہ اب نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور حکمرانوں کو ہر حال میں گھر جانا ہو گا اور عمران خان سے استعفے ہمارا بنیادی مطالبہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا لہذا تصادم اور ٹکراؤ کے سیاہ بادل چھائے دکھائی دیتے ہیں اور دونوں پارٹیاں اپنے آخری معرکہ کی تیاری مکمل کر چکے ہیں ان منطقی نتیجہ کہیں وہ نہیں ہو گا جس کی صدا عوام کو سنائی دیتی ہے اور آخری بات مولانا کیلئے نہیں دس اور پارٹیاں بھی ان کی ہم آواز ہیں عوام ابھی تماشبین ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں